بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کے نامحرم رشتہ دار کا عورت کو پردہ کرنے سے منع کرنا اور اس کے شوہر کے خلاف برگشتہ کرنا


سوال

میرے پھوپھا سسر کا میری ازدواجی زندگی میں بہت عمل دخل ہے، میں جب اپنی بیوی کو کہتا ہوں کہ اپنے پھوپھا سے پردہ کرو یا دیگر نا محرموں سے پردہ کرو تو میرے پھوپھا سسر کہتے ہیں کہ یہ تو میری بچی ہے،اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہیں جب کہ میرے سسر زندہ ہیں ،میرے پھوپھا سسر میری بیوی کو کہتے ہیں کہ نہیں رہنا وہاں (یعنی میرے ساتھ )،میرا دل کرتا ہے کہ میں اپنے پھوپھا سسر سے ملنا چھوڑ دوں اور نہ اپنی بیوی کو ملنے دوں تو کیا یہ درست ہےاور قطع رحمی تو نہیں؟

جواب

قرآن و حدیث کے صریح نصوص میں عورت کو نامحرموں سے پردہ کرنے کا حکم دیا گیا ہےاور بے پردہ نامحرموں کے سامنے آنے کو سخت گناہ اور حرام قرار دیا گیا ہے،ساتھ ہی دین کے احکامات کی بجا آوری میں اگر کوئی شخص رکاوٹ بنے توابتداءً  اسے سمجھایا جائے شریعت کے حکم سے آگاہ کیا جائے تاکہ وہ شریعت کے حکم سے واقف ہوکر اپنی اصلاح کرلے ، لیکن اگر وہ پھر بھی اپنی بات پر بضد ہو تو اس سے بات چیت اور وہاں آنے جانے کو موقوف کرنے کی شرعا اجازت ہے، باقی کسی شخص کے لیے کسی کی ازدواجی زندگی میں مداخلت کرنا اور بیوی کو اپنے شوہر کے خلاف اكسانا اور برگشتہ  كرنا کبیرہ گناہ ہے،حدیث میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے متعلق وارد ہے کہ جو شخص کسی عورت کو اس کے شوہر سے برگشتہ  كرے وه جو ہم میں سے نہیں ہے،  لہذا سائل کے لیے اپنی بیوی کے پھوپھا سے ملنا جلنا موقوف کرنا اور خود اپنی بیوی کو وہاں جانے سے منع کردینا جائز ہے تاکہ شريعت كا پردہ کا حکم بھی پامال نہ ہو اور ان کی باتوں سے سائل اور ان کی بیوی کے درمیان کسی قسم کے اختلافات بھی پیدا نہ ہوں۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌ليس ‌منا ‌من ‌خبب ‌امرأة ‌على ‌زوجها أو عبدا على سيده» . رواه أبو داود"

(كتاب النكاح، باب عشرة النساء، ج: 2، ص: 973، ط: المكتب الإسلامي)

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو شخص کسی عورت کو اس کے شوہر سے یا غلام کو مالک سے برگشتہ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔"

وفیہ ایضاً:

"وعن النواس بن سمعان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌لا ‌طاعة ‌لمخلوق في معصية الخالق» . رواه في شرح السنة."

(‌‌كتاب الإمارة والقضاء، الفصل الثاني، ج:2، ص:1092، ط: المكتب الإسلامي)

فتاویٰ محمودیہ میں ہے:

کبائر میں مبتلا رشتہ داروں کے ساتھ تعلق

سوال [۱۱۲۸۲] : اعزاء واقرباء میں جو لوگ علی الاعلان کبائر میں مبتلا ہوں، تو ان لوگوں سے ترک تعلق ٹھیک ہے یا نہیں؟ اور اگر وہ اعزہ غیر محرم ہوں، تو کیا حکم ہے؟ کیونکہ وہ تو غیر کے حکم میں ہیں اور اگر ساتھ ساتھ وہی مبتلاء کبائر ہوں، اہل دین کا مذاق اڑاتے ہوں ، یا بے وقوف وذلیل سمجھتے ہوں، یا وہ خود اہل دین سے اجتناب رکھتے ہوں محض دین دار ہونے کی وجہ سے تو اہل دین کو کیا کرنا چاہیے؟ جواب عنایت فرمائیں۔

الجواب حامداً ومصلياً :

اگر حسن اخلاق و مروت سے متاثر ہو کر کبائر کو ترک کر دیں ، یا ان کو فہمائش کا موقع ہے، جس سے نفع کی امید ہو تو ان سے تعلق باقی رکھ کر اصلاح کی کوشش کی جائے ، اگر ترک تعلق سے اصلاح کی توقع ہو یا تعلق کی وجہ سے خود مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو تو تعلق ترک کر دیا جائے کہ دعا بہر حال کرتے رہیں (۱) ۔ فقط واللہ تعالی اعلم ۔

(باب المعاشرۃ و الاخلاق، ج:24، ص:246، ط:فاروقیہ)

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

"قال: وأجمع العلماء على أن من خاف من مكالمة أحد وصلته ما يفسد عليه دينه أو يدخل مضرة في دنياه يجوز له مجانبته وبعده، ورب صرم جميل خير من مخالطة تؤذيه. وفي النهاية: يريد به الهجر ضد الوصل، يعني فيما يكون بين المسلمين من عتب وموجدة، أو تقصير يقع في حقوق العشرة والصحبة دون ما كان من ذلك في جانب الدين... ويمكن أن يقال الهجرة المحرمة إنما تكون مع العداوة والشحناء، كما يدل عليه الحديث الذي يليه، فغيرها إما مباح أو خلاف الأولى۔"

(كتاب الآداب، باب ما ينهى عنه من التهاجر والتقاطع واتباع العورات،الفصل الأول،  ج:8 ، ص: 3147، ط:دار الفكر بيروت)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144703102105

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں