بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اولاد نہ ہونے کی بنیاد پر بیوی کا طلاق کا مطالبہ کرنا


سوال

میری چچا زاد بہن کی شادی ہوئی،اور پندرہ سال گزر گئے،اس دوران ان کی کوئی اولاد نہیں ہوئی،ڈاکٹروں نے کہا کہ شوہر اولاد پیدا کرنے کے قابل نہیں ہے،یعنی عیب اور نقص شوہر میں ہے،اور شوہر اپنی بیوی پر ظلم بھی کرتا ہے،اور بد اخلاقی سے بھی پیش آتا ہے،اس لیے بیوی اپنے شوہر کو چھوڑ کر اپنے والدین کے ہاں آگئی ہے۔اب بیوی اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرتی ہےکہ مجھے طلاق دو،لیکن شوہر کہتا ہے کہ میں اس شرط پر طلاق دونگا کہ جب آپ کا دوسرانکاح ہوگا،اس میں جو مہر مقرر ہوگا،وہ مجھے دینا ہوگا۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا اس بنیاد پر کہ عیب اور نقص شوہر میں ہے،عورت کا اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرنا درست ہے؟اور شوہر کو طلاق دینی چاہیے یا نہیں؟نیز شوہر کا دوسرے نکاح میں مقرر شدہ مہر کے لینے کے شرط پر طلاق دینا شرعا جائز ہے یا نہیں؟ 

جواب

واضح رہے کہ اولاد دینا یا نا دینا اللہ تعالی کی مشیت پر موقوف ہے،اس میں میاں بیوی کا کوئی عمل دخل نہیں ہے،اور نہ ہی ان کا کوئی اختیار ہے،بلکہ میاں بیوی کا تعلق محض ظاہری سبب کا درجہ رکھتا ہے۔

لہذا صورت مسئولہ میں شوہر اگربیوی کے تمام حقوق ادا کرتا ہے،تو صرف اولاد نہ ہونے کی بنیاد پر بیوی کا اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرنا نہیں درست نہیں،البتہ اگر اس کے علاوہ دیگر معاملات ہوں،شوہر زیادتی کرتا ہو،حقوق ادا نہ کرتا ہو،اوربڑوں کی مصالحت کے باوجود معاملات حل نہ ہورہے ہوں،تو پھر طلاق کا مطالبہ درست ہوگا۔

نیز طلاق کے لیے یہ شرط رکھنا کہ دوسرے شوہر سے ملنے والا مہر اسے دیا جاۓ گا،درست نہیں،طلاق دیتے وقت ہی شوہر اپنے مہر کے عوض طلاق دینا چاہے ،تو دے سکتا ہے،زائد کا مطالبہ درست عمل نہیں۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"إن طلقها على مال فقبلت وقع الطلاق ولزمها المال وكان الطلاق بائنا كذا في الهداية".

(کتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع وما في حكمه، الفصل الثالث في الطلاق على المال، ج:1، ص:495، ط:دار الفکر بیروت)

بدائع الصنائع میں ہے:

"ولو قال لها: أنت طالق بألف درهم فقبلت طلقت، وعليها ألف؛ لأن حرف الباء حرف إلصاق فيقتضي إلصاق البدل بالمبدل، وكذلك لو قال: أنت طالق على ألف درهم؛ لأن على كلمة شرط".

(کتاب الطلاق، فصل فی الطلاق علی مال، ج:3، ص:152، ط:دار الكتب العلمية)

مجمع الانہر میں ہے:

"(و) كره (أخذ أكثر مما أعطاها) من المهر (إن نشزت) المرأة فلا يكره أخذ ما قبضته منه هذا على رواية الأصل وعلى رواية الجامع لم يكره أن يأخذ أكثر مما أعطاها لكن اللائق بحال المسلم أن يأخذ ناقصا من المهر حتى لا يخلو الوطء عن المال."

(كتاب الوقف، باب الخلع، ج:1، ص:730، ط:دار إحياء التراث العربي)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144711102213

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں