
ایک شخص کے چار بیٹے ہیں۔ دو بیٹے روزگار کے سلسلے میں گھر سے باہر رہتے ہیں، جبکہ دو بیٹے والد کے قریب رہتے ہیں۔والد نے اپنی زندگی میں اپنی زرعی زمین چاروں بیٹوں میں تقسیم کر دی تھی۔ جو دو بیٹے والد کے قریب رہتے ہیں، انہیں ان کے حصے کا قبضہ بھی دے دیا گیا ہے اور وہ تقریباً دس سال سے اپنے حصے کی زمین میں کاشت کاری اور دیگر تصرفات کر رہے ہیں، جبکہ جو دو بیٹے باہر رہتے ہیں، انہیں ان کے حصے کا قبضہ ابھی تک نہیں دیا گیا،صرف ایک بیٹے نے اپنے حصے کے زرعی زمین میں گھر بنایا ہے ،والد اپنے قریب رہنے والے انہی دو بیٹوں سے کھیتی باڑی، بازار سے سامان لانا اور دیگر گھریلو و بیرونی ضروریات کے تمام کام لیتے ہیں، جبکہ باہر رہنے والے دو بیٹے ان کاموں میں شریک نہیں ہوتے۔مزید یہ کہ والد باہر رہنے والے دونوں بیٹوں کی بیویوں کو حکم دیتے ہیں کہ وہ والد کے گھر میں رہ کر گھریلو خدمت، کھانا پکانے اور دیگر امور انجام دیں، جبکہ اپنے شوہروں کے ساتھ مستقل رہنے کی اجازت نہیں دیتے۔جب یہ دونوں بیٹے عرض کرتے ہیں کہ والد کی خدمت اور ذمہ داریوں میں تمام بھائی اپنی استطاعت کے مطابق برابر شریک ہوں، یا باہر رہنے والے بھائی بھی کسی مناسب صورت میں تعاون کریں، تو والد ناراض ہو کر کہتے ہیں:”اگر تم میرے کام نہیں کرو گے تو میں تمہیں زمین نہیں دوں گا، تم اپنے حصے سے محروم ہو جاؤگے اسی طرح جو باہر رہتے ہیں ان کو بھی یہ دھمکی دی جاتی ہے کہ اگر تمھاری بیویاں میری خدمت نہیں کرتیں تو تمہیں بھی جائیداد سے محروم کر دیا جائے گا“۔
مندرجہ ذیل امور میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے:
کیا والد صرف اس وجہ سے کہ دو بیٹے ان کے تمام کام کرنے سے انکار کریں، انہیں اپنی جائیداد سے محروم کر سکتے ہیں؟
کیا والد کے لیے یہ درست ہے کہ صرف دو بیٹوں پر اپنی خدمت اور تمام کام لازم کریں، جبکہ دوسرے دو بیٹے اس ذمہ داری میں شریک نہ ہوں؟
کیا والد کے لیے یہ جائز ہے کہ باہر رہنے والے بیٹوں کی بیویوں کو اپنے گھر کی خدمت پر مجبور کرے اور انہیں اپنے شوہروں کے ساتھ رہنے سے روکے؟
جن دو بیٹوں کو قبضہ دیا جا چکا ہے اور وہ دس سال سے اس زمین میں تصرف کر رہے ہیں، کیا والد صرف ناراضی یا خدمت نہ کرنے کی وجہ سے ان سے وہ زمین واپس لے سکتے ہیں؟
جن دو بیٹوں کو ابھی تک قبضہ نہیں دیا گیا، کیا والد صرف ناراضی یا خدمت نہ کرنے کی وجہ سے انہیں ان کے مقررہ حصے سے محروم کر سکتے ہیں؟
اگر والد صرف بعض بیٹوں کو نقصان پہنچانے یا انہیں محروم کرنے کی نیت سے اپنی زمین فروخت کر دیں، تو کیا ایسا کرنا شرعاً جائز ہے؟
اگر والد کا انتقال اسی حالت میں ہو جائے، تو کیا چاروں بیٹے شرعی وراثت کے مطابق اپنے اپنے حصے کے حق دار ہوں گے، یا والد کی ناراضی کی وجہ سے بعض بیٹے وراثت سے محروم ہو جائیں گے؟
صورتِ مسئولہ میں سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:
1۔4: جن دو بیٹوں کو ان کے حصے کی زمین دے کر قبضہ بھی دے دیا گیاہے، اور وہ تقریباً دس سال سے اس میں کاشت کاری کر رہے ہیں ، ان کے حق میں یہ ہبہ قبضے کے ساتھ مکمل و لازم ہوچکا ہے، اور وہ زمین شرعاً انہی کی ملکیت بن چکی ہے۔ لہٰذا والد اب محض ناراضی یا خدمت نہ کرنے کی بنا پر وہ زمین ان سے واپس نہیں لے سکتے؛ کیوں کہ اولاد کو ہبہ کرکے قبضہ دینے کے بعد اس سے رجوع کرنا شرعاً جائز نہیں۔
5: جن دو بیٹوں کو ابھی تک قبضہ نہیں دیا گیا، ان کے حق میں چوں کہ ہبہ ابھی تام نہیں ہوا، اس لیے وہ زمین بدستور والد کی ملکیت ہے، اور والد کو اس میں تصرف کا اختیار ہے؛ اس بنا پر والد کا انہیں اپنے مقررہ حصے سے (اس حد تک کہ ہبہ مکمل نہ ہونے کی وجہ سے) روکنا ملکیتاً تو ممکن ہے، تاہم بلاوجہ صرف ناراضی یا خدمت نہ کرنے کی بنیاد پر بعض اولاد کو محروم کرنا اور بعض کو دینا سراسر بے انصافی اور گناہ ہے، جس سے والد سخت گناہ گار ہوں گے؛ کیوں کہ حدیث میں اولاد کے درمیان عطیہ میں عدل(برابری) کا حکم اور بے انصافی سے ممانعت آئی ہے۔
2: والد کا اپنی خدمت اور تمام کام صرف دو بیٹوں پر لازم کرنا اور باقی دو کو بری الذمہ سمجھنا انصاف کے خلاف ہے۔ والدین کی خدمت تمام اولاد پر حسبِ استطاعت مطلوب ہے، لہٰذا مناسب یہی ہے کہ سب بیٹے اپنی استطاعت کے مطابق خدمت و ذمہ داری میں شریک ہوں۔
3: باہر رہنے والے بیٹوں کی بیویوں (بہوؤں) کو والد کے گھر کی خدمت پر مجبور کرنا اور انہیں برون ملک جاکر اپنے شوہروں کے ساتھ رہنے سے روکنا جائز نہیں؛ کیوں کہ بہو پر سسر کی خدمت شرعاً واجب نہیں، اور بیوی کا شرعی حق ہے کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ رہے۔ ہاں، اگر بہو اپنی خوشی سے خدمت کرے تو یہ اس کا احسان اور باعثِ اجر ہے۔
6: اگر والد محض بعض بیٹوں کو نقصان پہنچانے یا محروم کرنے کی نیت سے اپنی (غیر منقسم) زمین فروخت کرے، تو اگرچہ ملکیتاً بیع نافذ ہوجائے گی، تاہم محض ایذا رسانی اور اولاد کے درمیان بے انصافی کی نیت سے ایسا کرنا ناجائز اور گناہ ہے۔
7: جو زمین والد نے قبضہ دے کر بعض بیٹوں کو دے دی، وہ ان کی ملکیت ہے اور ترکہ میں شامل نہیں۔ باقی جو زمین (بشمول غیر مقبوضہ حصے) اور دیگر اموال والد کی ملکیت میں بوقتِ وفات باقی ہوں گے، وہ ان کا ترکہ ہوگا، جس میں والد کی ناراضی کے باوجود تمام شرعی ورثاء (چاروں بیٹے اور دیگر ورثاء) اپنے اپنے حصے کے حق دار ہوں گے؛ کیوں کہ "عاق کرنے" یا والد کی ناراضی سے کوئی وارث میراث سے محروم نہیں ہوتا، اور کسی وارث کو محروم کرنا شرعاً معتبر نہیں۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» . رواه ابن ماجه".
(باب الوصایا، الفصل الثالث، ج:1 ص:266، ط: قدیمی)
فتاوی شامی میں ہے:
"وتتم الهبة بالقبض الكامل."
(کتاب الھبة،ج:5،ص:690،ط:سعید)
وفیہ ایضا:
"أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة: أنه ورد في الحديث أنه صلى الله عليه وسلم قال: «سووا بين أولادكم في العطية، ولو كنت مؤثراً أحداً لآثرت النساء على الرجال». رواه سعيد في سننه، وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير: «اتقوا الله واعدلوا في أولادكم». فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا، والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية: ولو وهب شيئاً لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى. وقال محمد: ويعطي للذكر ضعف الأنثى، وفي التتارخانية معزياً إلى تتمة الفتاوى قال: ذكر في الاستحسان في كتاب الوقف، وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في العطايا والعدل في ذلك التسوية بينهم في قول أبي يوسف، وقد أخذ أبو يوسف حكم وجوب التسوية من الحديث، وتبعه أعيان المجتهدين، وأوجبوا التسوية بينهم وقالوا: يكون آثماً في التخصيص وفي التفضيل، وليس عند المحققين من أهل المذهب فريضة شرعية في باب الوقف إلا هذه بموجب الحديث المذكور، والظاهر من حال المسلم اجتناب المكروه، فلاتنصرف الفريضة الشرعية في باب الوقف إلا إلى التسوية والعرف لايعارض النص هذا خلاصة ما في هذه الرسالة، وذكر فيها أنه أفتى بذلك شيخ الإسلام محمد الحجازي الشافعي والشيخ سالم السنهوري المالكي والقاضي تاج الدين الحنفي وغيرهم اهـ".
(کتاب الوقف،ج:4،ص:444،ط: سعید)
وفیہ ایضا:
"وفي الخانية: لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة؛ لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني، وعليه الفتوى."
(کتاب الھبة،ج:5 ص:696 ط: سعید)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"لايثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية."
(کتاب الهبة، الباب الثانی فیما یجوز من الھبة وما لا یجوز،ج:4 ص:378 ط: رشیدیة)
فقط و اللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144802100559
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن