بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کے لیے ہسپتال میں ملازمت کرنے اور پردے اور نقاب سے متعلق شرعی حکم


سوال

میری بیوی ایک ہسپتال میں ملازمت کرتی ہیں، اور اس ہسپتال کی پالیسی ہے کہ نقاب کی اجازت نہیں ہے، البتہ حجاب کی اجازت ہے؛ کیونکہ آپ ہیلتھ کیئر سے وابستہ ہیں تو پیشنٹ انٹریکشن یعنی مریضوں سے تعامل میں یہ مناسب نہیں سمجھا جاتا کہ آپ نقاب کریں، تاہم حجاب کر سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں دین کی کیا تعلیمات ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ عورتوں کے لیے اصل حکم گھر میں رہنا ہی ہے، اور بلا ضرورت گھر سے نکلنا یا ملازمت اختیار کرنا درست نہیں، بلکہ شریعت میں اسے ناپسند کیا گیا ہے۔ البتہ شدید مجبوری کی صورت میں عورت کے لیے بقدرِ ضرورت ملازمت کرنے کی گنجائش ہے، بشرطیکہ مکمل پردے کا اہتمام ہو، یعنی سر تا پاؤں بشمول ہتھیلیاں اور بالخصوص چہرے کا پردہ ہو؛ اس لیے کہ عورت کا چہرہ ہی اصل مرکزِ حسن، باعثِ کشش اور ذریعۂ فتنہ ہے۔

ليكن عورت کے لیے ایسی جگہ ملازمت کرنا جہاں شرعی پردہ منع ہو یا شرعی پردے کی رعایت نہ ہوپاتی ہو یا اجنبی مردوں کے ساتھ تنہائی کی نوبت آتی ہو یا غیرمردوں کے ساتھ اختلاط لازم آتا ہو، شرعاً جائز نہیں ہے، اس سے احتراز ضروری ہے۔

قرآنِ کریم میں ہے:

"يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْواجِكَ وَبَناتِكَ وَنِساءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلابِيبِهِنَّ ذلِكَ أَدْنى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلا يُؤْذَيْنَ وَكانَ اللَّهُ غَفُوراً رَحِيماً."(سورة الأحزاب، آية:59)

ترجمہ: ”اے نبی ! تم اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی چادریں اپنے (منہ کے) اوپر جھکا لیا کریں۔ اس طریقے میں اس بات کی زیادہ توقع ہے کہ وہ پہچان لی جائیں گی، تو ان کو ستایا نہیں جائے گا۔ اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔“

تفسیر ابن کثیر میں اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ:

”حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمان عورتوں کو حکم دیا ہے کہ جب وہ کسی ضرورت کے تحت اپنے گھروں سے نکلیں تو بڑی چادروں کے ذریعہ اپنے سروں کے اوپر سے اپنے چہروں کو ڈھانپ لیں اور صر ف ایک آنکھ کھلی رکھیں، اور حضرت محمد بن سیرین رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبیدۃ السلمانی سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد {يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلابِيبِهِنَّ} کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اپنے سر اور چہرہ کو ڈھانپ کر اور بائیں آنکھ کھول کر اس کا مطلب  بتلایا۔“

سنن ابو داود میں ہے:

"عن عبد الخبير بن ثابت بن قيس بن شماس، عن أبيه، عن جده، قال: جاءت امرأة إلى النبي صلى الله عليه وسلم يقال لها أم خلاد وهي منتقبة، تسأل عن ابنها، وهو مقتول، فقال لها بعض أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم: جئت تسألين عن ابنك وأنت منتقبة؟ فقالت: إن أرزأ ابني فلن أرزأ حيائي، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ابنك له أجر شهيدين»، قالت: ولم ذاك يا رسول الله؟ قال: «لأنه قتله أهل الكتاب»."

(كتاب الجهاد، باب فضل قتال الروم على غيرهم من الأمم، رقم الحديث:2488، ج:3، ص:5، ط:المكتبة العصرية، بيروت)

ترجمه: ”حضرت قیس بن شماس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت، جس کا نام أم خلاد تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اپنے بیٹے کے بارے میں دریافت کرنے جو کہ جنگ میں شہید ہو چکے تھے، دراں حالیکہ وہ نقاب اوڑھی ہوئی تھی۔ کسی صحابی نے ان سے پوچھا: ”آپ اپنے بیٹے کے بارے میں پوچھنے آئی ہیں (اور بیٹا شہید ہوچکا ہے) اس حالت میں بھی چہرے پر نقاب ڈالے ہوئے ہو؟“ انہوں نے جواب دیا: ”میرا بیٹا تو فوت ہوچکا ہے، لیکن میری حیاء تو فوت نہیں ہوئی۔“

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(فإن خاف الشهوة) أو شك (امتنع نظره إلى وجهها) فحل النظر مقيد بعدم الشهوة وإلا فحرام وهذا في زمانهم، وأما في زماننا فمنع من الشابة قهستاني وغيره."

(کتاب الحظر والإباحة، فصل في النظر والمس، ج:6، ص:370، ط:ايج ايم سعید)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144706101535

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں