بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

عورتوں کے اعتکاف میں بیٹھنے کا طریقہ


سوال

عورت کے اعتکاف میں بیٹھنے کا طریقہ ذکر فرما دیں۔

جواب

عورتوں کے لیے بھی اعتکاف کرنا سنت اور باعثِ ثواب ہے۔ عورت کے اعتکاف کا طریقہ یہ ہے کہ جب وہ رمضان المبارک کے عشرۂ اخیرہ کا مسنون اعتکاف کرنا چاہے تو رمضان شریف کی بیسویں تاریخ کو سورج غروب ہونے سے پہلے مسنون اعتکاف کی نیت سے اپنے گھر کی مسجد، یعنی وہ جگہ جو گھر میں نماز، ذکر، تلاوت اور دیگر عبادات کے لیے متعین کر لی گئی ہو، میں بیٹھ جائے۔ اگر گھر میں عبادت کے لیے پہلے سے کوئی خاص جگہ مقرر نہ ہو تو اعتکاف کے لیے گھر کے کسی کونے یا مخصوص حصے میں چادر یا بستر وغیرہ بچھا کر ایک جگہ مختص کر لی جائے، پھر اسی جگہ اعتکاف کیا جائے۔ اور جب عید کا چاند نظر آ جائے تو اعتکاف ختم کر کے اس جگہ سے باہر آ جائے۔

عورتوں کے لیے گھر کی مسجد کا حکم بالکل اسی طرح ہے جس طرح مردوں کے لیے جامع مسجد یا مسجدِ شرعی کا ہے۔

اعتکاف کی حالت میں عورت دن رات اسی مقررہ جگہ میں رہے؛ وہیں کھائے پیئے اور وہیں سوئے۔ صرف وضو کرنے اور ضرورتِ بشری (مثلاً بیت الخلا جانے یا غسل واجب ہو جانے کی صورت میں غسل کرنے) کے لیے اعتکاف کی جگہ سے باہر آ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ کھانا پکانے یا گھر کے دیگر کاموں کے لیے باہر نہیں نکل سکتی؛ کیونکہ اس سے اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔ البتہ اگر اس کے لیے باہر سے کھانا لانے والا کوئی نہ ہو تو وہ اپنے لیے کھانا لینے کی غرض سے باہر جا سکتی ہے، لیکن کھانا لے کر فوراً واپس آ جائے اور باہر نہ رکے، ورنہ اعتکاف فاسد ہو جائے گا۔

تاہم عورت اپنی اعتکاف گاہ کے اندر رہتے ہوئے گھر کے بعض کام (مثلاً آٹا گوندھنا، کھانا پکانا، کپڑے دھونا وغیرہ) انجام دے سکتی ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ اعتکاف میں بیٹھنے سے پہلے ان امور کے لیے متبادل انتظام کر لے، تاکہ پوری یکسوئی کے ساتھ اس عبادت کو اس کی روح اور مقصد کے مطابق ادا کیا جا سکے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما المرأة فذكر في الأصل أنها لا تعتكف إلا في مسجد بيتها ولا تعتكف في مسجد جماعة وروى الحسن عن أبي حنيفة أن للمرأة أن تعتكف في مسجد الجماعة وإن شاءت اعتكفت في مسجد بيتها، ومسجد بيتها أفضل لها من مسجد حيها ومسجد حيها ‌أفضل ‌لها ‌من ‌المسجد ‌الأعظم وهذا لا يوجب اختلاف الروايات، بل يجوز اعتكافها في مسجد الجماعة على الروايتين جميعا بلا خلاف بين أصحابنا والمذكور في الأصل محمول على نفي الفضيلة لا على نفي الجواز توفيقا بين الروايتين وهذا عندنا."

(كتاب الاعتكاف، فصل شرائط صحة الاعتكاف، ج:2، ص:113، ط:ایج ایم سعید)

المبسوط سرخسی میں ہے:

"(قال): ولا تعتكف المرأة إلا في مسجد بيتها، وقال الشافعي - رحمه الله تعالى -: لا اعتكاف إلا في مسجد جماعة، الرجال والنساء فيه سواء، قال: لأن مسجد البيت ليس له حكم المسجد ؛ بدليل جواز بيعه، والنوم فيه للجنب والحائض، وهذا؛ لأن المقصود تعظيم البقعة، فيختص ببقعة معظمه شرعاً، وذلك لا يوجد في مساجد البيوت.(ولنا) أن موضع أداء الاعتكاف في حقها الموضع الذي تكون صلاتها فيه أفضل، كما في حق الرجال، وصلاتها في مسجد بيتها أفضل فإن النبي صلى الله عليه وسلم لما «سئل عن أفضل صلاة المرأة؟ فقال: في أشد مكان من بيتها ظلمة»."

(کتاب الصوم، باب الاعتكاف، ج:3، ص:119، ط:دار المعرفة، بيروت)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"والمرأة تعتكف في مسجد بيتها إذا اعتكفت في مسجد بيتها فتلك البقعة في حقها كمسجد الجماعة في حق الرجل لا تخرج منه إلا لحاجة الإنسان كذا في شرح المبسوط للإمام السرخسي. ولو اعتكفت في مسجد الجماعة جاز ويكره هكذا في محيط السرخسي. والأول أفضل، ومسجد حيها أفضل لها من المسجد الأعظم، ولها أن تعتكف في غير موضع صلاتها من بيتها إذا اعتكفت فيه كذا في التبيين. ولو لم يكن في بيتها مسجد تجعل موضعا منه مسجدا فتعتكف فيه كذا في الزاهدي."

(کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتكاف، ج:1، ص:211، ط:المكتبة الرشيدية كوئته)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708102416

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں