بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کے لیے اپنے غلام سے جنسی تعلق کے عدمِ جواز کی وجوہات/ کھجور کھانے کے بعد گھٹلی کا کیا کریں؟


سوال

1.کیوں ایک آقا اپنی مملوکہ (باندی) سے صحبت کر سکتا ہے لیکن ایک عورت اپنے غلام سے اپنی خواہش پوری نہیں کرسکتی؟

2.کھجور کھا نے کے بعد گھٹلی کا کیا کریں؟

جواب

1. اصل یہ ہے کہ بحیثیتِ مسلمان ہم اللہ تعالیٰ کے احکام کے پابند ہیں، شریعت کے احکام کو ان کی حکمت یا فلسفہ سمجھے بغیر ہی ہمیں تسلیم کرناچاہیے۔ البتہ جہاں حکمت واضح ہو جائے، وہاں دل کو مزید اطمینان حاصل ہوتا ہے۔

شریعتِ اسلامیہ میں یہ بات بالاجماع ثابت ہے کہ آقا کا اپنی مملوکہ (باندی) سے تعلق کے برعکس، کسی عورت کا اپنے غلام سے جنسی تعلق قائم کرنا تمام فقہاء کے نزدیک حرام اور باطل ہے۔

عورت کے غلام سے تعلق کی ممکنہ طور پر تین صورتیں بن سکتی ہیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:

1۔ غیر شادی شدہ عورت کا اپنے ہی غلام سے نکاح کرنا:

یہ صورت  شرعاً باطل ہے، جس کی کئی وجوہات اور حکمتیں ہوسکتی  ہیں، ان میں سے دو درج ذیل ہیں:

(الف) ولایت اور قوامیت کا تضاد:

نکاح کا ایک تقاضا یہ ہے کہ مرد عورت پر قوام (نگران و حاکم) ہو، جبکہ غلامی کا تقاضا یہ ہے کہ غلام اپنی مالکہ کے ماتحت اور محکوم ہو،عقل اس بات کو تسلیم نہیں کرتی کہ ایک ہی شخص بیک وقت ایک ہی عورت کا شوہر (حاکم) بھی ہو اور غلام (محکوم) بھی۔ یہ حیثیتوں کا صریح تضاد ہے۔

(ب) حقوق کا ٹکراؤ:

شوہر کو بیوی پر مخصوص حقوق حاصل ہوتے ہیں، جبکہ مالکہ کو غلام پر ملکیت کے حقوق حاصل ہوتے ہیں۔

اگر اس صورت میں نکاح کو درست مان لیا جائے تو شوہر کے حقوق اور مالکہ کے حقوق باہم متصادم ہو جائیں گے، اور ہر فریق کو اپنا حق حاصل کرنے کے لیے دوسرے کے حق کو پامال کرنا پڑے گا؛اسی بنا پر یہ عقدِ نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوتا۔

2۔ غیر شادی شدہ عورت کا بلا نکاح اپنے غلام سے صحبت کرنا(جیسے آقا باندی سے کرتا ہے):

یہ صورت بھی کئی وجوہات کی بنا پر باطل اور حرام ہے، جن میں سے دو درج ذیل ہیں:

(الف) خطاب کی تخصیص:

قرآنِ کریم میں جہاں ملکِ یمین سے تعلق کی اجازت دی گئی ہے، وہاں خطاب صراحتاً مردوں سے ہے،عورت کے لیے اپنی ملکیت میں موجود غلام سے جنسی تعلق کی اجازت پر کوئی نص موجود نہیں۔

(ب) تحفظِ نسب:

آقا جب باندی سے تعلق رکھتا ہے تو پیدا ہونے والا بچہ آقا کی طرف منسوب ہوتا ہے اور آزاد پیدا ہوتا ہے، جس سے باندی کی آزادی کی راہ (ام ولد بننے کے ذریعے) ہموار ہوتی ہے۔

اس کے برعکس، اگر عورت کو اپنے غلام سے تعلق کی اجازت دی جائے تو نسب میں شدید اختلاط اور فساد پیدا ہوگا،اور زنا کی بنیاد پر بچہ بے نسب رہ جاۓ گا،ایسا عمل حفظِ نسب کے سراسر خلاف ہے۔

ایسے ہی موقعہ پر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور میں جب ایک عورت نے غلط تاویل کے تحت اپنے غلام سے تعلق قائم کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اس عمل سے متعلق واضح فرمایا کہ یہ عورت کے لیے کسی حال میں حلال نہیں۔

3۔ شادی شدہ عورت کا اپنے غلام سے خواہش پوری کرنا:

یہ صورت سب سے زیادہ قبیح اور باطل ہے:

(الف) دوہرا جرم:

یہ عمل ایک طرف تو شرعی طور پر زنا ہے،جیسا کہ اس پہلے والی صورت زناہے؛ کیونکہ ملکِ یمین عورت کے لیے جسمانی تعلق کو حلال نہیں کرتا، اوردوسری طرف یہ شوہر کے حقوق کی کھلی اور سنگین خلاف ورزی بھی ہے۔

(ب) خاندانی نظام کی تباہی:

نکاح کا ایک مقصد عفت کی حفاظت اور ایک مستحکم خاندانی نظام کا قیام ہے۔اگر شادی شدہ عورت کو غلام سے تعلق کی اجازت دی جائے تو خاندانی نظام مکمل طور پر مفلوج ہو جائے گا، اور شوہر کی قوامیت و غیرت کا جنازہ نکل جائے گا، جو عقلِ سلیم کے بھی خلاف ہے۔

(ج) نکاح کی روح کے منافی:

شادی شدہ عورت کا حقِ استمتاع صرف اس کے شوہر کے ساتھ خاص ہے۔کسی اور مرد سےخواہ وہ غلام ہی کیوں نہ ہوتعلق قائم کرنا شریعت کے نزدیک بدترین فحاشی اور حرام ہے۔

خلاصہ یہ کہ:

عورت کا اپنے غلام سے تعلق قائم کرنا، خواہ نکاح کی صورت میں ہو یا بلا نکاح،عقلی طور پر حیثیتوں کے تضاد (حاکم اور محکوم کا اجتماع)اور شرعی طور پر قوامیت اور تحفظِ نسب کے اصولوں کے خلاف ہونے کی وجہ سے باطل اور حرام ہے۔

2۔کھجور کھاتے وقت اس کی گھٹلیاں اسی برتن میں نہیں رکھنی چاہئیں جس میں کھجور رکھی ہو، بلکہ انہیں الگ رکھنا بہتر ہے۔ کھجور کھا لینے کے بعد گھٹلیوں کو مناسب جگہ پر پھینکنے میں کوئی حرج نہیں، انہیں پھینکا جا سکتا ہے۔

الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیہ میں ہے:

"لا يمتنع شرعا أن يتزوج العبد حرة، وله أن يجمع بين حرة وأمة، ولكن لا يحل له أن يتزوج سيدته؛ لأن أحكام النكاح تتنافى مع أحكام الملك، فإن كل واحد منهما يقتضي أن يكون الطرف الآخر بحكمه يسافر بسفره ويقيم بإقامته وينفق عليه فيتنافيان؛ ولأن مقتضى الزوجية قوامة الرجل على المرأة بالحفظ والصون والتأديب، والاسترقاق يقتضي قهر السادات للعبيد بالاستيلاء والاستهانة، فيتعذر أن تكون سيدة لعبدها وزوجة له. ولو أن الزوجة الحرة ملكت زوجها العبد انفسخ نكاحهما."

(حرف الراء، رق، ‌‌أنواع الرق، ‌‌النوع الأول، ‌‌أحكام أفعال الرقيق، ‌‌ثانيا: الرقيق وأحكام الأسرة:، ‌‌نكاح الرقيق، ‌‌النوع الثالث: زواج العبد بالحرة، ج: 23، ص: 56، ط: دار السلاسل)

وفیہ ایضا:

"وكذلك إن كان المالك امرأة والمملوك ذكرا فليس لها أن تستمتع به، أو أن تمكنه من الاستمتاع بها، ولا له أن يفعل شيئا من ذلك، بل هو عليها حرام، وهي عليه حرام، سواء أكانت خلية، أو ذات زوج. قال القرطبي: وعلى هذا إجماع العلماء. آه.

وكما لو أرادت أن يتزوجها، فإنها حرام عليه حرمة مؤقتة، أي ما دام رقيقا لها، فإن أعتقته أو باعته جاز لها النكاح بشروطه. وقد نقل ابن المنذر الإجماع على أن نكاح المرأة عبدها باطل. وسواء في هذه الأنواع الثلاثة السابقة الوطء ومقدماته من التقبيل، والمباشرة، واللمس، والنظر بشهوة، كلها محرمة بحسبها.

ووجه خروج هذه الصورة الثالثة (استمتاع المالكة بمملوكها) من دلالة الآية، أن الآية خاطبت الأزواج من الرجال. قال ابن العربي: من غريب القرآن، أن هذه الآيات العشر من أول سورة المؤمنون عامة في الرجال والنساء، إلا قوله تعالى: {والذين هم لفروجهم حافظون} فإنما خاطب بها الرجال خاصة دون الزوجات، بدليل قوله {إلا على أزواجهم أو ما ملكت أيمانهم} وإنما عرف حفظ المرأة فرجها من أدلة أخرى، كآيات الإحصان عموما وخصوصا وغير ذلك من الأدلة ". ونقل ابن كثير عن ابن جرير بسنده عن قتادة أن امرأة اتخذت مملوكها، وقالت: تأولت آية من كتاب الله {أو ما ملكت أيمانهم} قال: فأتي بها عمر رضي الله عنه، فضرب العبد، وجز رأسه  ونقل ابن قدامة عن جابر أن امرأة جاءت إلى عمر بالجابية وقد نكحت عبدها، فانتهرها عمر، وهم أن يرجمها، وقال: لا يحل لك فالوطء الجائز بملك اليمين، هو وطء المالك الذكر لمملوكته الأنثى خاصة، وفي هذا وردت الآية السابقة."

(حرف الراء، رق، ‌‌أنواع الرق، ‌‌النوع الأول، ‌‌أحكام أفعال الرقيق، ‌‌ثانيا: الرقيق وأحكام الأسرة،‌‌الاستمتاع في ملك اليمين، ج: 23، ص: 46، ط: دار السلاسل)

وفیہ ایضا:

"ذهب الفقهاء إلى أنه لا يثبت النسب بالزنا مطلقا، فلم يثبت رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا أحد من أهل العلم بالزنا نسبا، وقال الرسول صلى الله عليه وسلم: الولد للفراش وللعاهر الحجر، والعاهر الزاني، ولأن الزاني ممنوع من الفعل آثم به."

(حرف النون، النسب، ‌‌أسباب النسب، ‌‌ثبوت النسب بالزنا أو عدمه، ج: 40، ط: 237، ط: طبع الوزارة)

نوادر الاصول فی احادیث الرسول:

"ومما يحقق ذلك ما روى أنس رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى أن يجمع بين التمر والنوى وبين الرطب والنوى على الطبق.

وعن أنس رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أتى بطبق من رطب فأكل منه شيئا ثم يلقي النوى من فمه بشماله فمرت به داجنة فناولها إياه فأكلت."

(‌‌الأصل الثامن والثلاثون والمائة في أدب التنزه في المأكول وتناوله، ج: 2، ص: 142، ط: دار الجيل)

فتاویٰ ہندیۃ میں ہے:

"‌بخلاف ‌النواة؛ ‌لأن ‌الناس ‌يرمون ‌النواة ‌فصارت ‌مباحة ‌بالرمي."

(كتاب الكراهية، الباب الحادي عشر في الكراهة في الأكل وما يتصل به، ج: 5، ص: 340، ط: دار الفكر)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144706101695

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں