بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کے زیور طلاق کے بعد غصب کرلینا


سوال

چار سال قبل میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی۔ بوقتِ نکاح میری والدہ نے میری بیوی کو زیور (سونے کا سیٹ) بطور تحفہ دیا تھا۔ طلاق کے بعد میری بیوی نے مجھے گھر سے نکال دیا اور میرا چالیس لاکھ روپے کا سامان اور میرے چھ بچے بھی اپنے پاس رکھ لیے۔

میری بیوی کو میری والدہ کی طرف سے ملنے والا زیور میں نے اپنی بڑی بہن کے پاس امانت کے طور پر رکھوا دیا تھا۔ اب جب میں ان سے اس کی واپسی کا مطالبہ کرتا ہوں تو وہ کہتی ہیں کہ یہ تو والدہ کا زیور تھا، ہم نے انہیں دے دیا، اب آپ ہمارے دروازے  پر نہ آئیں۔

مزید یہ کہ میری چھوٹی بہن اور بھائی کہہ رہے ہیں کہ زیور والدہ کو واپس کر دو، ورنہ ہم تمہیں پولیس کے حوالے کر دیں گے۔

اب سوال یہ ہےکہ:

1-کیا شرعی طور پر ان کا اس زیور پر قبضہ کرنا درست ہے؟ 

2-کیا وہ زیور مجھے ملے گا یا نہیں؟

جواب

1-صورت مسئولہ میں    بہو کو اس کی ساس( سائل کی والدہ) کی طرف سے   تحفےمیں          ملنے والا زیور  بہو کی ملکیت ہے،کسی اور کے لیے اس میں اس کی اجازت کے بغیر کسی قسم  کا تصرف کرنا شرعا درست نہیں۔

نیزجب شوہر نے اپنی بیوی کے زیورات اپنی بڑی بہن کے پاس بطورِ امانت رکھوائے تھے، تو بہن کے لیے ان زیورات پر قبضہ کرنا،واپسی کے مطالبہ پر شوہر کو  دھمکیاں دینا شرعاً درست نہیں۔ بہن پر لازم ہے کہ وہ مذکورہ امانت اپنی بھائی  کے حوالے کرے تاکہ وہ اپنی بیوی کو واپس کرے۔

2-مذکورہ زیور صرف بہو  ہی کی ملکیت  ہے،شوہر یا کسی اور کا اس میں کوئی حق نہیں ،اس لیے  اسے بہو کو واپس دینا ضروری ہے۔

قرآن کریم میں ہے :

''فَلْیُؤَدِّ الَّذِي اؤْتُمِنَ أَمَانَتَه وَلْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّه(بقرة: 283)''

ترجمہ: "تو جس شخص کا اعتبار کرلیا گیا ہے ا س کو چاہیے کہ دوسرے کا حق ادا کردے اوراللہ سے جو کہ اس کا پروردگار ہےڈرے ۔"(بیان القرآن)

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن أنس رضي الله عنه قال: قلما خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا قال: «‌لا ‌إيمان ‌لمن ‌لا ‌أمانة له ولا دين لمن لا عهد له» . رواه البيهقي في شعب الإيمان."

(کتاب الایمان، الفصل الثاني، ج: 1، ص: 17، ط:المكتب الإسلامي)

ترجمہ:”حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : بہت کم  ایسا ہوتا کہ  نبی کریم ﷺ   ہم سے بیان کرتے اور یہ نہ کہتے ہوں کہ جس میں امانت داری نہیں اس میں ایمان نہیں اور جس شخص میں معاہدہ کی پابندی نہیں اس میں دین نہیں “۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وأما حكمها فوجوب الحفظ على المودع وصيرورة المال أمانة في يده ووجوب أدائه عند طلب مالكه، كذا في الشمني الوديعة لا تودع ولا تعار ولا تؤاجر ولا ترهن، وإن فعل شيئا منها ضمن، كذا في البحر الرائق."

(کتاب الودیعة، الباب الأول، ج: 4، ص: 338، ط:دار الفکر)

فتاوی شامی میں ہے:

"كل أحد يعلم أن الجهاز للمرأة إذا طلقها تأخذه كله، وإذا ماتت يورث عنها".

(کتاب النکاح،باب المہر،ج:3،ص:158،ط: سعید)

فتاوی ہندیہ   میں ہے:

"وإذا بعث الزوج إلى أهل زوجته أشياء عند زفافها، منها ديباج فلما زفت إليه أراد أن يسترد من المرأة الديباج ليس له ذلك إذا بعث إليها على جهة التمليك، كذا في الفصول العمادية".

(کتاب النکاح، الباب السابع في المهر، الفصل السادس عشر في جهاز البنت،ج:1 ص:327،رشیدیة)

فتاوی شامی ہے:

"لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير ‌سبب ‌شرعي."

(کتاب الحدود، باب التعزیر، ج:4، ص:61،  ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144710101425

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں