بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کے لیے دس سالہ بچے کے ساتھ سفر کا حکم


سوال

10 سال کا بچہ سفر کے لیے محرم ثابت ہو سکتا ہے؟

جواب

 واضح رہے کہ جو بچہ بالغ ہوچکا ہو یا بلوغت کے قریب ہو ، اس میں آثارِ بلوغت پائے جائیں جسے "مراہق"  کہاجاتا ہے تو یہ عورت کے لیے محرم شمار ہوگا اور اس کے ساتھ سفر کرنا عورت کے لیے جائز ہوگا۔اگر مذکورہ  دس  سال کے بچے میں سمجھ  بوجھ  موجود  ہو  اور آثارِ بلوغت ہوں تو  اس کے ساتھ سفر کرنے کی گنجائش ہے، اور اگر یہ بچہ مراہق (قریب البلوغ)نہیں ہے تو سفر کے لیے یہ محرم شمار نہیں ہوگا، اور اس کے ساتھ شرعی مسافت سفرطے  کرنا درست نہیں ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) مع (زوج أو محرم) ولو عبدا أو ذميا أو برضاع (بالغ) قيد لهما كما في النهر بحثا (عاقل ‌والمراهق ‌كبالغ) جوهرة  ."

(كتاب الحج، ج: 2، ص: 464، ط: سعيد)

البحرا لرائق میں ہے :

"وأراد بالمراهق الذي مثله يجامع، وتتحرك آلته، ويشتهي الجماع، وقدره شمس الإسلام ‌بعشر ‌سنين."

(كتاب الطلاق، باب الرجعة، ج: 4، ص: 61، ط : دارالكتاب الإسلامي)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144709100771

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں