بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شرمگاہ کی رطوبت روکنے کے لیے روئی یا ٹشو رکھنے کی صورت میں نماز و روزہ کا حکم


سوال

عورت شرمگاہ سے رطوبت کو بند کرنے کے لیے روئی یا ٹیشو پیپر وغیرہ شرمگاہ کے اندرونی حصے میں صبحِ صادق سے پہلے رکھے اور شام تک رکھ لیوے، درمیان میں نہ بدلے، تو کیا یہ جائز ہے؟ نماز اور روزے کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں عورت  کا شرمگاہ سے جاری رطوبت کو بند کرنے کی غرض سے روئی یا ٹشو پیپر وغیرہ کو شرمگاہ کے اندرونی حصے میں رکھنا جائز ہے۔اور یہ  ٹشو یا روئی وغیرہ رکھنے کی دو صورتیں ہیں :

ایک یہ کہ روئی وغیرہ کا ٹکڑا مکمل طور  پر اندرونی شرمگاہ میں چھپ جائے کہ باہر سے نظر نہ آئے، تو اس صورت میں جب تک نجاست بیرونی شرمگاہ پر ظاہر نہ ہو، یا نجاست سے آلودہ اُس ٹکرے کو نکالا نہ جائے، تو دیگرنواقضِ وضو کی عدمِ موجودگی میں طہارت باقی رہے گی۔

اور دوسری صورت یہ ہے کہ ٹشو پیپر وغیرہ  کا کچھ حصہ اندرونی شرمگاہ میں ہو اور کچھ باہر ہو، تو  اِس  صورت میں جب تک  رطوبت اُس روئی /ٹیشو کے بیرونی حصے( جو بیرونی شرمگاہ پر ہو اور نظر آرہا ہو) پرظاہر نہ ہو یا پھر یہ  ٹکڑا اندرونی شرمگاہ سے باہر نہ نکالا جائے اُس وقت تک وضو برقرار رہے گا، اور اِس کے ساتھ نماز وغیرہ جائز ہوگی۔

 روزے کے حوالے سے یہ تفصیل ہے کہ اگرروئی /ٹیشوپیپر کا ٹکڑا اندورنی شرمگاہ میں اِس طرح رکھا جاتا ہے کہ بالکل چھپ جاتا ہے، اور باہرسے نظر نہ آئے تو صبح صادق سے پہلے یہ ٹکڑا رکھنے کے بعد اگر افطار تک نکالنے کی نوبت نہ آئے تو روزہ درست   ہوگا۔ اور اگر صبح صادق سے قبل رکھنے کے بعد درمیان میں (پیشاب وغیرہ کی حاجت کے بعد) دوبارہ یہی ٹکڑا اندرونی شرمگاہ میں  روزہ یاد ہوتے ہوئے رکھا جائے کہ بالکل چھپ جائے  تو اِس صورت میں روزہ فاسد ہوجائے گا، خواہ اِس پر نجاست لگی ہو یا نہ لگی ہو۔ اور اگر یہ ٹکڑا اِس طرح رکھا جائے کہ اندرونی شرمگاہ میں مکمل نہ چھپے، بلکہ کچھ حصہ باہر رہے اور نظر آئے تو اِس صورت میں ایک دفعہ نکالنے کے بعد اگر اُس پر نجاست لگی ہو تو دوبارہ اندرونی شرمگاہ میں رکھنا درست نہیں ہے،  اِس صورت میں روزہ فاسد ہوجائے گا۔

فتاوی شامی میں ہے :

"(كما) ينقض (لو حشا إحليله بقطنة وابتل الطرف الظاهر) هذا لو القطنة عالية أو محاذية لرأس الإحليل وإن متسفلة عنه لا ينقض وكذا الحكم في الدبر والفرج الداخل (وإن ابتل) الطرف (الداخل لا) ينقض ولو سقطت؛ فإن رطبه انتقض، وإلا لا.

وفي الرد:(قوله: والفرج الداخل) أما لو احتشت في الفرج الخارج فابتل داخل الحشو انتقض، سواء نفذ البلل إلى خارج الحشو أو لا للتيقن بالخروج من الفرج الداخل وهو المعتبر في الانتقاض لأن الفرج الخارج بمنزلة القلفة، فكما ينتقض بما يخرج من قصبة الذكر إليها وإن لم يخرج منها كذلك بما يخرج من الفرج الداخل إلى الفرج الخارج وإن لم يخرج من الخارج اهـ شرح المنية (قوله: لا ينقض) لعدم الخروج (قوله: ولو سقطت إلخ) أي لو خرجت القطنة من الإحليل رطبة انتقض لخروج النجاسة وإن قلت، وإن لم تكن رطبة أي ليس بها أثر للنجاسة أصلا فلا نقض."

(كتاب الطهارة، ج:1، ص:148-149، ط:سعيد)

وفيه ايضاً:

"ولو أدخلت قطنة إن غابت فسد وإن بقي طرفها في فرجها الخارج لا۔"

(‌‌كتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده، ج:2، ص: 392، ط:دار الفكر)

فتاوى ہندیہ  میں ہے :

"ولو أدخل أصبعه في استه أو المرأة في فرجها لا يفسد، وهو المختار إلا إذا كانت مبتلة بالماء أو الدهن فحينئذ يفسد لوصول الماء أو الدهن هكذا في الظهيرية. هذا إذا كان ذاكرا للصوم، وهذا تنبيه حسن يجب أن يحفظ؛ لأن الصوم إنما يفسد في جميع الفصول إذا كان ذاكرا للصوم، وإلا فلا، هكذا في الزاهدي۔"

(الباب الرابع فيما يفسد وما لا يفسد، النوع الأول ما يوجب القضاء دون الكفارة، ج:1، ص:204، ط:دار الفکر)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144709100951

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں