
مندرجہ ذیل چند سوالوں کے جوابات درکار ہیں۔
1۔کیا عورت کا محرم کے بغیر سفر کرنا جائز ہے؟کیا عورت کا پائلٹ بننا جائز ہے؟
3۔ اگربغیر محرم کے سفر نہیں کرسکتی تو کیا حدیث ضعیف ہے کہ "نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ وقت آئے گا کہ عورتیں عراق سے مکہ تک تنہا سفر کریں گی اور کسی سے خوف نہیں کھائیں گی..."؟
4۔ کیا عورت پڑھائی وغیرہ کے لیے کسی دوسرے ملک میں محرم کے بغیر رہائش اختیار کرسکتی ہے؟
1۔واضح رہے کہ بغیر محرم کے بالغ عورت کے لیے تین دن یا اس سے زیادہ مسافت کا سفر کرنا جائز نہیں ہے، خواہ سفر کسی دینی غرض سے کیا جائے یا سیر وتفریح کے لیے، شریعت مطہرہ نے اسے حرام قرار دیا ہے۔
پائلٹ بننے کے بعد عمومًا شرعی مسافت کے بقدر سفر کرنا ہوتا ہے اور محرم کا ساتھ ہونا اس میں ناممکن سا معلوم ہوتا ہے۔دوسری طرف ایسی شرعی ضرورت بھی نہیں ہے کہ عورت کا پائلٹ بننا ضروری ہو اس لیے کسی عورت کا پائلٹ کا پیشہ اپنانا جائز نہیں ہے ۔
2۔ حدیث شریف میں صحابی (رضی اللہ عنہ) کے راستوں کی بد امنی کی شکایت کرنے پر آپﷺ نے امن کی بشارت اور خوش خبری دیتے ہوئے بطورِ تمثیل فرمایا: اگر تمہاری زندگی لمبی ہو، تو تم دیکھو گے کہ ہودج میں ایک عورت حیرہ کے مقام سے سفر کرے گی اور مکہ پہنچ کر کعبہ کا طواف کرے گی اور اسے اللہ تعالی کے سوا کسی اور کا خوف نہیں ہوگا، لہذا اس سے عورت کے لیے بغیر محرم کے سفر کرنے کا جواز ثابت نہیں ہوتا، بل کہ بغیر محرم کے سفر کرنے کا عدمِ جواز دوسری احادیث سے ثابت ہے۔
3۔اگر کوئی عورت گھر سے محرم کے ساتھ نکل کر شرعی مسافت طے کر کےکسی ایسے ہاسٹل یا مدرسہ میں اقامت اختیار کرے ، جہاں شرعی اصولوں کی مکمل رعایت موجود ہو، بے حیائی ، بےپردگی اور غیر اخلاقی ماحول کا خدشہ نہ ہو ، اور عورت کی عفت وعصمت اور پاکدامنی کا لحاظ پوری طرح ممکن ہو تو ایسے ہاسٹل یا مدرسہ میں عورت کے لیے اقامت اختیار کرنے کی گنجائش ہے، کیونکہ حدیث کی رو سے محرم کا سفر میں ہونا شرط ہے ،اقامت میں نہیں ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے:
"﴿ وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَى عَوْرَاتِ النِّسَاءِ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِنْ زِينَتِهِنَّ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾."[ سورہ نور:آیت:31]
{وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى}[سورہ أحزاب : آیت: 33]
{يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا} ."[الأحزاب: آیت:58]
صحیح بخاری میں ہے:
"حدثني محمد بن الحكم، أخبرنا النضر، أخبرنا إسرائيل، أخبرنا سعد الطائي، أخبرنا محل بن خليفة، عن عدي بن حاتم، قال: بينا أنا عند النبي صلى الله عليه وسلم إذ أتاه رجل فشكا إليه الفاقة، ثم أتاه آخر فشكا إليه قطع السبيل، فقال: «يا عدي، هل رأيت الحيرة؟» قلت: لم أرها، وقد أنبئت عنها، قال «فإن طالت بك حياة، لترين الظعينة ترتحل من الحيرة، حتى تطوف بالكعبة لا تخاف أحدا إلا الله، - قلت فيما بيني وبين نفسي فأين دعار طيئ الذين قد سعروا البلاد -، ولئن طالت بك حياة لتفتحن كنوز كسرى»، قلت: كسرى بن هرمز؟ قال: " كسرى بن هرمز، ولئن طالت بك حياة، لترين الرجل يخرج ملء كفه من ذهب أو فضة، يطلب من يقبله منه فلا يجد أحدا يقبله منه، وليلقين الله أحدكم يوم يلقاه، وليس بينه وبينه ترجمان يترجم له، فليقولن له: ألم أبعث إليك رسولا فيبلغك؟ فيقول: بلى، فيقول: ألم أعطك مالا وأفضل عليك؟ فيقول: بلى، فينظر عن يمينه فلا يرى إلا جهنم، وينظر عن يساره فلا يرى إلا جهنم " قال عدي: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم، يقول: «اتقوا النار ولو بشقة تمرة فمن لم يجد شقة تمرة فبكلمة طيبة» قال عدي: فرأيت الظعينة ترتحل من الحيرة حتى تطوف بالكعبة لا تخاف إلا الله، وكنت فيمن افتتح كنوز كسرى بن هرمز ولئن طالت بكم حياة، لترون ما قال النبي أبو القاسم: صلى الله عليه وسلم يخرج ملء كفه حدثني عبد الله بن محمد، حدثنا أبو عاصم، أخبرنا سعيد بن بشر، حدثنا أبو مجاهد، حدثنا محل بن خليفة، سمعت عديا كنت عند النبي صلى الله عليه وسلم."
(كتاب المناقب، باب علامات النبوة في الإسلام، ج:4، ص:194، ط:دار طوق النجاة)
التوضیح لشرح جامع البخاری میں ہے:
"أحدها: فيه: -كما قال المهلب- أن الرئيس قد يتشجع في بعض الأوقات إذا وجد في نفسه قوة، وإن كان اللازم له أن يحوط أمر المسلمين بحياطة نفسه، لكنه لما رأى الفزع المستولي، علم أنه لم يكاد مما أخبره الله به من العصمة، وأنه لا بد أن يتم أمره حتى تمر المرأة من الحيرة حتى تطوف بالكعبة لا تخاف إلا الله، فلذلك أمن فزعهم باستبراء الصحراء، وكذلك كل رئيس إذا استولى على قومه الفزع ووجد من نفسه قوة فينبغي له أن يذهب عنهم الفزع باستبرائه بنفسه."
(كتاب الجهاد والسير، باب الشجاعة في الحرب والجبن، ج:17، ص:427، ط:دار النوادر)
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"3109 - (عنه) أي عن ابن مسعود (عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: المرأة عورة فإذا خرجت) أي من خدرها (استشرفها الشيطان) أي زينها في نظر الرجال وقيل: أي نظر إليها ليغويها ويغوي بها."
(كتاب النكاح، باب النظر الي المخطوبة، ج:6، ص:198_199، ط:مكتبة امدادية)
فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے:
"ولا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوما أو أكثر."
(كتاب الصلاة، الباب الخامس عشر في صلاة المسافر، ج:1، ص:139، ط:دار الفکر)
وفيه ايضاً:
"(ومنها: المحرم للمرأة) شابةً كانت أو عجوزاً إذا كانت بينها وبين مكة مسيرة ثلاثة أيام هكذا في المحيط، وإن كان أقل من ذلك حجت بغير محرم كذا في البدائع والمحرم الزوج، ومن لا يجوز مناكحتها على التأبيد بقرابة أو رضاع أو مصاهرة كذا في الخلاصة ويشترط أن يكون مأمونا عاقلا بالغا حرا كان أو عبدا كافرا كان أو مسلما هكذا في فتاوى قاضي خان."
( كتاب المناسك، الباب الأول في تفسير الحج وفرضيته ووقته وشرائطه وأركانه، ج:1، ص: 218، ط: دار الفكر)
فتاوی شامی میں ہے:
"(و) لها (السفر والخروج من بيت زوجها للحاجة...فلا تخرج إلا لحق لها أو عليها."
(كتاب النكاح، باب المهر، مطلب في منع الزوجة نفسها لقبض المهر، ج:3، ص:145، ط:سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144501102467
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن