بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت نفاس كےایام میں روزے نہیں رکھ سکتی


سوال

اگر عورت کا  بچہ جننےکے بعد بھی بیماری جاری رہے، تو کیا وہ روزہ رکھ سکتی ہے؟

جواب

بچے کی ولادت کے بعد آنے والا خون نفاس کہلاتا ہے ، اور عورت کے  لیے نفاس کے ایام میں نماز  پڑھنا اور روزہ رکھنا شرعاً جائز نہیں ، البتہ ان ایام کے روزوں کی قضا  لازم ہے، نماز کی قضا نہیں ۔

نفاس کتنے دن تک شمار ہوگا ، اور نماز ،روزے کی کب قضا  لازم ہے؟ اس سلسلہ میں تفصیل درج ذیل ہے:

اگر کسی  خاتون کے  ہاں پہلی ولادت ہو  اور نفاس کا  خون چالیس دن مکمل ہونے پر بھی بند نہ ہوا تو اس صورت میں چالیس دن تو نفاس کے شمار ہوں گے اور اس سے زائد ایام استحاضہ کی شمار ہوں گے، غسل کے بعد ان ایام کی ہر نماز کے وقت کے لیے استنجا  کرنے کے بعد با وضو ہو کر نماز ادا کرنا لازم ہوگا، اور استحاضہ کے دوران عورت روزہ بھی رکھے گی۔

اور اگرنفاس کا خون چالیس دن سے بڑھ جائے اور  اس عورت کے ہاں پہلے بھی بچے کی ولادت ہوئی ہے تو اس صورت میں اس سے پہلے بچہ کی پیدائش کے موقع پر  جتنے دن خون آنے  کی عادت تھی  اتنے دن کا خون نفاس شمار ہوگا اور باقی بیماری کا خون شمار ہوگا۔ان باقی دنوں میں چھوٹی ہوئی نمازوں  کی بھی قضا کرنی ہوگی، اور روزے جو چھوٹ گئے ہیں وہ بھی رکھنے  ہوں گے۔

اور اگر خون چالیس دن پر بند ہوجاتا ہے تو وہ مکمل ایام نفاس کے شمار ہوں گے، ان دنوں میں روزہ نہیں رکھے گی اور نماز بھی ادا نہیں کرے گی، تاہم روزوں کی بعد میں قضا کرنی ہوگی۔

تنویرالابصارمع الدرالمختارمیں ہے:

"(والنفاس) لغة: ولادة المرأة. وشرعا (دم) فلو لم تره هل تكون نفساء؟ المعتمد نعم (يخرج) من رحمها (عقب ولد) أو أكثره .... وحكمه كالحيض في كل شيء إلا في سبعة ذكرتها في الخزائن وشرحي للملتقى: منها أنه (لا حد لأقله) ...(وأكثره أربعون يوما) كذا رواه الترمذي وغيره ولأن أكثره أربعة أمثال أكثر الحيض.(والزائد) على أكثره (استحاضة) لو مبتدأة؛ أما المعتادة فترد لعادتها وكذا الحيض، فإن انقطع على أكثرهما أو قبله فالكل نفاس."

(کتاب الطھارۃ، باب الحیض، ج: 1، ص: 301،300،299، ط: ایچ ایم سعید)

بدائع الصنائع میں ہے: 

"(وأما) حكم الحيض والنفاس فمنع جواز الصلاة، والصوم، ...لما ذكرنا في الجنب إلا أن الجنب يجوز له أداء الصوم مع الجنابة ولا يجوز للحائض والنفساء؛ لأن الحيض والنفاس أغلظ من الحدث، أو بأن النص غير معقول المعنى، وهو قوله صلى الله عليه وسلم "تقعد إحداهن شطر عمرها لا تصوم ولا تصلي"  أو ثبت معلولا بدفع الحرج؛ لأن درور الدم يضعفهن مع أنهن خلقن ضعيفات في الجبلة فلو كلفن بالصوم لا يقدرن على القيام به إلا بحرج... وهن لا يقضين الصلاة، لأن الحيض يتكرر في كل شهر ثلاثة أيام إلى العشرة فيجتمع عليها صلوات كثيرة فتحرج في قضائها ولا حرج في قضاء صيام ثلاثة أيام أو عشرة أيام في السنة."

(کتاب الطھارۃ، فصل النفاس واحکامه، ج: 1، ص: 44، ط: ایچ ایم سعید)

فتاوی عالمگیریہ میں ہے:

"[الفصل الرابع في أحكام الحيض والنفاس والاستحاضة]لا يثبت حكم كل منها إلا بخروج الدم وظهوره وهذا هو ظاهر مذهب أصحابنا وعليه عامة مشايخنا وعليه الفتوى. هكذا في المحيط.(الأحكام التي يشترك فيها الحيض والنفاس ثمانية)(منها) أن يسقط عن الحائض والنفساء الصلاة فلا تقضي. هكذا في الكفاية... إذا حاضت في الوقت أو نفست سقط فرضه بقي من الوقت ما يمكن أن تصلي فيه أو لا. هكذا في الذخيرة...(ومنها) أن يحرم عليهما الصوم فتقضيانه هكذا في الكفاية..

(کتاب الطھارۃ، الباب الثالث فی الدماء المختصة بالنساء، الفصل الثانی فی النفاس، الفصل الرابع فی احکام الحیض والنفاس والاستحاضة، ج: 1، ص: 42، ط: قدیمی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709100844

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں