بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

استواء علی العرش کا مفہوم کیا ہے اور اس کے بارے میں سوال یا بحث ومباحثہ کرنا کیسا ہے؟


سوال

استواء علی العرش کا صحیح مفہوم کیا ہے ؟اور اس کے بارے میں سوال یا بحث و مباحثہ کرنا کیسا  ہے؟

جواب

استواء علی العرش سے متعلق اہل سنت والجماعت کے دو موقف ہیں،پہلا موقف متقدمین  کا ہے جس کا  حاصل یہ ہے کہ  استوی علی العرش اللہ  تبارک وتعالی کے لیے ثابت  ہے،معنی اس کی متشابہات  میں سے ہے،معنی کاصحیح علم جو اللہ کی شان کے لائق ہو،صر ف اللہ تعالی کو معلوم ہے،لہذا اس کا علم اللہ تعالی کے سپر د کیا جائے گا،اس کو متقدمین نے تفویض مع التنزیہ سے  تعبیر کیا ہے، دوسرا موقف  متاخرین کا ہے، انہوں نے مجسمہ کے غلط عقائد سے  عوام الناس کوبچانے کے لیے ضرورت اور احتمال کے درجہ میں   نصوص میں مذکور  صفات متشابہات  میں  ایسی تاویل کرنے کو  مناسب سمجھا ہے جو ذات باری تعالیٰ کی شایان شان ہو، متاخرین نےاستواء علی العرش سے متعلق  نصوص  میں استواءکی تاویل میں احتمال کے درجہ میں استیلاء   (غلبہ)مراد لیاہے،اب استوی علی العرش کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالی نے عرش پر قبضہ فرمایا،مطلب یہ کہ عرش چوں کہ تمام مخلوق  میں بڑی مخلوق ہے اور سب پر حاوی ہے تو جب اللہ تعالی کا اس پر قبضہ آیا تو  گویا تمام مخلوقات پر اللہ تبارک وتعالی کا قبضہ وغلبہ ثابت ہوا،بالفاظ دیگر  استواء علی العرش اقتدارِ مطلق سے کنایہ ہے،استواء کی صریح نفی گویا کہ اقتدار الہی کی نفی ہے جو کہ حاکمیت مطلقہ میں نقص اور کمی کو مستلزم ہوگی،جب کہ ہر قسم کے نقص سے اللہ تعالی منزہ ہے۔ متاخرین نےاس  کو تنزیہ مع التاویل سے تعبیر کیا ہے۔ نیز یہ مسئلہ  بڑا نازک ہے اس میں زیادہ غور و خوض،اور بحث مباحثہ سے اجتناب کرنا چاہیے۔

المہند علی المفند میں ہے:

" السوال الثالث عشر والرابع عشر : ما قولكم في امثال قوله تعالیٰ الرحمن على العرش استوى هل تجوزون اثبات جهة ومكان للباری تعالى ام كيف رايكم فيه؟ الجواب :قولنا في امثال تلك الايات انا نؤمن بها و لا يقال كيف و نومن باللہ سبحانه وتعالى متعال ومنزه عن صفات المخلوقين وعن سمات النقص والحدوث كما هو راى قد مائنا واما ما قال المتاخرون من ائمتنا في تلك الآيات ياولونها بتاويلات صحيحة سائغة في اللغة و الشرع بانه يمكن ان يكون المراد من الاستواء الاستيلاء ومن اليد القدرة الى غير ذلك تقريباً الى افهام القاصرين فحق ايضا عندنا و اما الجهة والمكان فلا نجوز اثباتهما له تعالى ونقول انه تعالى منزه و متعال عنهما وعن جميع سمات الحدوث.

" ترجمہ : ’’تیرھواں اور چودھواں سوال:کیا کہتے ہیں،حق تعالی کے اس قسم کے قول میں کہ رحمن عرش پر مستوی ہوا؟  کیا جائز سمجھتے ہو باری تعالی کے لیے جہت ومکان کاثابت کرنا یا کیا رائے ہے؟ جواب:اس قسم کی آیات میں ہمارا مذہب یہ ہے کہ ان پر ایمان لاتے ہیں اور کیفیت سے بحث نہیں کرتے، یقیناً جانتے ہیں کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ مخلوق کے اوصاف سے منزہ اور نقص وحدوث کی علامات سے مبرا ہے، جیسا کہ ہمارے متقدمین کی رائے ہے اور ہمارے متاخرین اماموں نے ان آیات میں جو صحیح اور لغت شرع کے اعتبار سے جائز تاویلیں فرمائی ہیں ،تا کہ کم فہم سمجھ لیں، مثلا یہ کہ ممکن ہے، استواءسے مراد غلبہ ہو اور ہاتھ سے مراد قدرت، تو یہ بھی ہمارے نزدیک حق ہے، البتہ جہت و مکان کا اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کرنا ہم جائز نہیں سمجھتے اور یوں کہتے ہیں کہ وہ جہت اور مکانیت اور جملہ علامات حدوث سےمنزہ وعالی ہے۔‘‘ (السوال الثالث عشر والرابع عشر، 48 -47،  ط: ادارہ اسلامیات ،لاھور)

تفسیر البیضاوی میں ہے:

"ثم استوى على العرش استوى أمره أو استولى، وعن أصحابنا أن الإستواء على العرش صفة لله بلا كيف، والمعنى: أن له تعالى ‌استواء ‌على ‌العرش على الوجه الذي عناه منزها عن الإستقرار والتمكن."

(سورۃ الأعراف، 16/3، ط: دار إحياء التراث العربي ،بيروت)

تفسیر مظہری میں ہے:

"واما اهل السنة يقولون الإستواء على العرش صفة لله تعالى بلا كيف يجب على الرجل الإيمان به ويكل العلم فيه الى الله عز وجل سأل رجل مالك بن انس عن قوله تعالى ‌الرحمن ‌على ‌العرش ‌استوى كيف ‌استوى فاطرق راسه مليا ثم قال الإستواء غير مجهول والكيف غير معقول والإيمان به واجب والسؤال عنه بدعة وما أظنك الا ضالا ثم امر به فاخرج."

(سورۃ الأعراف، 359/3، ط: مكتبة الرشیدية،الباكستان)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144602101842

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں