
میرے ایک ساتھی نے عصر کی نماز کے بعد عمرہ شروع کیا جب طواف سے فارغ ہوا تو اس نے دوگانہ طواف ادا کرلئے یعنی اس نے یہ دوگانہ طواف عصر کے بعد ادا کئے اور عمرہ مکمل کرلیا اور حلق بھی کرالیا بعد میں جب علم ہوا کہ فقہ حنفی میں عصر کے بعد نفل نماز نہیں ہے تو اس نے یہ دوگانہ طواف عشاء کی نماز کے بعد مسجد الحرام میں ہی دوبارہ لوٹالئے اب پوچھنا یہ تھا کہ اس بھائی کے اس عمل کا کیا حکم ہے؟
واضح رہے کے عصر کی نماز کے بعد سے لے کر غروب آفتاب تک ہر طرح کے نوافل ادا کرنا منع ہے، البتہ اگر کوئی عصر کے بعد قضا نمازوں میں سے کوئی نماز ادا کرنا چاہتا ہے تو وہ سورج کے زردی مائل ہونے سے پہلے تک قضا پڑھ سکتا ہے، سورج کے زردی مائل ہوجانے کے بعد سے لے کر غروب آفتاب تک وقتی عصر کے علاوہ باقی کوئی نماز ادا نہیں کرسکتالہٰذا اس صورت میں عصر کے بعد طواف کی دو رکعت ادا کرنی تھی تو اگرچہ مکروہ وقت میں اور کراہت کے ساتھ، لیکن وہ ادا شدہ شمار ہوں گی اور ان کا اعادہ ضروری نہیں تھا۔ بعد ازاں عشاء کے بعد جودو رکعت قضا کی نیت سے پڑھی گئی، وہ طواف کی رکعت شمار نہیں ہوگی بلکہ نفل ہوگی۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما الأوقات التي يكره فيها التطوع لمعنى في غير الوقت فمنها: ما بعد طلوع الفجر إلى صلاة الفجر، وما بعد صلاة الفجر إلى طلوع الشمس، وما بعد صلاة العصر إلى مغيب الشمس، فلا خلاف في أن قضاء الفرائض والواجبات في هذه الأوقات جائز من غير كراهة، ولا خلاف في أن أداء التطوع المبتدإ مكروه فيها."
(كتاب الصلاة، فصل بيان ما يكره من التطوع، ج: 1، ص: 296/297، ط: دار الكتب العلمية)
الدر المختار میں ہے:
"(وكره نفل) قصدًا ولو تحية مسجد (وكل ما كان واجبا) لا لعينه بل (لغيره) وهو ما يتوقف وجوبه على فعله (كمنذور وركعتي طواف)، وسجدتي سهو (والذي شرع فيه) في وقت مستحب أو مكروه (ثم أفسده و) لو سنة الفجر (بعد صلاة فجر و) صلاة (عصر)."
(كتاب الصلاة، ج: 1، ص: 54، ط: دار الكتب العلمية)
الاختيار لتعليل المختار:
"ولا يصلي ركعتي الطواف؛ لأن النهي لمعنى في غيره، وهو شغل جميع الوقت بالفرض، إذ ثواب الفرض أعظم، فلا يظهر النهي في حق فرض مثله، وظهر في ركعتي الطواف لأنه دونه."
(کتاب الصلاة، ج: 1، ص: 41، ط: دار الکتب)
البنایہ شرح الہدایہ میں ہے:
"م: (وفي حق ركعتي الطواف) ش: أي فظهرت الكراهة أيضا في حق ركعتي الطواف حتى كره أداؤها في هذين الوقتين لأن وجوبهما بغيرهما وهو ختم الطواف الحاصل بفعله.
وقال الشافعي: يجوز في هذين الوقتين ركعتا الطواف، وتحية المسجد، وكل فعل له سبب: كركعتي الوضوء، وسنن الرواتب، والمنذور.
قلت: في " المبسوط " أن كراهة الطواف بالأثر، وهو ما روي عن عمر رضي الله عنه طاف بالبيت أسبوعا بعد صلاة الفجر ثم خرج من مكة حتى كان بذي طوى فطلعت الشمس فصلى ركعتين، ثم ذهب فقال: ركعتين مقام ركعتين، فقال أخر ركعتي الطواف إلى ما بعد طلوع [الشمس] . وذي طوى: ينصرف ولا ينصرف وهو بضم الطاء اسم موضع مكة."
(کتاب الصلاة، ج: 2، ص: 70، ط: دار الکتب)
وفیہ ایضا:
"فإن قلت: ركعتا الطواف واجبتان عندنا فوجوبه من جهة الشرع بعد الطواف كوجوب سجدة التلاوة بعد التلاوة فينبغي أن يؤتى بهما كسجدة التلاوة في هذين الوقتين. وقول المصنف بأن الوجوب لختم الطواف ينتقض بسجدة التلاوة فإن وجوبها للتلاوة وهي فعله أيضا.
قلت: قد تجب السجدة بتلاوة غيره إذا سمعه من غير قصد ولا كذلك ركعتا الطواف."
(کتاب الصلاة، ج: 2، ص: 71، ط: دار الکتب)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144703101496
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن