
10 سال کا بچہ سفر کے لیے محرم ثابت ہو سکتا ہے؟
واضح رہے کہ جو بچہ بالغ ہوچکا ہو یا بلوغت کے قریب ہو ، اس میں آثارِ بلوغت پائے جائیں جسے "مراہق" کہاجاتا ہے تو یہ عورت کے لیے محرم شمار ہوگا اور اس کے ساتھ سفر کرنا عورت کے لیے جائز ہوگا۔اگر مذکورہ دس سال کے بچے میں سمجھ بوجھ موجود ہو اور آثارِ بلوغت ہوں تو اس کے ساتھ سفر کرنے کی گنجائش ہے، اور اگر یہ بچہ مراہق (قریب البلوغ)نہیں ہے تو سفر کے لیے یہ محرم شمار نہیں ہوگا، اور اس کے ساتھ شرعی مسافت سفرطے کرنا درست نہیں ہوگا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(و) مع (زوج أو محرم) ولو عبدا أو ذميا أو برضاع (بالغ) قيد لهما كما في النهر بحثا (عاقل والمراهق كبالغ) جوهرة ."
(كتاب الحج، ج: 2، ص: 464، ط: سعيد)
البحرا لرائق میں ہے :
"وأراد بالمراهق الذي مثله يجامع، وتتحرك آلته، ويشتهي الجماع، وقدره شمس الإسلام بعشر سنين."
(كتاب الطلاق، باب الرجعة، ج: 4، ص: 61، ط : دارالكتاب الإسلامي)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144709100771
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن