
ریلوے ایک عوامی ادارہ ہے، جو حکومت کے تحت چلتا ہے اور عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے قائم و برقرار رکھا جاتا ہے، یعنی یہ کوئی نجی (پرائیویٹ) ادارہ نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ملکیت اور خدمت کے لیے بنایا گیا نظام ہے۔اس کے باوجود اکثر درج ذیل مسائل دیکھنے میں آتے ہیں:
ٹرینوں کا گھنٹوں بلکہ بعض اوقات کئی کئی گھنٹے تاخیر سے آنا، جس کی وجہ سے مسافروں کو شدید ذہنی اذیت، مالی نقصان اور وقت کا ضیاع برداشت کرنا پڑتا ہے۔
بنیادی سہولیات کا فقدان، مثلاً صفائی کا ناقص نظام، پانی اور بیت الخلاء کی خراب حالت، اور خصوصاً اے سی کوچز میں بھی مطلوبہ سہولت فراہم نہ کرنا۔
بعض ریلوے ملازمین کی طرف سے بدعنوانی، مثلاً بغیر ٹکٹ مسافروں کو رشوت لے کر اے سی ڈبوں میں سوار کرنا، جس کی وجہ سے نہ صرف قانونی مسافروں کے حقوق متاثر ہوتے ہیں بلکہ کوچز میں غیر معمولی رش ہو جاتا ہے اور بعض لوگ بیت الخلاء یا گزرگاہوں میں بیٹھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
بین الاقوامی مثال (تقابلی نکتہ): دنیا کے کئی ممالک میں مسافروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے واضح قوانین موجود ہیں۔
برطانیہ اور یورپ میں ٹرین تاخیر کی صورت میں 25 فیصد سے 100 فیصد تک کرایہ واپس کیا جاتا ہے۔
وہاں ریلوے کمپنیاں اربوں روپے کے برابر رقم بطور معاوضہ مسافروں کو ادا کرتی ہیں۔ اس کے برعکس، ہمارے ہاں کوئی مؤثر نظام موجود نہیں جس سے عام مسافر کو اس کے نقصان کا ازالہ مل سکے۔
اہم انسانی و عملی مسئلہ: یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایک غریب یا تنخواہ دار شخص، جو کبھی کبھار ریلوے میں سفر کرتا ہے، اس کے پاس نہ وقت ہوتا ہے اور نہ وسائل کہ وہ عدالتوں کے چکر لگا کر اپنے حق کا حصول کر سکے، چنانچہ وہ اپنی مجبوری اور اذیت کی بنا پر یہ سوچتا ہے کہ اگر وہ کبھی کبھار بغیر ٹکٹ سفر کر لے تاکہ اپنے نقصان کا کچھ ازالہ کر سکے، تو کیا یہ اس کے لیے جائز ہوگا یا نہیں؟
شرعی سوالات: مندرجہ بالا حالات کے پیشِ نظر ہم درج ذیل سوالات کے جوابات قرآن و سنت کی روشنی میں معلوم کرنا چاہتے ہیں:
1-اگر کوئی عوامی ادارہ (جو ٹیکس کے پیسوں سے چلتا ہو) مکمل کرایہ وصول کرنے کے باوجود وعدہ کے مطابق سہولیات اور بروقت سروس فراہم نہ کرے، تو کیا شرعاً اس ادارے پر لازم ہے کہ وہ مسافروں کو تاخیر یا ناقص سہولت کے عوض معاوضہ ادا کرے؟
2-اگر ایسا ادارہ معاوضہ ادا نہ کرے اور ایک عام آدمی کے لیے قانونی راستہ اختیار کرنا مشکل ہو، تو: کیا وہ اپنے نقصان کے ازالے کی نیت سے کبھی کبھار بغیر ٹکٹ سفر کر سکتا ہے؟
3-کیا اس صورت میں وہ گناہگار ہوگا یا نہیں؟
4-اگر کوئی ملازم رشوت لے کر بغیر ٹکٹ افراد کو اے سی کوچ میں سوار کرتا ہے، تو اس ملازم کا عمل شرعاً کیسا ہے؟
5-ایسے افراد کا اس کوچ میں سفر کرنا کیا حکم رکھتا ہے؟
6-اس کا اثر ان مسافروں کے حقوق پر کیا ہوگا جنہوں نے باقاعدہ ٹکٹ خریدا ہے؟
7-کیا اس قسم کی بدانتظامی اور حقوق کی پامالی کی صورت میں عوام کے لیے کوئی جائز اور شرعی طریقہ (مثلاً اجتماعی شکایت، قانونی چارہ جوئی یا پرامن احتجاج) اختیار کرنا درست ہے؟
1-واضح رہے کہ اجرت(کرایہ) منفعت (سروس/سہولت) کے بدلے میں ہوتی ہے،اگر معاہدے کے مطابق پوری منفعت حاصل نہ ہو یا اس میں ایسا عیب پیدا ہو جائے جو اس کے مقصد میں خلل ڈالے، تو مستاجر (مسافر) کو حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ کرایہ میں کمی کا مطالبہ کرے یا عقد کو فسخ کرے،جیسا کہ خود ریلوے کے ادارے کے اصول و قواعد میں ہے:
If during the journey AC of the train fails then the difference of AC and Economy class will be calculated and refunded to the passenger if guard certificate (CM-109) is issued to the passenger.
ترجمہ:اگر سفر کے دوران ٹرین کا اے سی خراب ہو جائے تو اے سی اور اکانومی کلاس کے کرائے کے درمیان فرق کا حساب لگا کر مسافر کو واپس کر دیا جائے گا، بشرطیکہ گارڈ کی طرف سے مسافر کو سرٹیفکیٹ (CM-109) جاری کیا گیا ہو۔
2-3معاوضہ نہ ادا کرنے کی وجہ سے کسی کے لیے بھی اپنے نقصان کے ازالے کے لیے بغیر ٹکٹ کے سفر کرنا جائز نہیں ،کیوں کہ اگر مستاجر (مسافر) کو منفعت(سروس/سہولت)میں نقص یا کمی ہو تو اسے اختیار ہے یا اس کمی کے ساتھ سفر کرے یا اپنی معاہدہ منسوخ کرے،نیز بلا ٹکٹ کے سفر کرنا قانوناً اور شرعاً جائز نہیں ۔
4-5-6واضح رہے کہ کسی بھی ملازم کا رشوت لے کر بغیر ٹکٹ کے افراد کو اے سی کوچ میں سوار کرنا جائز نہیں،اس پر وہ گناہ گار ہوگا،اور اس پر لازم ہے کہ رشوت کے پیسے یا مالک کو واپس کرے یا بلا نیت ثواب کے صدقہ کرے اور سفر کرنے والے مسافروں سے قانون کے موافق ٹکٹ وصول کرے،نیز ایسے مسافروں کا رشوت دے کر بغیر ٹکٹ کے سفر کرنا بھی جائزنہیں،اور اگر بالفرض سفر مکمل ہوگیا ہو ،تو جتنا کرایہ بنتا ہے اس سے ٹکٹ خرید لے تاکہ کرایہ کی رقم ادا ہوجائے،بغیر ٹکٹ کے سفر کرنا بہت سارے مفاسد پر مشتمل ہے ، ساتھ ساتھ وہ مسافر جنہوں نے ٹکٹ خریدا ہے ان کے حقوق کی بھی پامالی ہوتی ہے،جو کہ شرعاً جائز نہیں،نیز غیر قانونی مسافروں کی وجہ سے ہونے والا رش ان قانونی مسافروں کی منفعت میں خلل (عیب)بھی پیدا کرتا ہے۔
7-اس صورت میں عوام پرامن احتجاج اور حکام بالا تک اپنی شکایات پہنچاسکتے ہیں۔
سنن أبی داود میں ہے:
"عن أبي سلمة، عن عبد الله بن عمرو، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي."
(کتاب الأقضیة، باب في کراهیة الرشوة،ج:3، ص:300، رقم الحدیث: 3580، ط: المکتبة العصریة)
البحرا الرائق میں ہے:
"والأجر مقابل بالمنافع ولهذا يستحق الأجر عليه وإن نقض العمل."
(كتاب الإجارة، باب ضمان الأجير، ج:8، ص:34، ط:دار الكتاب الإسلامي)
فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
"وأما حكمها فوجوب الحفظ على المودع وصيرورة المال أمانة في يده ووجوب أدائه عند طلب مالكه ، كذا في الشمني .الوديعة لا تودع ولا تعار ولا تؤاجر ولا ترهن ، وإن فعل شيئا منها ضمن ، كذا في البحر الرائق."
(کتاب الودیعة، الباب الأول في تفسير الإيداع والوديعة وركنها وشرائطها وحكمها، ج:4، ص:338، ط: رشیدیة)
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاویٰ الحامدیۃمیں ہے:
"(سئل) في رجل استأجر رحى ماء مدة معلومة بأجرة معلومة وتسلمها من مؤجرها ثم طغى الماء وزاد زيادة منعته عن التمكن من الانتفاع على الوجه المقصود بعض المدة فهل لا يلزمه الأجر عن بعض المدة المزبورة؟
(الجواب) : نعم والمسألة في الخيرية من الإجارة.
(سئل) في رجل استأجر أرض وقف من ناظره ليزرعها مدة معلومة فزرعها ثم أصاب الزرع آفة سماوية وهلك بها الزرع ولم يبق بعد هلاكه مدة يتمكن الرجل فيها من إعادة ما هلك فهل لا يلزمه أجرة تلك المدة؟
(الجواب) : لا أجر على المستأجر فيما بقي من المدة بعد هلاك الزرع إلا إذا تمكن من إعادة زرع مثله أو دونه في الضرر كما صرح بذلك في لسان الحكام والمحيط وغيرهما."
(كتاب الإجارة، ج:2، ص:99، ط:دار المعرفة)
درر الحکام فی شرح مجلۃ الأحکام میں ہے:
" إذا استأجر دارا في حي وأصيب ذلك الحي بجائحة فرقت ساكنيه لأي سبب وترك المستأجر الدار خوفا على نفسه وأهله ولم ينتفع بها لا تلزمه أجرة (الهندية) ."
(الكتاب الثاني، الباب الثالث، الفصل الثاني، ج:1، ص:547، المادة 478، ط:دار الجيل)
وفیہ اَیضاً:
"لو حدث في المأجورة عيب مخل بالمنافع المقصودة فالمستأجر بالخيار إن شاء استوفى المنفعة مع العيب وحينئذ ليس للمستأجر فسخ الإجارة لرضائه بالعيب المذكور فعليه أن يعطي الأجرة تامة ."
(الكتاب الثاني الإجارة، الباب الخامس، الفصل الثالث في مسائل خيار العيب، ج:1، ص:593، المادة 516، ط:دار الجيل)
البنایہ میں ہے:
"ومن باع عبدا على أنه خباز أو كاتب وكان بخلافه فالمشتري بالخيار، إن شاء أخذه بجميع الثمن، وإن شاء ترك.
(ومن باع عبدا على أنه خباز أو كاتب) ش: أي عبد حرفته الخبز أو الكتابة م: (وكان بخلافه) ش: أي ظهر أنه ليس بخباز أو ليس بكاتب م: (فالمشتري بالخيار، إن شاء أخذه بجميع الثمن وإن شاء ترك)."
(كتاب البيوع، باب خيار الشرط، ج:8، ص:79، ط:دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711100139
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن