
عورتوں کی صلوٰۃ تسبیح کا طریقہ کیا ہے ؟
واضح رہے کہ صلوٰۃ التسبیح دو طریقے سے پڑھی جاسکتی ہے ،جس میں مرد اور عورت دونوں برابر ہیں یعنی دونوں ایک ہی طریقےسے پڑھیں گے ،جس کی ہر رکعت میں 75مرتبہ اور مکمل نماز( یعنی چاروں رکعتوں میں) 300مرتبہ یہ تسبیح پڑھی جاتی ہے("سبحان الله، والحمد لله ولا إله إلا الله، والله أكبر")
(1) پہلاطریقہ : نیت کریں کہ "میں 4 رکعت نفل صلوٰۃ التسبیح پڑھتی ہوں، ثناء(سبحانک اللھم)کے بعد 15 بار تسبیح پڑھیں۔ پھر سورہ فاتحہ اور سورت پڑھنے کے بعد رکوع سے پہلے 10 بار، رکوع میں 10 بار، رکوع سے اٹھ کر (قومہ) میں 10 بار، پہلے سجدے میں 10 بار، جلسہ (دو سجدوں کے درمیان) میں 10 بار، اور دوسرے سجدے میں 10 بار تسبیح پڑھیں۔ (کل 75 بار)، اسی طرح چاروں رکعتیں مکمل کریں۔
(2) دوسرا طریقہ : نیت کریں کہ "میں 4 رکعت نفل صلوٰۃ التسبیح پڑھتی ہوں، ثناء(سبحانک اللھم)کے بعد سورہ فاتحہ اور سورت پڑھنے کے بعد رکوع سے پہلے 15 بار، رکوع میں 10 بار، رکوع سے اٹھ کر (قومہ) میں 10 بار، پہلے سجدے میں 10 بار، جلسہ (دو سجدوں کے درمیان) میں 10 بار، اور دوسرے سجدے میں 10 بار ،دوسرے سجدےکے بعد بیٹھ کر 10بار تسبیح پڑھیں۔ (کل 75 بار)،اس کے بعد "الله أكبر"کہہ کر سیدھی کھڑی ہوجائے،دوسری اور چوتھی رکعت میں التحیات کے بعد اسی تسبیح کو 10بارپڑھیں۔ اسی طرح چاروں رکعتیں مکمل کریں۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله وأربع صلاة التسبيح إلخ) يفعلها في كل وقت لا كراهة فيه،..... يقول فيها ثلثمائة مرة (سبحان الله، والحمد لله ولا إله إلا الله، والله أكبر) ..... يقول ذلك في كل ركعة خمسة وسبعين مرة؛ فبعد الثناء خمسة عشر، ثم بعد القراءة وفي ركوعه، والرفع منه، وكل من السجدتين، وفي الجلسة بينهما عشرا عشرا بعد تسبيح الركوع والسجود،....والرواية الثانية: أن يقتصر في القيام على خمسة عشر مرة بعد القراءة، والعشرة الباقية يأتي بها بعد الرفع من السجدة الثانية،"
(كتاب الصلاة، باب الوتر و النوافل، ج: 2، ص: 27، ط: ايچ ايم سعيد)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"وأما صلاة التسبيح فذكرها في الملتقط يكبر ويقرأ الثناء ثم يقول سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر خمس عشرة مرة ثم يتعوذ ويقرأ فاتحة الكتاب وسورة ثم يقرأ هذه الكلمات عشرا وفي الركوع عشرا وفي القيام عشرا وفي كل سجدة عشرا وبين السجدتين عشرا ويتمها أربع ركعات"
(كتاب الصلاة، الباب التاسع في النوافل، ج: 1، ص: 125، ط: قديمي كتب خانه)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144709100278
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن