بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

آسٹریلیا میں رؤیت ہلال کمیٹی کا جزیروں کی رؤیت پر فیصلہ کرنا


سوال

  آسٹریلیا میں رمضان اور عیدین کے لئے کچھ لوگ کونسل( سعودیہ وغیرہ ) کے مطابق چلتے ہیں اور کچھ لوگ رویت کے مطابق چلتے ہیں،  اس مرتبہ عیدالفطر کے موقع پر رویت والوں کو پورے آسٹریلیا میں 29 رمضان کو چاند کی شہادت نہ ملی، تو انہوں نے آسٹریلیا سے بہت دور 2 جزیرے ہیں( یہ جزیرے آسٹریلیا کے زیر انتظام آتے ہیں ) لیکن یہ دو جزیرے آسٹریلیا سے بہت دور اور انڈونیشیا کی سرحد سے ملتے ہیں اور ان دونوں جزیروں کے لوگ انڈونیشیا کی رویت کے مطابق رمضان اور عیدین وغیرہ کرتے ہیں ، آسٹریلیا کی مقامی رویت کمیٹی نے پہلی مرتبہ رویت کے لئے اپنے ساتھ شامل کیا، وہاں پر بھی 29 رمضان کو چاند کی شہادت نہ ملی، اگر وہاں سے شہادت مل جاتی تو گمان غالب ہے کہ مقامی کمیٹی اس پر عمل کرتی، لوگوں میں اس بات کی بےچینی ہے کہ اس سے پہلے تو روئت کے معاملے میں ان جزیروں کو شامل نہیں کیا تھا ، مذکورہ صورت میں ان دو جزیروں کی رویت آسٹریلیا کے مقامی لوگوں کے لئے صحیح ہے یا کونسل( سعودیہ وغیرہ ) کے اعلان کے مطابق عمل کریں؟

جواب

  کسی علاقے میں کوئی قاضی یا حکومت کی طرف سے مقرر کردہ  کمیٹی پورے  ضلع یا صوبے  یا پورے ملک  کے لیے ہو  اور وہ شرعی شہادت  موصول ہونے پر  چاند نظر آنے کا اعلان کردے تو اس کے فیصلے پر اپنی حدود اور ولایت میں  ان لوگوں پرجن تک فیصلہ اور اعلان یقینی اور معتبر ذریعے سے پہنچ جائے  عمل  کرنا واجب ہوگا،  چوں کہ  مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی  قاضی شرعی کی  حیثیت    رکھتی ہے، لہذا شہادت موصول ہونے پر اگر وہ اعلان کردے تو ملک میں  جن لوگوں تک یہ اعلان    معتبر ذرائع سے پہنچ جائے ، ان پر روزہ رکھنا یا عید کرنا لازم ہوگا۔

لہٰذا  صورتِ مسئولہ میں  مذکورہ  جزائر یا جو بھی  علاقے آسٹریلین حکومت کے زیر انتظام ہوں اور ان کی  ولایت عامہ میں داخل ہوں، وہ اس ملک کا حصہ کہلائیں گے، اور مسلمانوں  کی بنائی ہوئی رؤیت ہلال کمیٹی جو حکومت کی طرف سے مجاز ہو،  وہ وہاں ملک کے باقی حصوں کی طرح وہاں کی رؤیت پر بھی فیصلہ کرسکتی ہے، اور اس کا فیصلہ ان علاقوں سمیت تمام ملک میں نافذ ہوگا۔اور ایسی صورت میں اگر ان علاقوں سے چاند کی شہادتیں مل جاتی ہیں، اور اس کے مطابق وہاں کی رؤیت ہلال کمیٹی چاند کا فیصلہ کردیتی ہے، تو آسٹریلیا میں رہنے والے تمام مسلمانوں  کے لیے اس چاند  کرنا لازم ہے، اور روزہ اور عید بھی اسی کے مطابق انجام دیں گے۔ اس کے مقابلے میں آسٹریلیا والوں کے لیے سعودی حکومت کے اعلان پر عمل کرنا درست نہیں، بوجہ یہ کہ سعودی حکومت یا دیگر اسلامی ممالک کو آسٹریلیا میں ولایت عامہ بھی حاصل نہیں، اور عقلاً بھی یہ بات بعید ہے کہ قریبی جزیروں کی رؤیت کو چھوڑ کر سعودیہ کو جو کہ انتہائی بعید ترین ملک ہے اس کی رؤیت کا اعتبار کیا جائے۔

    ہاں اگر کسی شخص نے خود  واقعۃًچاند دیکھا تو اپنی ذات کی حد تک اس کے لیے اس پر عمل کرنا لازم ہوگا۔

         نیل الأوطار میں ہے:

وقد تمسك بحديث كريب هذا من قال: إنه لا يلزم أهل بلد رؤية أهل بلد غيرها.

وقد اختلفوا في ذلك على مذاهب ذكرها صاحب الفتح :

(أحدها): أنه يعتبر لأهل كل بلد رؤيتهم ولا يلزمهم رؤية غيرهم.

حكاه ابن المنذر عن عكرمة والقاسم بن محمد وسالم وإسحق.وحكاه الترمذي عن أهل العلم ولم يحك سواه. وحكاه الماوردي وجها للشافعية.

(وثانيها): أنه لا يلزم أهل بلد رؤية غيرهم إلا أن يثبت ذلك عند الإمام الأعظم فيلزم الناس كلهم، لأن البلاد في حقه كالبلد الواحد، إذ حكمه نافذ في الجميع، قاله ابن الماجشون.

(وثالثها): أنها إن تقاربت البلاد كان الحكم واحدا وإن تباعدت فوجهان؛ لا يجب عند الأكثر، قاله بعض الشافعية. واختار أبو الطيب وطائفة الوجوب، وحكاه البغوي  عن الشافعي.

وفي ضبطه البعد أوجه:

(أحدها): اختلاف المطالع، قطع به العراقيون والصيدلاني، وصححه النووي في الروضة وشرح المهذب.

(ثانيها): مسافة القصر، قطع به البغوي، وصححه الرافعي والنووي.

(ثالثها): باختلاف الأقاليم، حكاه في الفتح.

(رابعها): أنه يلزم أهل كل بلد لا يتصور خفاؤه عنهم بلا عارض دون غيرهم، حكاه السرخسي.

(خامسها): مثل قول ابن الماجشون المتقدم.

(سادسها): أنه لا يلزم إذا اختلفت الجهتان ارتفاعا وانحدارا، كأن يكون أحدهما سهلا والآخر جبلا، أو كان كل بلد في إقليم، حكاه المهدي في البحر عن الإمام يحيى والهادوية.

وحجة أهل هذه الأقوال حديث كريب هذا.

ووجه الاحتجاج أن ابن عباس لم يعمل برؤية أهل الشام، وقال في آخر الحديث: هكذا أمرنا رسول الله صلي الله عليه وسلم.

فدل ذلك على أنه قد حفظ من رسول الله صلي الله عليه وسلم أنه لا يلزم أهل بلد العمل برؤية أهل بلد آخر.

واعلم أن الحجة إنما هي في المرفوع، من رواية ابن عباس، لا في اجتهاده الذي فهمه عنه الناس، والمشار إليه بقوله: "هكذا أمرنا رسول الله صلي الله عليه وسلم هو قوله: فلا نزال نصوم حتى نكمل ثلاثين."

(باب الهلال إذا رآه أهل بلدة هل يلزم بقية البلاد الصوم،4 / 230، ط؛ دار الحديث، مصر)

       فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:

"الفتاوی النسفیة: سئل عن قضاء القاضي برؤیة هلال شهر رمضان بشهادة شاهدین عند الاشتباه في مصر، هل یجوز لأهل مصر آخر العمل بحکمهم؟ فقال:لا، ولایکون مصرآخر تبعاً لهذا المصر، إنما سکان هذا المصر وقراها یکون تبعاً لهم". 

(کتاب الصوم، الفصل  الثانی، 3/365، رؤیۃ الہلال، ط؛ زکریا ، دیوبند)

حضرت مولانا مفتی محمود ؒ    ”زبدۃالمقال فی رؤیۃالھلال“  میں تحریر فرماتےہیں:

"إذا ثبت الصوم أو الفطر عند حاکم تحت قواعد الشرع بفتوی العلماء أو عند واحد أو جماعة من العلماء الثقات ولاّهم رئیس المملکة أمر رؤیة الهلال، وحکموا بالصوم أو الفطر  ونشروا حکمهم هذا في رادیو، یلزم علی من سمعها من المسلمین العمل به في حدود ولایتهم، وأما فیما وراء حدود ولایتهم فلا بد من الثبوت عند حاکم تلک الولایة بشهادة شاهدین علی الرؤیة أو علی الشهادة أو علی حکم الحاکم أو جاء الخبر مستفیضاً، لأن حکم الحاکم نافذ في ولایته دون ما وراءها".

 (زبدۃ المقال فی رؤیۃ الھلال،  بحوالہ  خیر الفتاوی، 4/118،  ط؛ مکتبۃ الخیر ملتان)

         جواہر الفقہ میں ہے:

’’اور  جس طرح  ایک شہر کے قاضی یا ہلال کمیٹی کا فیصلہ اس شہر اور اس کے مضافات کے لیے واجب العمل ہے اسی طرح اگر کوئی قاضی یا مجسٹریٹ یا ہلال کمیٹی  پورے ضلع یا صوبہ یا پورے ملک  کے لیے ہو تو اس کا فیصلہ  اپنے اپنے حدود ولایت میں واجب العمل ہوگا‘‘۔

( مسئلہ رؤیت ہلال، 3/484،ط؛ مکتبہ دارالعلوم کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144612100237

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں