
دنیا میں عورت کے لیے ایک شادی کا حکم جبکہ مرد کو چار شادیوں کی اجازت کیوں؟
پہلی بات یہ ہے کہ منکوحہ عورت کسی دوسرے شخص سے نکاح نہیں کرسکتی، یہ اللہ تعالیٰ کا قطعی حکم ہے۔ اللہ تعالیٰ حکیم ہے اور اس کا کوئی حکم حکمت سے خالی نہیں ہوتا، خواہ اس کی حکمت ہمیں سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ بندۂ مؤمن پر لازم ہے کہ وہ ہر حال میں اس حکم کی تعمیل کرے۔
رہی وہ حکمتیں جو ہماری سمجھ میں آتی ہیں، تو ان میں ایک اہم حکمت نسب کی حفاظت ہے۔ شریعت میں نسب (خاندانی نسبت) کی حفاظت کو بنیادی مقاصد میں شمار کیا گیا ہے۔ اگر ایک عورت بیک وقت متعدد شوہروں کے نکاح میں ہو تو اولاد کے باپ اور نسب کا تعین مشکل ہوجائے گا، جس کے نتیجے میں وراثت، کفالت اور خاندانی شناخت کا پورا نظام متاثر ہوسکتا ہے۔اس کے برعکس اگر مرد کی ایک سے زائد بیویاں ہوں تو ہر بچے کی ماں متعین اور معلوم ہوتی ہے، اس لیے نسب میں اختلاط پیدا نہیں ہوتا اور خاندانی نظام برقرار رہتا ہے۔
نیز ایک حیاتیاتی حقیقت ہے کہ اگر ایک مرد چار عورتوں کے پاس جائے تو چاروں کو حاملہ بنا سکتا ہے لیکن ایک عورت چار مردوں کے پاس جائے تو وہ ایک ہی سے حاملہ ہو گی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ فطرت کے لحاظ سے عورت ا یک زوج کے لئے پیدا کی گئی ہے نہ کہ مرد، اس کے علاوہ مرد پر ایسا کوئی زمانہ معمولاً نہیں آتا جب وہ جنسی تعلق کے قابل نہ ہو، لیکن عورت پر حیض و نفاس اور حمل کے ایام میں ایسے دور باقاعدہ آتے ہیں جب وہ جنسی تعلق کے قابل نہیں ہوتی، لہٰذا مرد کو جنسی تسکین کیلئے زیادہ کی ضرورت ہو سکتی ہے، عورت کو اس کی ضرورت نہیں۔
قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے:
﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ﴾ [النساء: 24]
ترجمہ”اور(حرام کی گئی تم پر) خاوند والی عورتیں مگر جن کے مالک ہوجائیں تمہارے ہاتھ۔“
معارف القرآن میں اس آیت کے تحت ہے:
”اس دور کے بعض ملحد جاہل کہنے لگے کہ مردوں کو جب ایک سے زائد بیویوں کی اجازت ہے تو عورتوں کو بھی ایک سے زائد شوہروں سے متمتع ہونے کی اجازت ملنی چاہیے، یہ مطالبہ اس آیت شریف کے بالکل خلاف ہے ایسی جاہلانہ باتیں کرنے والے لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ مرد کے لیے کثرت ازواج ایک نعمت ہے جسے ہر مذہب و ملت میں جائز قرار دیا گیا ہے، جس پر انسان کی تاریخ شاید ہے لیکن عورت کے لیے ایک وقت میں ایک سے زائد شوہر ہونا اس عورت کے لیے بھی باعث مصیبت ہے اور جو دو مرد ایک عورت کے شوہر بن جائیں ان کے لیے بھی باعث ننگ اورعار ہے اور سراسر بے شرمی ہے، نیز اس میں کسی بچے کے ثابت النسب ہونے کا بھی کوئی راستہ باقی نہیں رہتا، جب کئی مرد ایک عورت کے شوہر بن جائیں تو پیدا ہونے والی اولاد کو ان میں سے کسی ایک کا بیٹا تجویز کرنے کا بھی کوئی طریقہ باقی نہیں رہے گا۔ اس طرح کا بدترین مطالبہ وہی لوگ کر سکتے ہیں جو انسانیت کی سراپا دشمن ہوں اور جن کی غیرت و حیا کا جنازہ نکل چکا ہو، ایسے لوگ اولاد اور والدین کے حقوق کی لائن سے وجود میں آنے والی رحمتوں سے پوری انسانیت کو محروم کرنے کی حمایت میں لگے ہوئے ہیں جب نسب ثابت نہیں ہوگا تو باہمی حقوق فرائض کی ذمہ داری کس پر عائد کی جائے گی؟
خالص طبعی اور عقلی اعتبار سے بھی اگر دیکھا جائے تو بھی ایک عورت کے لیے متعدد شوہر ہونے کا بھی جواز نظرنہیں آتا:
1۔ ازدواج کا بنیادی مقصد تناسل ہے اس اعتبار سے متعدد عورتیں تو ایک مرد سے حاملہ ہو سکتی ہے لیکن ایک عورت متعدد مردوں سے حاملہ نہیں ہو سکتی وہ ایک ہی حاملہ ہو گی اس لیے متعدد شوہروں کی صورت میں ایک کے علاوہ باقی شوہروں کی قوت ضائع گئی، شہوت رانی کے سوا ان کا کوئی فائدہ حاصل نہ ہو سکا ۔
2۔تجربہ اور مشاہدہ سے ثابت ہے کہ عورت مرد کے مقابلے میں صنف نازک ہے، وہ سال کے اکثر حصے میں استمتاع کے بھی قابل نہیں رہتی، بعض حالات میں اس کے لیے ایک ہی شوہر کے پورے حقوق کرنا ممکن نہیں ہوتا ہے چہ جائے کہ ایک سے زائد شوہر ہوں۔
3۔چونکہ مرد جسمانی قوت کے اعتبار سے عورت کے مقابلے میں زیادہ صحت مند ہے اس لیے اگر کسی مرد کی جنسی قوت معمول سے زیادہ ہو اور ایک عورت سے اس کی تشفی نہ ہو سکتی ہو تو اسے جائز طریقے سے دوسری اور تیسرے نکاح کا موقع ملنا چاہیے ورنہ وہ دوسرے ناجائز طریقے اختیار کرے گا اور پورے معاشرے کو بگاڑ دے گا لیکن عورت سے ایسے بگاڑ کا اندیشہ نہیں ہے۔“
(سورۃ نساء، ج:2، ص:363، ط:مکتبہ معارف القرآن)
فتاوی شامی میں ہے:
"أما نكاح منكوحة الغير ... فلم يقل أحد بجوازه ، فلم ينعقد أصلاً."
(كتاب النكاح، باب المهر، ج:3، ص:274، ط:سعيد)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره."
(كتاب النكاح، الباب الثالث في بيان المحرمات، القسم السادس المحرمات التي يتعلق بها حق الغير، ج:1، ص:280، ط:رشيدية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708100537
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن