بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کے بدلہ عورت دے کر صلح کرنے کا حکم


سوال

ایک شادی شدہ مرد ہے جس کی پہلے سے  دو شادیاں  ہیں، اور ایک  شادی شدہ عورت تیرہ سالہ بچی سمیت اس مرد کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔

شریعتِ مطہرہ میں اس کے بارا میں کیا حکم ہے؟

دوسری اہم بات کہ پشتو روایات کے مطابق اب اس عورت والوں کی طرف سے یا مرد والوں کے ساتھ صلح کی کوئی گنجائش  ہو سکتی ہے  پیسوں کے مد میں، یا عورت کےبدلے  عورت کی شکل میں ۔

تو کیا شریعت اس کی اجازت دیتی ہے؟

جواب

واضح رہے  کہ  شادی شدہ عورت کا کسی غیر مرد کے ساتھ بھاگ جانا شرعاً حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔ جب تک عورت اپنے شوہر کے نکاح میں ہے، کسی دوسرے مرد سے اس کا  نکاح باطل ہے  ، اور جنسی تعلق خالص زنا اور حرام ہے۔

صورتِ مسئولہ  میں چوں کہ مذکورہ عورت  کے شوہر نے اس کو طلاق نہیں دی اس لیے وہ اپنی بیوی کو اپنے نکاح میں رکھ سکتا ہے ،نیز  عورت کے بدلے بغیر نکاح کیے عورت دینا جائز نہیں ہے؛لہذا پیسے یاعورت کے بدلہ عورت دے کر  صلح کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

فقط واللہ علم


فتویٰ نمبر : 144708100553

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں