
میں آن لائن کام کرتا ہوں۔ ہم کلائنٹ کو ان کی ٹارگٹ آڈیئنس کا ڈیٹا تلاش کر کے دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہمارا کلائنٹ ہمیں یہ ضروریات بھیجتا ہے کہ اسے امریکہ (US) کی آئی ٹی کمپنیوں کا ڈیٹا چاہیے، اور پھر ان کمپنیوں میں مارکیٹنگ کے شعبے میں کام کرنے والے افراد کی ای میل، فون نمبر، لنکڈ اِن پروفائل، فیس بک لنک وغیرہ، نیز کمپنی کی ویب سائٹ، ایڈریس، لوکیشن اور فون نمبر وغیرہ درکار ہوتے ہیں۔
اس عمل میں پہلے کلائنٹ کے ساتھ ضروریات طے کی جاتی ہیں، پھر ریٹ طے کر کے کام مکمل کر کے اسے فراہم کر دیا جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کا کام کرنا جائز ہے؟
صورتِ مسئولہ میں مطلوبہ ڈیٹا اگر عوامی ذرائع، مثلاً: کمپنی کی ویب سائٹ، لنکڈ اِن، فیس بک پیجز، یا دیگر اوپن بزنس ڈائریکٹریز سے حاصل کیا جاتا ہے، جہاں یہ معلومات خود متعلقہ کمپنیوں یا افراد نے عوامی استفادے کے لیے فراہم کی ہوں، تو ایسی معلومات کو جمع کر کے کلائنٹ کو فراہم کرنا جائز ہے، اور اس کام کے عوض اجرت لینا بھی جائز ہے، بشرطیکہ کام اور اس کی اجرت معلوم و متعین ہو، اور اس کام میں کسی قسم کی جعل سازی، جھوٹ یا دھوکا دہی شامل نہ ہو، اور یہ معلومات کسی ناجائز، غیر اخلاقی و غیر قانونی مقاصد کے لیے استعمال نہ کی جا رہی ہوں۔
البتہ اگر یہ معلومات ذاتی یا پرائیویٹ ذرائع سے حاصل کی جا رہی ہوں، یا ان کے مالکان نے انہیں عوامی طور پر ظاہر نہ کیا ہو، تو ایسی معلومات کو حاصل کرنا یا دوسروں کو فراہم کرنا تجسس اور غیر مجاز مداخلت کے زمرے میں آتا ہے، جو کہ شرعاً ناجائز اور گناہ ہے۔
اسی طرح اگر کلائنٹ ان معلومات کو کسی حرام یا نقصان دہ مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہو، اور یہ بات معلوم ہو، تو پھر اس کے لیے ایسا ڈیٹا فراہم کرنا گناہ میں تعاون کے مترادف ہوگا۔
غرض اگر یہ کام صرف عوامی ذرائع سے حاصل کردہ معلومات تک محدود ہو اور کاروباری یا دیگر جائز مقاصد کے لیے حاصل کیا جا رہا ہو، تو اس کی گنجائش ہوگی۔ بصورتِ دیگر ناجائز اور قابلِ اجتناب ہے۔
تفسیر ابنِ کثیر میں ہے:
"قوله تعالى:{وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ}يأمر تعالى عباده المؤمنين بالمعاونة على فعل الخيرات وهو البر، وترك المنكرات وهو التقوى، وينهاهم عن التناصر على الباطل والتعاون على المآثم والمحارم، قال ابن جرير: الإثم ترك ما أمر الله بفعله والعدوان مجاوزة ما حد الله في دينكم ومجاوزة ما فرض الله عليكم في أنفسكم وفي غيركم."
(سورۃ المائدہ، ج:3، ص:301، ط:دار ابن الجوزي السعودية)
مرقاة المفاتيح شرح مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول صلى الله عليه وسلم: «إياكم والظن؛ فإن الظن أكذب الحديث، ولا تحسسوا، ولا تجسسوا ولا تناجشوا ولا تحاسدوا، ولا تباغضوا، ولا تدابروا، وكونوا عباد الله إخوانا». وفي رواية: "ولا تنافسوا". متفق عليه.
(ولا تحسسوا، ولا تجسسوا) : بحاء مهملة في الأول وبالجيم في الثاني فقال ابن الملك: أي لا تطلبوا التطلع على خير أحد ولا على شره، وكلاهما منهي عنه لأنه لو اطلعت على خير أحد ربما يحصل لك حسد بأن لا يكون ذلك الخير فيك، ولو اطلعت على شره تعيبه وتفضحه، وقد ورد: طوبى لمن شغله عيبه عن عيوب الناس."
(کتاب الآداب، باب ما ينهى عنه من التهاجر والتقاطع واتباع العورات، ج:8، ص:3148، ط:دار الفكر بيروت)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"وأما شرائط الصحة فمنها: رضا المتعاقدين. ومنها أن يكون المعقود عليه وهو المنفعة معلوما علما يمنع المنازعة فإن كان مجهولا جهالة مفضية إلى المنازعة يمنع صحة العقد وإلا فلا... ومنها أن تكون الأجرة معلومة.... (وأما بيان) (أنواعها) فنقول إنها نوعان: نوع يرد على منافع الأعيان كاستئجار الدور والأراضي والدواب والثياب وما أشبه ذلك ونوع يرد على العمل كاستئجار المحترفين للأعمال كالقصارة والخياطة والكتابة وما أشبه ذلك، كذا في المحيط."
(کتاب الإجارة، الباب الأول تفسير الإجارة وركنها وألفاظها وشرائطها، ج:4، ص411، ط:المكتبة الرشيدية كوئته)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"والأجرة إنما تكون في مقابلة العمل."
(كتاب النكاح، باب المهر، ج:3، ص:156، ط:ايج ايم سعيد)
وفيه أيضاً:
"وما كان سببا لمحظور فهو محظور."
(كتاب الحظر والإباحة، ج:6، ص:350، ط:ايج ايم سعيد)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144705100467
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن