بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کے لیے بلا ضرورت نوکری کے لیے گھر سے باہر نکلنا


سوال

میری ہونے والی بہو اپنے مرحوم والد کی خواہش پر سندھ پولیس میں بھرتی ہوئی تھی۔ اب والد صاحب کا انتقال ہو چکا ہے، اور اس ملازمت کی اسے شدید ضرورت بھی نہیں ہے۔ جس لڑکے سے اس کا عقد ہونے والا ہے، وہ کنٹونمنٹ واہ میں ملازم ہے، اور اس کی خواہش نہیں کہ اس کی ہونے والی بیوی پولیس کی ملازمت جاری رکھے، کیونکہ دونوں میاں بیوی ایک ہی جگہ ملازمت نہیں کر سکتے ، ایسی صورتِ حال میں شرعاً کیا حکم ہے؟

کیا اس لڑکی کے لیے ملازمت چھوڑ دینا درست ہے، جبکہ اس کا ہونے والا شوہر پولیس کی نوکری کے حق میں نہیں ہے؟

جواب

شریعتِ مطہرہ نے عورت کے نان و نفقہ کی ذمہ داری اس کے سرپرست پر رکھی ہے یعنی اگر وہ بیٹی ہے تو باپ کے ذمہ اس کے اخراجات اٹھانا لازم ہے، اور اگر وہ ماں ہے تو   اولاد اس کے نان و نفقہ کی ذمہ دار ہے، اور اگر وہ بیوی ہے تو شوہر اس کے اخراجات کا ذمہ دار ہے،  اسی بنا پر بلا ضرورت شدیدہ عورت کا ملازمت کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور محض شوقیہ طور پر ملازمت کرنا درست نہیں ہے،  پس صورت مسئولہ میں نکاح کے بعدبیوی پرشوہر  کی اطاعت واجب ہوگی،  اور شوہر کی اجازت کے بغیر    بیو ی کا ملازمت کے لیے گھر سے باہر نکلنا جائز نہیں  ہوگا ۔

ایک حدیث مبارک میں ہے:

"ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس آئی اور عرض کیا: یا رسول اللہ : شوہر کا بیوی پر کیا حق ہے؟ تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : شوہر کا حق  اس پر یہ ہے کہ وہ اس کی اجازت کے بغیر اپنے گھر سے نہ نکلے، اگر وہ ایسا کرے گی تو آسمان کے فرشتہ اور رحمت وعذاب کے فرشتے  اس پر لعنت بھیجیں گے یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے۔"

الترغيب والترهيب للمنذری:

"وروي عن ابن عباس رضي الله عنهما أن امرأة من خثعم أتت رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالت: يا رسول الله! أخبرني ما حق الزوج على الزوجة؟؛ فإني امرأة أيم فإن استطعت وإلا جلست أيماً! قال: فإن حق الزوج على زوجته إن سألها نفسها وهي على ظهر قتب أن لا تمنعه نفسها، ومن حق الزوج على الزوجة أن لا تصوم تطوعاً إلا بإذنه فإن فعلت جاعت وعطشت ولا يقبل منها، ولا تخرج من بيتها إلا بإذنه فإن فعلت لعنتها ملائكة السماء وملائكة الرحمة وملائكة العذاب حتى ترجع، قالت: لا جرم ولا أتزوج أبداً."

(کتاب النکاح، ج:3، ص:37، ط:دار الکتب العلمیه)

فتاوی شامی  میں ہے:

"فلا تخرج إلا لحق لها أو عليها  أو لزيارة أبويها كل جمعة مرة أو المحارم كل سنة، ولكونها قابلةً أو غاسلةً لا فيما عدا ذلك."

(قوله: فيما عدا ذلك) عبارة الفتح: وأما عدا ذلك من زيارة الأجانب وعيادتهم والوليمة لا يأذن لها ولا تخرج..." إلخ 

(کتاب النکاح ، باب المھر، ج:3، ص:145، ط؛سعید) 

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708100827

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں