بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

والدہ کے ساتھ بدسلوکی کا شرعی حکم


سوال

میرا شوہر مجھے نان و نفقہ نہیں دے رہا تھا، جس کی وجہ سے میں نے اس سے خلع لے لیا۔ پھر پانچ سال تک میں مزدوری کرتی رہی اور کرائے کے مکان میں زندگی بسر کرتی رہی۔

میرے سابق شوہر، جس سے میں نے خلع لیا تھا، ان کا ذہنی توازن بگڑ چکا تھا۔ میرے چھوٹے چھوٹے بچے تھےجنہیں میرے بھائی (اعجاز) نے اپنی نگرانی میں رکھا ہوا تھا۔ جب بچے کچھ بڑے ہونے لگے تو اس نے انہیں الگ فلیٹ میں رکھ دیا۔ جب میں نے اس سے پوچھا کہ بچے کہاں ہیں؟ تو وہ کہنے لگا کہ بچے آپ سے ملنا نہیں چاہتے۔ مزید یہ کہ اس نے مجھے مارا پیٹا اور رات بارہ بجے مجھے گھر سے نکال دیا۔

پھر جب مجھے معلوم ہوا کہ والدین کے گھر میں بیٹی کا بھی حصہ ہوتا ہے تو میں واپس آگئی، اور اب بہت ہمت کے ساتھ اسی گھر میں رہ رہی ہوں۔ لیکن جب میں اپنے بچوں کو دیکھتی ہوں تو میرا بھائی ان سے گھر کا سارا کام کرواتا ہے، حتیٰ کہ جھاڑو بھی لگواتا ہے، اور میرے بچے اس کی ہر بات مانتے ہیں۔ جب وہ میرے سامنے آتے ہیں تو میرے ساتھ بہت بدتمیزی سے پیش آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم اپنا حق آپ کو نہیں دیں گے بلکہ اپنے ماموں کو دیں گے۔ اس بات سے مجھے بہت دکھ ہوتا ہے، کیونکہ میرا بیٹوں کے علاوہ کوئی سہارا نہیں ہے۔

آپ حضرات سے التماس ہے کہ مجھے ایسا طریقہ بتا دیجیے کہ مجھے غلط قدم اُٹھانا نہ پڑے اور بچے  میرے ساتھ آ جائیں۔

جواب

واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ نے والدین کے  احترام وحسن سلوک، اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنا اولاد پر لازم قرار دیا ہے، اور مباحات میں  ان کی نافرمانی اور گستاخی  کرنے اور انہیں تکلیف دینےکوناجائز اور سخت گناہ  قرار دیا ہے، کیونکہ والدین کی گستاخی دنیا اور آخرت میں تباہی و بربادی کا باعث ہے۔ اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں جہاں اپنی بندگی کا حکم دیاہے وہیں والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم بھی فرمایا ہے اور اپنے شکر کے ساتھ والدین کے شکر کرنے کا بھی حکم دیا ہے، چناں چہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

'' وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْناً عَلىٰ وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ۔" (سورۃ لقمان، الآیة : 23، 24)

ترجمہ:اور ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق تاکید کی ہے اس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا اور دو برس میں اس کا دودھ چھڑانا ہے تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کرے میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے(ترجمہ لاہوری )

خاص کر جب والدین محتاج  یا بوڑھے ہوجائیں تو ایسی حالت میں بھی شریعت نےغصہ و ناراضگی میں زبان سے والدین کو ’’اف‘‘ تک کا لفظ (کہ جس سے ان کو تکلیف ہو) کہنے سے منع کیا ہے یعنی والدین کو ایذا دینا تو در کنار!  ایسا لفظ جس سے انہیں تکلیف ہو زبان پر لانے سے بھی منع  فرمایاہے، چناں چہ قرآن کریم میں ہے:

"وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًاۚ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا۔" (سورۃ الإسراء، الآیة: 23، 24)

ترجمہ''اور تیرا رب فیصلہ کر چکا ہے اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو اور اگر تیرے سامنے ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف بھی نہ کہو اور نہ انہیں جھڑکو اور ان سے ادب سے بات کرو اور ان کے سامنے شفقت سے عاجزی کے ساتھ جھکے رہو اور کہو اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما(ترجمہ لاہوری)

نیز حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے  والدین سے اچھے سلوک اور اچھا معاملہ کرنے کا حکم فرمایا ہے اور ان کی نافرمانی سے روکا ہے اور جو اولاد ماں یا باپ کی نافرمانی کرے ان کے لیے دنیا و آخرت کے حولے سے سخت وعیدات بیان فرمائی ہیں، حتی کہ متعدد احادیث میں یہ وارد ہے کہ شبِ قدر جیسی مبارک رات( جس میں اللہ تعالیٰ کی مغفرت، بخشش و رحمت بالکل عام ہوتی ہے)   بجز چار قسم کے افراد کے اللہ تعالیٰ سب امتِ مسلمہ کی مغفرت فرمادیتا  ہے، ان چار قسم کے لوگوں میں ایک شخص والدین کی نافرمانی کرنے والا بھی ہے۔

   لہذاصورت مسئولہ میں  اولاد کا والدہ کے   ساتھ مذکورہ  رویہ اور سلوک  ناجائز  اور کبیرہ گناہ ہے،  جس کا خمیازہ آخرت کے علاوہ دنیا میں  بھی بھگتنا پڑسکتاہے،۔ اس لیےسائلہ کے بیٹوں پر لازم ہے کہ اپنے اس رویے سے باز آجائیں، اللہ تعالیٰ سے صدقِ دل سے توبہ و استغفار کریں، اور والدہ سے معافی مانگ لیں۔ نیز والدہ کی خدمت کریں، ان کے بڑھاپے میں ان کا سہارا بنیں، جیسا کہ بچپن میں وہ ان کا سہارا بنی تھیں اور مشقتیں اٹھا کر اسے پالا تھا، اور ان کی خدمت کو اپنے لیے سعادت کا باعث سمجھیں۔

اور سائلہ  کو بھی چاہیے کہ وہ اس معاملے میں صبر، حکمت اور شفقت کے ساتھ کام لے، اور اپنی اولاد کے لیے بجائے بددعا کرنے کے   ہدایت  کے لیے دعاگو رہے۔ نیز ہر نماز کے بعد (وَأَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ) پڑھے، پڑھتے وقت "ذُرِّيَّتِي" کے لفظ پر اپنی اولاد کا خیال رکھے، ان شاء اللہ اولاد فرمانبردار ہو جائے گی، اور ان کے ساتھ محبت، شفقت، نرمی اور خیرخواہی کا معاملہ کرے تاکہ بچوں کے دلوں میں ماں کی محبت  پیدا ہو۔

نیز مسئولہ صورت میں سائلہ کے بھائی کا رویہ بھی حق تلفی پر مبنی ہے سائلہ کی اولاد کو اس سے متنفر کرنا انتہائی غلط حرکت  ہے اس کو اپنے اس طرزِ عمل سے  نا صرف  باز آ جانا چاہیے،بلکہ سائلہ سے معافی مانگنے کے بعد اللہ کے حضور بھی توبہ واستغفار کرنا چاہیے۔

مشکوۃ المصابیح میں ہے:

2- "عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من أصبح مطیعاً لله في والدیه أصبح له بابان مفتوحان من الجنة وإن کان واحداً فواحداً، ومن أصبح عاصیاً لله في والدیه أصبح له بابان مفتوحان من النار، إن کان واحداً فواحداً، قال رجل: وإن ظلماه؟ قال: وإن ظلماه وإن ظلماه وإن ظلماه. رواه البیهقي في شعب الإیمان".

( کتاب الآداب، باب البر والصلة، الفصل الثالث، ص: 421، ط: قدیمی)

ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ  رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے  فرمایا: جس شخص نے اس حالت میں صبح کی کہ وہ ماں باپ کے حق میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرنے والا ہے، یعنی: اس نے ماں باپ کے حقوق ادا کر کے اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کی ہے تو وہ اس حال میں صبح کرتا ہے کہ اس کے لیے جنت کے دو دروازے کھلے ہوتے ہیں اور اگر اس کے ماں باپ میں سے کوئی ایک زندہ ہو کہ جس کی اس نے اطاعت اور فرمانبرداری کی ہے تو ایک دروازہ کھولا جاتا ہے، اور جس شخص نے اس حالت میں صبح کی کہ وہ ماں باپ کے حق میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے والا ہے( یعنی: اس نے ماں باپ کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی اور تقصیر کر کے اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کی ہے) تو وہ اس حال میں صبح کرتا ہے کہ اس کے لیے دوزخ کے دو دروازے کھلے ہوتے ہیں، اور اگر ماں باپ میں سے کوئی ایک زندہ ہو کہ جس کی اس نے نافرمانی کی ہے تو ایک دروازہ کھولا جاتا ہے۔ یہ ارشاد سن کر ایک شخص نے عرض کیا کہ اگرچہ ماں باپ اس پر ظلم کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! اگرچہ  ماں باپ اس پر ظلم ہی کیوں نے کریں،اگرچہ  ماں باپ اس پر ظلم ہی کیوں نے کریں،اگرچہ  ماں باپ اس پر ظلم ہی کیوں نہ کریں۔

(مظاہر حق، ج: 4، صفحہ: 486، ط: دارالاشاعت)

دوسری حدیث میں  ہے:

4- "عن أبي أمامة، أنّ رجلا قال: يا رسول اللّه، ما حق الوالدين على ولدهما؟ قال: «هما جنتك ونارك»".

(مشکاۃ المصابیح، باب البر والصلة، ج: 2، ص: 421، ط: قدیمی)

         ترجمہ:  حضرت ابو  امامہ رضی  اللہ  عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ! اولاد پر ماں باپ کا کیا حق ہ؟حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ماں باپ تمہارے لیے جنت بھی اور دوزخ بھی۔

(مظاہر حق، ج:4، صفحہ: 485، ط: دارالاشاعت)

اعمالِ قرآنی میں ہے:

''وَأَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ (الأحقاف: 15)، خاصیت: جس کی اولاد نافرمان ہو، وہ اس آیت کو ہر نماز کے بعد پڑھا کرے، ان شاء اللہ تعالیٰ صالح ہو جائے گی، پڑھنے کے وقت "ذُرِّيَّتِي" کے لفظ پر اپنی اولاد کا خیال رکھے۔''

(اعمالِ قرآنی، ص: 31، مکتبہ دارالاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711101370

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں