بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ربیع الاول 1444ھ 02 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

اولاد کی بندش کے لیے دوا یا کنڈم استعمال کرنا


سوال

شوہر اور بیوی اپنی رضامندی سے اولاد کی بندش  کے لیے کوئی دوا استعمال کریں یا کنڈوم وغیرہ استعمال کریں تو اس سے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ کثرتِ اولاد ترغیباتِ  شریعت میں سے ہونے کے ساتھ ساتھ نکاح کے من جملہ مقاصد میں سے ایک اہم مقصد بھی ہے ؛ اس لیے بلاضرورت کوئی بھی ایسا ذریعہ استعمال کرنا جو مانعِ حمل ہو   ناپسندیدہ عمل ہے، تاہم اگر عورت کمزور ہو اور اس کی صحت حمل کی متحمل نہ ہو تو عارضی طور پر کنڈم یا کسی بھی مانع حمل تدبیر کے اختیار کرنے کی گنجائش ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(ويعزل عن الحرة) وكذا المكاتبة، نهر بحثاً، (بإذنها)، لكن في الخانية أنه يباح في زماننا؛ لفساده، قال الكمال: فليعتبر عذراً مسقطاً لإذنها، وقالوا: يباح إسقاط الولد قبل أربعة أشهر ولو بلا إذن الزوج، (وعن أمته بغير إذنها) بلا كراهة. (قوله: قال الكمال) عبارته: وفي الفتاوى إن خاف من الولد السوء في الحرة يسعه العزل بغير رضاها؛ لفساد الزمان، فليعتبر مثله من الأعذار مسقطاً لإذنها. اهـ. فقد علم مما في الخانية أن منقول المذهب عدم الإباحة، وأن هذا تقييد من مشايخ المذهب؛ لتغير بعض الأحكام بتغير الزمان، وأقره في الفتح، وبه جزم القهستاني أيضاً حيث قال: وهذا إذا لم يخف على الولد السوء؛ لفساد الزمان، وإلا فيجوز بلا إذنها. اهـ. لكن قول الفتح: فليعتبر مثله إلخ يحتمل أن يريد بالمثل ذلك العذر، كقولهم: مثلك لا يبخل. ويحتمل أنه أراد إلحاق مثل هذا العذر به كأن يكون في سفر بعيد، أو في دار الحرب فخاف على الولد، أو كانت الزوجة سيئة الخلق ويريد فراقها فخاف أن تحبل، وكذا ما يأتي في إسقاط الحمل عن ابن وهبان، فافهم".

(فتاوی شامی(3/ 175) ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144112201453

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں