
آج کے جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح (crime rates) کو دیکھتے ہوئے، کیا ضرورت کے تحت ایک مرد خواتین کودفاعِ ذات (self-defense) سکھا سکتا ہے، اگر غیر ضروری لمس ( touch) نہ ہو اور مقصد صرف حفاظت و تربیت ہو؟ خصوصاً جب ساتھ ایک خاتون عملی مشق (practical implementation) بھی کر رہی ہو، چاہے خواتین پردہ کر رہی ہوں یا نہیں، کیوں کہ ادارے (organization) کے لیے سب کو پردہ کروانا ممکن نہیں ہوتا؟
واضح رہے کہ شرعی حدود میں رہتے ہوئے عورت کا اپنے دفاع اور ذاتی تحفظ (self-defense) کے لیے تربیت لینا جائز ہے۔
البتہ صورتِ مسئولہ میں چوں کہ دیگر مفاسد کے ساتھ ساتھ مرد و عورت کاغیر ضروری اختلاط بھی پایا جارہا ہے، اس لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے باوجود بھی جائز نہیں ہے۔
"الموسوعة الفقهية الكويتية"میں ہے:
"اختلاط الرجال بالنساء: يختلف حكم اختلاط الرجال بالنساء بحسب موافقته لقواعد الشريعة أو عدم موافقته، فيحرم الاختلاط إذا كان فيه:
أ - الخلوة بالأجنبية، والنظر بشهوة إليها.
ب - تبذل المرأة وعدم احتشامها.
ج - عبث ولهو وملامسة للأبدان كالاختلاط في الأفراح والموالد والأعياد، فالاختلاط الذي يكون فيه مثل هذه الأمور حرام، لمخالفته لقواعد الشريعة.
قال تعالى:{قل للمؤمنين يغضوا من أبصارهم} . . . {وقل للمؤمنات يغضضن من أبصارهن}.
و قال تعالى عن النساء:{ولا يبدين زينتهن}وقال:{إذا سألتموهن متاعا فاسألوهن من وراء حجاب}. و يقول النبي صلى الله عليه وسلم: لا يخلون رجل بامرأة فإن ثالثهما الشيطان و قال صلى الله عليه وسلم لأسماء بنت أبي بكر يا أسماء إن المرأة إذا بلغت المحيض لم يصلح أن يرى منها إلا هذا وهذا وأشار إلى وجهه وكفيه ... و يجوز الاختلاط إذا كانت هناك حاجة مشروعة مع مراعاة قواعد الشريعة."
(اختلاط، ج:2، ص:290-291، ط:وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية - الكويت)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144801101600
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن