
بیٹی کتنے دنوں بعد والدین کے گھر جا سکتی ہے؟ نیز کیا شوہر بلا وجہ والدین سے ملنے سے روک سکتا ہے؟
واضح رہے کہ شادی کے بعد لڑکی کے والدین کو ہفتہ میں ایک دفعہ اپنی بیٹی سے ملاقات کا حق شرعاً حاصل ہے کہ لڑکی کے والدین بیٹی سے ملنے ہفتہ میں ایک دفعہ اس کے گھر جاکر ملاقات کرسکتے ہیں، لیکن اگر لڑکی کے والدین کسی عذر مثلاً: بڑھاپے، ضعف یا بیماری وغیرہ کی وجہ سے نہ آسکتے ہوں اور والدین کا گھر قریب ہو تو پھر بیٹی ہفتہ میں کم از کم ایک دفعہ والدین سے ملاقات کے لیے جاسکتی ہے ،اور اگر والدین کا گھر دور ہوں اور ہر ہفتہ آنے جانے میں فتنہ کااندیشہ ہو یا کوئی اور مشکل پیش آتی ہو تو ایسی صورت میں پھر وہاں کے عرف کے اعتبار سے جس قدر مدت میں مناسب معلوم ہو والدین کی زیارت کے لیے آجایا کرے، لیکن مسافتِ سفر کی صورت میں محرم کا ہونا بھی ضروری ہے۔ نیز شوہر کو کسی عذر کے بغیر بیوی کو والدین کی ملاقات سے روکنے کا حق نہیں ہے، اگر روکے گا تو گناہ گار ہوگا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(ولا يمنعها من الخروج إلى الوالدين) في كل جمعة إن لم يقدرا على إتيانها على ما اختاره في الاختيار... (ولا يمنعهما من الدخول عليها في كل جمعة، وفي غيرهما من المحارم في كل سنة) لها الخروج ولهم الدخول زيلعي (ويمنعهم من الكينونة) وفي نسخة: من البيتوتة لكن عبارة منلا مسكين: من القرار (عندها) به يفتى خانية.
(قوله على ما اختاره في الاختيار) الذي رأيته في الاختيار شرح المختار: هكذا قيل لا يمنعها من الخروج إلى الوالدين وقيل يمنع؛ ولا يمنعهما من الدخول إليها في كل جمعة وغيرهم من الأقارب في كل سنة هو المختار. اهـ فقوله هو المختار مقابله القول بالشهر في دخول المحارم كما أفاده في الدرر والفتح، نعم ما ذكره الشارح اختاره في فتح القدير حيث قال: وعن أبي يوسف في النوادر تقييد خروجها بأن لا يقدرا على إتيانها، فإن قدرا لا تذهب وهو حسن، وقد اختار بعض المشايخ منعها من الخروج إليهما وأشار إلى نقله في شرح المختار. والحق الأخذ بقول أبي يوسف إذا كان الأبوان بالصفة التي ذكرت... فإن في كثرة الخروج فتح باب الفتنة خصوصا إذا كانت شابة والزوج من ذوي الهيئات، بخلاف خروج الأبوين فإنه أيسر. اهـ ... (قوله في كل جمعة) هذا هو الصحيح، خلافا لمن قال له المنع من الدخول معللا بأن المنزل ملكه، وله حق المنع من دخول ملكه دون القيام على باب الدار، ولمن قال لا منع من الدخول بل من القرار؛ لأن الفتنة في المكث وطول الكلام، أفاده في البحر. وظاهر الكنز وغيره اختيار القول بالمنع من الدخول مطلقا واختاره القدوري وجزم به في الذخيرة، وقال: ولا يمنعهم من النظر إليها والكلام معها خارج المنزل إلا أن يخاف عليها الفساد فله منعهم من ذلك أيضا... (قوله لها الخروج ولهم الدخول زيلعي) المناسب إسقاط هذه الجملة كما في بعض النسخ. وعبارة الزيلعي: وقيل لا يمنعها من الخروج إلى الوالدين ولا يمنعهم من الدخول عليها في كل جمعة إلخ."
(كتاب الطلاق، ج: 3، ص: 603،602، ط: دار الفكر)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وإذا أراد الزوج أن يمنع أباها، أو أمها، أو أحدا من أهلها من الدخول عليه في منزله اختلفوا في ذلك قال بعضهم: لا يمنع من الأبوين من الدخول عليها للزيارة في كل جمعة، وإنما يمنعهم من الكينونة عندها، وبه أخذ مشايخنا - رحمهم الله تعالى -، وعليه الفتوى كذا في فتاوى قاضي خان وقيل: لا يمنعها من الخروج إلى الوالدين في كل جمعة مرة، وعليه الفتوى كذا في غاية السروجي وهل يمنع غير الأبوين عن الزيارة في كل شهر، وقال مشايخ بلخ في كل سنة وعليه الفتوى، وكذا لو أرادت المرأة أن تخرج لزيارة المحارم كالخالة والعمة والأخت فهو على هذه الأقاويل كذا في فتاوى قاضي خان وليس للزوج أن يمنع والديها وولدها من غيره وأهلها من النظر إليها وكلامها في أي وقت اختاروا هكذا في الهداية."
(كتاب الطلاق، الباب السابع عشر، الفصل الثاني، ج: 1، ص: 557،556، ط: دار الفكر)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
"زید نے اپنی دختر مسماۃ ہندہ کا نکاح باداء حلف شرح شریف بکر سے کیا کہ آمد و رفت ہندہ کو بخانہ والدین سے میں ہرگز نہ روکوں گا اور ہندہ کو سپردِ بکر کر دیا اور بکر ہندہ کو بمقام کویل علی گڑھ لے کر چلا گیا جس کو عرصہ تین سال کاگیا۔ اب بکر یہ عہد کرتا ہے اور مسماۃ ہندہ زوجہ خود کو بخانہ علاء الدین آنے نہیں دیتا اور نہ والدین سے ملنے دیتا ہے اور قسم کی تکلیفات زود و کوب وغیرہ کی مسماۃ ہندہ کو پہنچا رہا ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ مسماۃ ہندہ زوجہ بکر کو بخانہ والدین آمد و رفت کا ونیز قیام سکونت کا کس قدر حق حاصل ہے؟
جواب:
"مرد کو یہ حق ہرگز نہیں کہ اپنی بیوی کو اس کے والدین سے بالکل منع کر دے، نہ والدین کو آنے دے نہ بیوی کو جانے دے، اگر شوہر ایسا کرے گا تو گنہگار ہوگا اور عورت کو اپنے والدین سے ملنے کا یقیناً حق حاصل ہے۔ بہتر تو یہ ہے کہ والدین خود جا کر اپنی لڑکی سے مل آیا کریں، اگر یہ دشوار ہو تو پھر لڑکی والدین کے پاس آکر زیارت کر جایا کرے۔ اگر قریب ہو اور کوئی دقت نہ ہو، فتنہ کا اندیشہ نہ ہو تو ہفتہ میں ایک مرتبہ بھی آنے کی گنجائش ہے۔
اگر دور ہوں یا فتنہ کا اندیشہ ہو یا اَور کوئی دقت ہو تو پھر وہاں کے عرف کے اعتبار سے جس قدر مدت میں مناسب معلوم ہو والدین کی زیارت کے لیے آجایا کرے۔ مسافتِ سفر کے لیے محرم کا ہونا بھی ضروری ہے۔ اور آمد و رفت کا خرچہ خود عورت کو برداشت کرنا ہوگا، مرد کے ذمہ نہیں۔"
(باب أحکام الزوجین، ج: 18، ص: 598،597، ط: دار الافتاء جامعہ فاروقیہ)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144611102145
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن