بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

عورتوں کے لیے قبرستان جانے کا شرعی حکم


سوال

کیا عورتوں کا قبرستان جانا جائز ہے ؟

جواب

عورتوں کے قبرستان جانے کا شرعی حکم ان کی عمر اور وہاں جانے کے مقصد پر موقوف ہے۔ اگر کوئی عورت، خواہ وہ جوان ہو یا بوڑھی، قبرستان اس نیت سے جائے کہ اس کا غم تازہ ہو اور وہاں جا کر بلند آواز سے روئے دھوئے یا جزع فزع کرے، تو ایسی صورت میں اس کا قبرستان جانا قطعی ناجائز اور گناہ ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں ایسی عورتوں پر سخت لعنت فرمائی گئی ہے جو قبروں پر جا کر بے صبری کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ چونکہ عموماً عورتوں میں فطرتاً صبر کا مادہ کم ہوتا ہے اور رونا دھونا ان کی عادت ہوتی ہے، اس لیے انہیں قبرستان جانے سے سختی سے روکا گیا ہے۔

جہاں تک محض آخرت کی یاد، عبرت حاصل کرنے اور دعائے مغفرت کی بات ہے، تو اس مقصد کے لیے بھی جوان عورتوں کا قبرستان جانا مکروہ ہے۔ شریعت میں جوان عورت کا بلا شدید شرعی ضرورت کے گھر سے نکلنا فتنہ کے اندیشے سے خالی نہیں سمجھا گیا، اسی لیے جس طرح ان کا مسجد میں باجماعت نماز کے لیے جانا مکروہ ہے، اسی طرح قبرستان جانا بھی مکروہ ہے۔ البتہ اگر کوئی بوڑھی عورت کبھی کبھار عبرت اور آخرت کی یاد کے لیے پردے کے مکمل اہتمام کے ساتھ قبرستان جائے اور وہاں جا کر کوئی خلافِ شرع کام یا رونا دھونا نہ کرے، تو اس کی گنجائش ہے۔ پھر بھی بہتر اور محتاط عمل یہی ہے کہ بوڑھی عورتیں بھی قبرستان جانے سے گریز کریں۔ مزید برآں، اگر کسی قبر پر عرس، میلہ، قبر پرستی یا دیگر بدعات و خرافات ہوتے ہوں، تو وہاں مرد و عورت دونوں کا جانا شرعاً منع ہے۔

خواتین کے لیے شریعت کا پسندیدہ اور بہترین راستہ یہ ہے کہ وہ گھر پر ہی رہ کر صبر سے کام لیں اور گھر سے ہی قرآن کریم، درود شریف، اور نفلی صدقات وغیرہ کے ذریعے اپنے مرحومین کو ایصالِ ثواب کرتی رہیں۔ حدیث قدسی کے مطابق جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے کسی عزیز کو دنیا سے اٹھا لیتا ہے اور وہ بندہ ثواب کی امید پر صبر کرتا ہے، تو اللہ کے ہاں اس کا بدلہ صرف جنت ہے۔ ایصالِ ثواب میں والدین یا مرحومین کا فائدہ ہے اور صبر کرنے میں خود اس عورت کے لیے اجر و ثواب ہے۔

صحيح البخاري میں ہے:

"عن أبي هريرة رضي الله عنه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: يقول الله تعالى: ما لعبدي المؤمن عندي جزاء، إذا قبضت صفيه من أهل الدنيا ثم احتسبه، إلا الجنة."

"ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب میں اپنے کسی مومن بندے کے دنیا والوں میں سے کسی پیارے عزیز کی جان قبض کرتا ہوں اور پھر وہ ثواب کی امید پر صبر کرے تو اس کے لیے میرے پاس جنت کے سوا کوئی بدلہ نہیں۔"

(ج:8، ص:90، ط: دار طوق النجاة)

صحيح ابن حبان میں ہے:

"عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: لعن الله زائرات القبور."

ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ لعنت فرمائے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر۔"

(ج:7، ص:452، ط: مؤسسة الرسالة بيروت)

مشكاة المصابيح میں ہے:

"عن أبي هريرة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لعن زوارات القبور... وقال بعضهم: إنما كره زيارة القبور للنساء لقلة صبرهن وكثرة جزعهن."

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں پر زیادہ جانے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔ اور بعض علماء نے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں میں صبر کی کمی اور جزع و فزع یعنی رونے دھونے کی زیادتی کی وجہ سے ان کے قبروں پر جانے کو ناپسند فرمایا ہے۔"

(كتاب الجنائز، باب زيارة القبور، رقم الحدیث:1770، ج:1، ص:554، ط: المكتب الاسلامی)

بذل المجهود شرح سنن أبي داود میں ہے:

"فالصواب الذي ينبغي الاعتماد عليه هو جواز الزيارة للنساء إذا كان الأمن من تضييع حق الزوجة والتبرج والجزع والفزع ونحو ذلك من الفتن؛ لأن الزيارة عُلِّلَ بتذكر الموت، ويحتاج إليه الرجال والنساء، فلا مانع من الإذن لهن."

(باب في زيارة النساء للقبور، ج:10، ص:527، ط: مركز الشيخ أبي الحسن الندوي)

فتاوى شامي  میں ہے:

"وقال الخير الرملي: إن كان ذلك لتجديد الحزن والبكاء والندب على ما جرت به عادتهن فلا تجوز، وعليه حمل حديث لعن الله زائرات القبور. وإن كان للاعتبار والترحم من غير بكاء والتبرك بزيارة قبور الصالحين فلا بأس إذا كن عجائز، ويكره إذا كن شوابّ كحضور الجماعة في المساجد آه. وهو توفيق حسن."

(كتاب الصلاة، باب صلاة الجنائز، مطلب في زيارة القبور، ج:2، ص:242، ط: سعيد)

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح میں ہے:

"وأما النساء إذا أردن زيارة القبور إن كان ذلك لتجديد الحزن والبكاء والندب كما جرت به عادتهن فلا تجوز لهن الزيارة وعليه يحمل الحديث الصحيح لعن الله زائرات القبور وإن كان للاعتبار والترحم والتبرك بزيارة قبور الصالحين من غير ما يخالف الشرع فلا بأس به إذا كن عجائز وكره ذلك للشابات كحضورهن في المساجد للجماعات اهـ وحاصله أن محل الرخص لهن إذا كانت الزيارة على وجه ليس فيه فتنة."

(كتاب الصلوۃ، باب احکام الجنائز، فصل في زيارة القبور، ص:620، ط: دار الكتب العلمية)

البحر الرائق میں ہے:

"وصرح في المجتبى بأنها مندوبة وقيل: تحرم على النساء والأصح أن الرخصة ثابتة لهما."

(ج:2، ص:210، ط: دار الكتاب الإسلامي)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144712101233

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں