بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کو اللہ نے کس طرح تخلیق کیا


سوال

عورت کو اللہ نے کس طرح تخلیق کیاہے؟

جواب

ایک قول یہ ہےکہ خالق کائنات نے حضرت آدم علیہ السلام کو مٹی سے تخلیق فرمایا،پھران کی بائیں پسلی سے حضرت حواء رضی اللہ عنہا کی تخلیق فرمائی،ان دونوں کی تخلیق کے بعدتاقیامت مردوزن  کی تخلیق کا ظاہری سبب مرد وخاتون کے ملاپ کوقراردیا۔

دوسرا قول یہ ہے کہ امام باقر رحمہ اللہ کا ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت حواء رضی اللہ عنہا کو حضرت آدم علیہ السلام کو بنانے کے بعد جو مٹی کا گارا بچا ہوا تھااس سے بنایا ہے،اور ضلع ایسر والی حدیث میں عورت کی فطرت یعنی ٹیڑھا پن کو بیان کیا ہے۔ارشاد باری تعالی ہے:

"هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِیَسْكُنَ اِلَیْهَاۚ."(سورۃ الأعراف، الآیة:190)

ترجمہ:”اور الله ایسا (قادرومنعم) ہے جس نے تم کو ایک تن واحد (آدم علیہ السلام ) سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا (حوا علیہا السلام)  بنایا تاکہ وہ اس (اپنے جوڑے) سے انس حاصل کرے ۔“

ارشاد ربانی ہے:

"یٰۤاَیُّهَا  النَّاسُ   اتَّقُوْا  رَبَّكُمُ  الَّذِیْ  خَلَقَكُمْ  مِّنْ  نَّفْسٍ  وَّاحِدَةٍ  وَّ  خَلَقَ  مِنْهَا  زَوْجَهَا  وَ  بَثَّ  مِنْهُمَا  رِجَالًا  كَثِیْرًا  وَّ  نِسَآءًۚ." (سورۃ النساء، الآیة:1)

ترجمہ :”اے لوگوں اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تم کو ایک جاندار سے پیدا کیا اور اس جاندار سے اس کا جوڑ پیدا کیا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلائیں .“

ارشاد ہے:

"یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآىٕلَ لِتَعَارَفُوْا." (سورۃ الحجرات، الآیة:13)

ترجمہ”اے لوگو ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تم کو مختلف خاندان بنایا ہے تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرسکو۔“

بخاری شریف میں ہے:

"عن أبي هريرة:عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يؤذي جاره واستوصوا بالنساء خيرا، فإنهن ‌خلقن ‌من ‌ضلع، وإن أعوج شيء في الضلع أعلاه، فإن ذهبت تقيمه كسرته، وإن تركته لم يزل أعوج، فاستوصوا بالنساء خيرا)."

(کتاب النکاح، باب الوصاۃ بالنساء، ج:5، ص:1987، ط:دار ابن کثیر)

ترجمہ:حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:”جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے، اور عورتوں کے بارے میں خیر خواہی کی وصیت قبول کرو؛ کیونکہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے، اور پسلی میں سب سے زیادہ ٹیڑھا حصہ اس کا اوپر والا ہوتا ہے۔ اگر تم اسے سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو اسے توڑ دو گے، اور اگر اسے اس حال پر چھوڑ دو گے تو وہ ٹیڑھی ہی رہے گی۔ پس عورتوں کے بارے میں خیر خواہی کی وصیت قبول کرو۔“

ٹیڑھی پسلی سے حضرت حواء  کی  پیدائش  کی طرف اشارہ  ہے، جس کا اثر  تمام خواتین  میں اس طور پر ہے کہ  ان کے مزاج میں ٹیڑھاپن پایاجاتاہے، جسے سیدھا کرنے کی زیادہ کوشش نہیں کرنی چاہیے، ورنہ یہ ٹوٹ جائے گی، اور ہڈی کا ٹوٹ جانا علیحدگی اور طلاق سے کنایہ ہے۔

اس کی تشریح میں عمدۃ القاری میں  علامہ عینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"قوله:(واستوصوا) قال البيضاوي: الإستئصاء قبول الوصية والمعنى: أوصيكم بهن خيرا فاقبلوا وصيتي فيهن فإنهن ‌خلقن ‌من ‌ضلع، واستعير الضلع للعوج أي: خلقن خلقا فيه اعوجاج فكأنهن خلقن من أصل معوج فلا يتهيأ الانتفاع بهن إلا بمداراتهن والصبر على اعوجاجهن."

(کتاب النکاح، باب الوصاۃ بالنساء، ج:20، ص:166، ط:دار إحیاء التراث العربی)

فتح الباری میں ہے:

"(فإنهن خلقن من ضلع) بكسر الضاد والمعجمة وفتح اللام وقد تسكن، وكأن فيه إشارة إلى ما أخرجه ابن إسحاق في المبتدأ عن ابن عباس أن حواء خلقت من ضلع آدم الأقصر الأيسر وهو نائم، وكذا أخرجه ابن أبي حازم وغيره من حديث مجاهد، وأغرب النووي فعزاه للفقهاء أو بعضهم فكان المعنى أن النساء خلقن من أصل خلق من شيء معوج، وهذا لا يخالف الحديث الماضي من تشبيه المرأة بالضلع، بل يستفاد من هذا نكتة التشبيه وأنها عوجاء مثله لكون أصلها منه، وقد تقدم شيء من ذلك في كتاب بدء الخلق.

قوله (وإن أعوج شيء في الضلع أعلاه) ذكر ذلك تأكيدا لمعنى الكسر، لأن الإقامة أمرها أظهر في الجهة العليا، أو إشارة إلى أنها خلقت من أعوج أجزاء الضلع مبالغة في إثبات هذه الصفة لهن، ويحتمل أن يكون ضرب ذلك مثلا لأعلى المرأة لأن أعلاها رأسها، وفيه لسانها وهو الذي يحصل منه الأذى، واستعمل أعوج وإن كان من العيوب لأنه أفعل للصفة وأنه شاذ، وإنما يمتنع عند الالتباس بالصفة فإذا تميز عنه بالقرينة جاز البناء.

قوله (فإن ذهبت تقيمه كسرته) الضمير للضلع لا لأعلى الضلع، وفي الرواية التي قبله إن أقمتها كسرتها والضمير أيضا للضلع وهو يذكر ويؤنث، ويحتمل أن يكون للمرأة، ويؤيده قوله بعده وإن استمتعت بها، ويحتمل أن يكون المراد بكسره الطلاق، وقد وقع ذلك صريحا في رواية سفيان، عن أبي الزناد عند مسلم: وإن ذهبت تقيمها كسرتها، وكسرها طلاقها."

(كتاب النكاح، باب الوصاة بالنساء، ج:9، ص:253، ط:المكتبة السلفية مصر)

تفسیر روح المعانی میں ہے:

"‌وَخَلَقَ ‌مِنْها ‌زَوْجَها ‌وهو عطف على خَلَقَكُمْ داخل معه في حيز الصلة، وأعيد الفعل لإظهار ما بين الخلقين من التفاوت لأن الأول بطريق التفريع من الأصل، والثاني بطريق الإنشاء من المادة فإن المراد من الزوج حواء وهي قد خلقت من ضلع آدم عليه السلام والأيسر كما روي ذلك عن ابن عمر وغيره،وروى الشيخان «استوصوا بالنساء خيرا فإنھن خلقن من ضلع وإن أعوج شيء من الضلع أعلاه فإن ذهبت تقيمه كسرته وإن تركته لم يزل أعوج»وأنكر أبو مسلم خلقها من الضلع لأنه سبحانه قادر على خلقها من التراب فأي فائدة في خلقها من ذلك، وزعم أن معنى منها من جنسها والآية على حد قوله تعالى:جَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْواجاً[النحل: 72] ووافقه على ذلك بعضهم مدعيا أن القول بما ذكر يجر إلى القول بأن آدم عليه السلام كان ينكح بعضه بعضا، وفيه من الاستھجان ما لا يخفى وفي الھامش: وقیل إنها خلقت من فضل طینه ونسب للباقر."

(سورۃ النساء، ج:2، ص:392، ط:دارالکتب العلمیة)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144707100731

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں