
ٹیمپون کے استعمال کا کیا حکم ہے ؟ مکروہ تنزیہی ہے یا مکروہ تحریمی ؟
ٹیمپون ایک لمبی بتی کی شکل میں ہوتا ہے اور اس کو حیض کے خون کو جذب کرنے کے لیے مکمل طور پر فرج داخل(شرم گاہ کے اندر)ڈالا جاتا ہے ،صرف ایک دھاگہ باہر رہ جاتا ہے، یہ چوں کہ بطور علاج حیض کا خون جذب کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ،لہذا خواتین کے لیے اس کے استعمال کی گنجائش ہے ۔
فتاوی شامی میں ہے :
"وفي شرح الوقاية: وضع الكرسف مستحب للبكر في الحيض وللثيب في كل حال، وموضعه موضع البكارة، ويكره في الفرج الداخل. اهـ.
وفي غيره أنه سنة للثيب في الحيض مستحب في الطهر، ولو صلتا بدونه جاز. اهـ ملخصا من البحر وغيره. والكرسف: بضم الكاف والسين المهملة بينهما راء ساكنة القطن. وفي اصطلاح الفقهاء: ما يوضع على فم الفرج."
(كتاب الطهارة، باب الحيض، ج:1، ص:289، ط: سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144712101198
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن