بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کا کپڑوں کی نمائش اور کمپنی کی تشہیر کے لیے کمپنی کے کپڑے پہن کر تصویر کھچوانے کا حکم۔ عورت کے لیے ملازمت/ نوکری کرنے کا حکم اور جواز کی شرائط


سوال

1۔کیا عورت کا اس طرح ملازمت کرنا کہ مثلا کپڑے کی کمپنی ہے اس میں مختلف قسم کے کپڑوں (با پردہ لباس اور بے پردہ لباس) کی نمائش کے لیے عورت  کپڑوں کو پہن کر کے تصویر بنواتی ہے اور پھر اس کے ذریعے اس کپڑے کی اور کمپنی کی تشہیر ہوتی ہے، کیا اس طرح کی ملازمت کرنا جائز ہے؟

2۔ شریعت عورت کو کن کن حالات میں ملازمت کرنے کی اجازت دیتی ہے؟ کس طرح ملازمت کی جا سکتی ہے؟

جواب

1۔صورت مسئولہ میں عورت کا کمپنی کی تشہیر اور کپڑوں کی نمائش کے لیے کمپنی کے کپڑے پہن کر تصویر کھچوانا جائز نہیں ہے، کیوں کہ اس کی وجہ سے عورت بے پردگی اور جاندار کی تصویر سازی کی مرتکب ہوگی جو کہ شرعا ً ناجائز ہے، اس لیے عورت کا اس کام کے لیے ملازمت کرنا جائز نہیں ہے۔ 

قرآن مجیدمیں ہے:

"وَلا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلاَّ لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ"(سورة النور، الآية:31)

"ترجمہ:اوراپنی زینت کے(مواقعہ مذکورہ) کو (کسی پر) ظاہر نہ ہونے دیں مگر اپنے شوہروں پر یا (اپنےمحارم پریعنی) باپ پر یا اپنے شوہرکے باپ پر یا اپنے بیٹوں پر یا اپنے شوہروں کے بیٹوں پر یا اپنے (حقیقی، علاتی اور اخیافی بھائیوں اپنے بھائیوں کے بیٹوں پر یا اپنی حقیقی، علاتی اور اخیافی بہنوں کے بیٹوں پر)." {ازبیان القرآن للتھانویؒ}

مسلم شریف میں ہے:

"عن سعيد بن أبي الحسن ، قال:‏‏‏‏ جاء رجل إلى ابن عباس ، فقال:‏‏‏‏ إني رجل أصور هذه الصور فأفتني فيها؟ فقال له:‏‏‏‏ ادن مني، فدنا منه، ‏‏‏‏‏‏ثم قال:‏‏‏‏ ادن مني، فدنا حتى وضع يده على رأسه، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ أنبئك بما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏يقول:‏‏‏‏ " كل مصور في النار يجعل له بكل صورة صورها نفساً فتعذبه في جهنم"، ‏‏‏‏‏‏وقال:‏‏‏‏ إن كنت لا بدّ فاعلاً فاصنع الشجر، ‏‏‏‏‏‏وما لا نفس له."

(كتاب اللباس والزينة،باب لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب ولا صورة، 3/ 1670، ط: دار إحياء التراث العربي)

ترجمہ: "سعید بن ابی الحسن سے روایت ہے، ایک شخص عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں یہ تصویریں  بناتا ہوں، اس بارے میں مجھے فتویٰ دیجیے!  سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میرے قریب ہو، وہ ہوگیا، پھر انہوں نے فرمایا: قریب ہوجاؤ، چناں چہ وہ اور نزدیک ہوگیا، یہاں تک کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھا اور فرمایا: میں تجھ سے کہتا ہوں وہ جو میں نے سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”ہر ایک تصویر بنانے والا جہنم میں جائے گا اور ہر ایک تصویر کے بدل ميں ایک جان داربنایا جائے گا جو تکلیف دے گا اس کو جہنم میں۔“ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اگر تو نے بنانا ہی ہے تو درخت کی یا کسی اور بےجان چیز کی تصویر بنا۔"

عمدۃ القاری میں ہے :

"وفي التوضيح قال أصحابنا وغيرهم تصوير صورة ‌الحيوان ‌حرام ‌أشد ‌التحريم وهو من الكبائر وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره فحرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله وسواء كان في ثوب أو بساط أو دينار أو درهم أو فلس أو إناء أو حائط وأما ما ليس فيه صورة حيوان كالشجر ونحوه فليس بحرام وسواء كان في هذا كله ما له ظل وما لا ظل له."

(كتاب اللباس،باب عذاب المصورين،70/22ط:دار الفكر بيروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"وأما فعل التصوير فهو غير جائز مطلقا لأنه مضاهاة لخلق الله تعالى كما مر." 

(کتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، 650/1، ط:سعيد)

مبسوط سرخسی میں ہے:

"ولا تجوز ‌الإجارة على شيء من الغناء والنوح والمزامير والطبل وشيء من اللهو؛ لأنه معصية والاستئجار ‌على ‌المعاصي ‌باطل فإن بعقد الإجارة يستحق تسليم المعقود عليه شرعا ولا يجوز أن يستحق على المرء فعل به يكون عاصيا شرعا."

(كتاب الإجارات،باب الإجارة الفاسدة،ج16،ص38،ط:دار المعرفة)

2۔واضح رہے کہ  شریعتِ مطہرہ  میں عورت کو پردہ میں رہنے کی بہت تاکید کی ہوئی ہے اور عورت کے بلا ضرورت اپنے گھر سے نکلنے کو سخت نا پسند کیا گیا ہے،کیوں کہ یہ بہت سی خرابیوں اور مفاسد کا باعث بنتا ہے، چناں چہ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ عورت چھپانے کی چیز ہے، جب وہ گھر سے نکلتی ہے تو شیطان اسے مردوں کی نظروں میں مزیّن  کر کے دکھاتا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے لوگوں کو گمراہ کرے، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے معاملہ میں بھی یہ پسند فرمایا کہ عورتیں اپنے گھروں میں ہی نماز پڑھیں اور اسی کی ترغیب دی، چنانچہ مسند احمد میں حضرت ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہ کی بیوی حضرت امّ حمید الساعدی رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ: یارسول اللہ! مجھے آپ کے پیچھے (مسجدِ نبوی میں) نماز پڑھنا محبوب ہے، تو جنابِ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے معلوم ہے کہ تمہیں میرے ساتھ نماز پڑھنا محبوب ہے، مگر تمہارا اپنے گھر کے کمرے میں نماز پڑھنا گھر کے صحن میں نماز پڑھنے سے بہترہے، اور گھر کے صحن میں نماز پڑھنا گھر کے احاطے میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے، اور احاطے میں نماز پڑھنا اپنے محلے کی مسجد میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے، اور اپنے محلے کی مسجد میں نماز پڑھنا میری مسجد (میرے ساتھ) نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ: حضرت اُمِ حمید الساعدی رضی اللہ عنہا نے یہ ارشاد سن کر اپنے گھر کے لوگوں کو حکم دیا کہ گھر کے سب سے دُور اور تاریک ترین کونے میں ان کے لیے نماز کی جگہ بنادی جائے، چنانچہ ان کی ہدایت کے مطابق جگہ بنادی گئی، وہ اسی جگہ نماز پڑھا کرتی تھیں، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ سے جاملیں۔

چناں چہ شریعتِ مطہرہ نے عورت کے نان و نفقہ کی ذمہ داری بھی شادی ہونے سے پہلے (ذاتی مال نہ ہونے کی صورت میں) والد پر اور شادی ہونے کے بعد مطلقاً شوہر پر رکھی ہے،  تاکہ عورت کو نان و نفقہ کے انتظام کے لیے مردوں کی طرح گھر سے نکلنا نہ پڑے، لہٰذا عورت کے لیے شوقیہ بلا ضرورت نوکری اور ملازمت کرنے کے لیے گھر سے نکلنا جائز نہیں ہے،  البتہ اگر کسی خاتون کو شدید مجبوری لاحق ہو یعنی نان و نفقہ کا انتظام نہ ہو اور کوئی دوسرا کمانے والا نہ ہوتو ایسی صورت میں ملازمت اور نوکری کے لیے عورت کا گھر سے نکلنا جائز ہوگا، لیکن اس میں بھی یہ ضروری ہے کہ عورت نوکری/ ملازمت کے لیے آنے جانے اور ملازمت کی جگہ پر مکمل شرعی پردے کا اہتمام کرے، بلا ضرورت نا محرم مردوں سے بات چیت،  گپ شپ اور بے تکلفی سے پرہیز کرے، نیز ایسی جگہ ملازمت نہ کرے جہاں کسی نامحرم کے ساتھ تنہائی میں وقت گزارنا پڑے ۔ لہٰذا مجبوری کی صورت میں بھی عورت کے لیے پردے کے بغیر ملازمت کے لیے آنا جانا، دفاتر وغیرہ میں شرعی پردے کے بغیر کام کرنا اور نامحرم مردوں کے ساتھ اختلاط اور بے تکلفی والا رویّہ رکھنا جائز نہیں ہے۔

قرآن کریم میں ارشاد خداوندی ہے:

" وَعَلَى ٱلْمَوْلُودِ لَهُۥ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِٱلْمَعْرُوفِ ۚ ."(سورۃ البقرۃ :233)

"اور  جس کا بچہ ہے اس کے ذمہ ہے ان کا کھانا او  ر کپڑا  قاعدہ کے موافق۔"(بیان القرآن) 

اسی طرح ایک اور آیت میں ہے:

" وَقَرْنَ فِى بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ ٱلْجَٰهِلِيَّةِ ٱلْأُولَىٰ ."(سورة الاحزاب :33)

"تم اپنے گھر میں قرار سے رہو اور قدیم زمانہ جاہلیت کے دستور کے موافق مت پھرو۔"(آسان بیان القرآن)

روح المعانی ميں ہے :

"والمراد علی جمع القراءات أمرهن رضی اللہ تعالی عنھن بملازمة البیوت وهو أمر مطلوب من سائرالنساء، وأخرج الترمذی والبزار عن ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنه عن النبیصلی اللہ علیه وسلم قال : إن المرأۃ عورۃ فإذا خرجت من بیتھا استشرفھا الشیطان و أقرب ما تکون من رحمة ربّھا وهي في قعر بیتھا."

(ج: 11،ص: 253 ،ط: دارالإحياء التراث العربي)

المستدرك للحاكم میں ہے:

" عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم ، قال : صلاة المرأة في بيتها أفضل من صلاتها في حجرتها ، وصلاتها في مخدعها أفضل من صلاتها في بيتها."

(‌‌كتاب الطهارة، ‌‌ومن كتاب الإمامة، وصلاة الجماعة، ج: 1، ص: 324، ط: دار الكتب العلمية)

مسند أحمد میں ہے:

"حدثنا هارون، حدثنا عبد الله بن وهب، قال: حدثني داود بن قيس، عن عبد الله بن سويد الأنصاري، عن عمته ‌أم ‌حميد امرأة أبي حميد الساعدي، أنها جاءت النبي صلى الله عليه وسلم، فقالت: يا رسول الله، إني أحب الصلاة معك؟ قال: " قد علمت أنك تحبين الصلاة معي، وصلاتك في بيتك خير لك من صلاتك في حجرتك، وصلاتك في حجرتك خير من صلاتك في دارك، وصلاتك في دارك خير لك من صلاتك في مسجد قومك، وصلاتك في مسجد قومك خير لك من صلاتك في مسجدي ". قال: فأمرت فبني لها مسجد في أقصى شيء من بيتها وأظلمه، فكانت تصلي فيه حتى لقيت الله عز وجل."

(‌‌‌‌مسند النساء،حديث ‌أم ‌حميد،ج:45، ص:37، رقم الحدیث:27090، ط:مؤسسة الرسالة)

صحیح  مسلم  میں ہے:

"عن عمرة بنت عبد الرحمن، أنها سمعت عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم تقول: «لو أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رأى ما أحدث النساء لمنعهن المسجد كما منعت نساء بني إسرائيل». قال: فقلت لعمرة: أنساء بني إسرائيل منعن المسجد؟ قالت: «نعم»".

(کتاب الصلاۃ، باب منع نساء بنی اسرائیل المسجد، ج:1، ص:328، ط:دار إحياء التراث العربي – بيروت)

مرقاة المفاتيح میں ہے:

"وعنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «المرأة عورة فإذا خرجت استشرفها الشيطان» . رواه الترمذي.

(عنه) أي عن ابن مسعود (عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: المرأة عورة فإذا خرجت) أي من خدرها (استشرفها الشيطان) أي زينها في نظر الرجال وقيل: أي نظر إليها ليغويها ويغوي بها والأصل في الاستشراف رفع البصر للنظر إلى الشيء وبسط الكف فوق الحاجب والعورة السوأة وكل ما يستحى منه إذا ظهر، وقيل أنها ذات عورة والمعنى أن المرأة غيرها بها فيوقعها أو أحدهما في الفتنة أو يريد بالشيطان شيطان الإنس من أهل الفسق أي إذا رأوها بارزة استشرفوها بما بثه الشيطان في نفوسهم من الشر ومحتمل أنه رآها الشيطان فصارت من الخبيثات بعد أن كانت من الطيبات. (رواه الترمذي)."

(باب النظر، جلد 5 ص:2054، ط: دار الفکر بیروت) 

فتاوی شامی میں ہے:

"ولأن ‌النساء أمرن بالقرار في البيوت فكان مبنى حالهن على الستر.وإليه أشار النبي  صلى الله عليه وسلم حيث قال «كيف يفلح قوم تملكهم امرأة»."

(کتاب الصلوۃ، باب الإمامة، ج:1، ص:548، ط: دارالفکر)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وأما الإناث فليس للأب أن يؤاجرهن في عمل، أو خدمة كذا في الخلاصة ... ونفقة الإناث واجبة مطلقا على الآباء ما لم يتزوجن إذا لم يكن لهن مال كذا في الخلاصة."

(کتاب الطلاق، الباب السابع عشر فی النفقات، ج:1، ص:562،563، ط: دارالفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701101537

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں