بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 محرم 1448ھ 21 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

آسمانوں کے وقوع اور کیفیت سے متعلق اشکالات کے جواب


سوال

مفتی صاحب آج کل سائنس آسمانوں کے وجود کو نہیں مانتی اور ان کا کہنا ہے کہ اوپر صرف خلاء ہے، حالاں کہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ آسمانوں کا وجود ہے، اب مفتی صاحب کچھ سوالات ہیں جن کا آپ تسلی بخش جواب عنایت فرمائیں:

1۔ کیا ہم دنیا میں یا خلاء میں ہوتے ہوئے آسمان کو دیکھ سکتے ہیں یا ہمیں یہ قیامت کے دن نظر آئیں گے؟

2۔ جو خلاء میں اربوں کی تعداد میں ستارے اور کہکشائیں موجود ہیں کیا یہ پہلے آسمان کے نیچے ہیں اور یہ سب کہکشائیں اور ستارے پہلے آسمان میں ہیں؟

3۔ حدیث میں ہے کہ آسمان زمین سے 500 سال کے فاصلے پر ہے اور آج کل کی تحقیق ہے کہ اس کائنات میں سب سے تیز رفتار روشنی کی ہے، اور خلاء میں اربوں کی تعداد میں ستار ے اور کہکشائیں موجود ہیں، اور ایک ایک کہکشاں ہم سے روشنی کی رفتار سے 200، 300 ملین نوری سالوں یا اس بھی زیادہ کے فاصلے پر ہے، تو آسمان تو اس لحاظ سے کروڑوں نوری سالوں کے فاصلے پر ہوگا، تو حدیث میں جو 500 سال کا بتایا گیا ہے وہ کس لحاظ سے؟ کیوں کہ کچھ دوسری احادیث میں بھی اس طرح بتایا گیا ہے، مثلاً جہنم کے دو درجوں  کے بیچ 40 سال کا فاصلہ اور فرشتوں کے بارے میں ہے کہ وہ اس فاصلے کو پلک جپھکتے ہی طے کر لیتے ہیں۔

4۔ اور جو جنات کے بارے میں آتا ہے کہ وہ بھی آسمان کے پاس جانے کی کوشش کرتے ہیں اور انہیں شہابِ ثاقب کے ذریعے مار بھگایا جاتا ہے اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت سے پہلے وہ آسمان کے پاس جا کر فرشتوں کی باتیں سنتے تھے، تو آسمان تو ہم سے بہت بہت دور ہے تو جنات یہ سفر کس طرح سے کرتے ہیں؟ کیوں کہ روشنی کی رفتار سے سفر کیا جائے تو ایک ستارے تک پہنچنے کے لیے لاکھوں،کروڑوں سال لگیں گے تو جنات کس طرح سے جاتے ہیں اور انہیں کس طرح سے بھگایا جاتا ہے؟ تفصیل عنایت فرمائیں ۔

جواب

1۔ بلاشبہ آسمان کا ایک وجود ہے  جس پرقرآن و حدیث  کی نصوص شاہد  ہیں ، اور مسلمان کے لیے اس پر ایمان لانا ضروری ہے، البتہ اوپر جو نیلگوں چیز ہم کو نظر آتی ہے وہ ہی آسمان ہے یا نہیں؟ تو نصوص میں اس بات کی تصریح نہیں کی گئی، لہٰذا  ہوسکتا ہے کہ   یہی آسمان ہو، اور یہ بھی ہوسکتا ہےکہ آسمان اس کے اوپر ہو اور یہ نیلگوں  چھت آسمان کی چھت گیری کا کام دیتی ہو، مگر اس سے یہ بھی لازم نہیں آتا کہ آسمان انسان کو نظر ہی نہ آئے، بلکہ  ہوسکتا ہے کہ یہ نیلگوں فضا شفاف ہونے کے سبب اصل آسمان کو جو اس سے اوپر ہے دیکھنے میں مانع نہ ہو۔ بہرحال انسان کا دنیا میں آسمان کو دیکھنا یا نہ دیکھنا ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے جس پر دین یا دنیا کا کوئی امر موقوف ہو، لہٰذا نصوص میں بھی اس کی صراحت نہیں کی گئی اور ایک مسلمان کی شان کے لائق بھی نہیں کہ وہ اس قسم کی بے فائدہ چیزوں کی کھود کرید میں لگے۔ 

2۔ قرآنی نصوص کے مطابق خلاء میں موجود ستارے اور کہکشائیں یہ سب پہلے آسمان "سماء الدنیا "کے نیچے خلا میں ہیں، چناں چہ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ معارف القران میں سورۃ الفرقان کی آیت نمبر 25کے تحت لکھتے ہیں:

"تَبٰرَكَ الَّذِيْ جَعَلَ فِي السَّمَاۗءِ بُرُوْجًا وَّجَعَلَ فِيْهَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِيْرًا، وَهُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ خِلْفَةً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ يَّذَّكَّرَ اَوْ اَرَادَ شُكُوْرًا۔

ستارے اور سیارے آسمانوں کے اندر ہیں یا باہر قدیم و جدید علم ہیئت کے نظریات اور قرآن کریم کے ارشادات:

جَعَلَ فِي السَّمَاۗءِ بُرُوْجًا کے الفاظ سے بظاہر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ بروج یعنی سیارے آسمانوں کے اندر ہیں کیونکہ حرف فی ظرفیت کے لئے مستعمل ہوتا ہے۔ اسی طرح سورة نوح میں ہےاَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا، وَّجَعَلَ الْقَمَرَ فِيْهِنَّ نُوْرًا وَّجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا، اس میں فیھن کی ضمیر سبع سموات کی طرف راجع ہے جس سے ظاہراً یہی مفہوم ہوتا ہے کہ چاند آسمانوں کے اندر ہے۔ لیکن یہاں دو باتیں قابل غور ہیں۔ اول تو یہ کہ قرآن کریم میں لفظ سماء جس طرح اس عظیم الشان اور وہم و گمان سے زائد وسعت رکھنے والی مخلوق کے لئے استعمال ہوتا ہے جس میں قرآن کی تصریحات کے مطابق دروازے ہیں اور دروازوں پر فرشتوں کے پہرے ہیں جو خاص خاص اوقات میں کھولے جاتے ہیں اور جن کی تعداد قرآن کریم نے سات بتلائی ہے اسی طرح یہ لفظ سماء ہر بلند چیز جو آسمان کی طرف ہو اس پر بھی بولا جاتا ہے۔ آسمان و زمین کے درمیان کی فضا اور اس سے آگے جس کو آج کل کی اصطلاح میں خلا بولتے ہیں یہ سب دوسرے معنی کے اعتبار سے لفظ سماء کے مفہوم میں داخل ہیں۔وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً طَهُوْرًا، اور اسی طرح کی دوسری آیتیں جن میں آسمان سے پانی برسانے کا ذکر ہے ان کو اکثر مفسرین نے اسی دوسرے معنی پر محمول فرمایا ہے کیونکہ عام مشاہدات سے بھی یہ ثابت ہے کہ بارش ان بادلوں سے برستی ہے جو آسمان کی بلندی سے کوئی نسبت نہیں رکھتے اور خود قرآن کریم نے بھی دوسری آیات میں بادلوں سے پانی برسانے کی تصریح فرمائی ہے ارشاد ہےءَاَنْتُمْ اَنْزَلْتُمُوْهُ مِنَ الْمُزْنِ اَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَاسمیں مزن مزنتہ کی جمع ہے جس کے معنی سفید بادل کے آتے ہیں۔ معنی یہ ہیں کہ کیا بارش کو سفید بادلوں سے تم نے اتارا ہے یا ہم نے دوسری جگہ ارشاد ہےوّاَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْــصِرٰتِ مَاۗءً ثَجَّاجًا، اس میں معصرات کے معنی پانی سے بھرے ہوئے بادل ہیں اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ ہم نے ہی پانی بھرے بادلوں سے کثرت سے پانی برسایا۔ قرآن مجید کی ان واضح تصریحات اور عام مشاہدات کی بناء پر جن آیات قرآن میں بارش کا آسمان سے برسانا مذکور ہے ان میں بھی اکثر مفسرین نے لفظ سماء کے یہی دوسرے معنی لئے ہیں یعنی فضاء آسمانی۔

خلاصہ یہ ہے کہ جب قرآن کریم اور لغت کی تصریحات کے مطابق لفظ سماء فضائے آسمانی کے لئے بھی بولا جاتا ہے اور خود جرم آسمان کے لئے بھی۔ تو ایسی صورت میں جن آیات میں کواکب اور سیارات کے لئے فی السماء کا لفظ استعمال ہوا ہے ان کے مفہوم میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ یہ کواکب اور ستارے جرم آسمان کے اندر ہوں یا فضائے آسمانی میں آسمانوں کے نیچے ہوں اور دو احتمالوں کے ہوتے ہوئے کوئی قطعی فیصلہ قرآن کی طرف منسوب نہیں کیا جاسکتا کہ قرآن نے ستاروں اور سیاروں کو آسمان کے اندر قرار دیا ہے یا ان سے باہر فضائے آسمانی میں بلکہ الفاظ قرآن کے اعتبار سے دونوں صورتیں ممکن ہیں۔ کائنات کی تحقیقات اور تجربے اور مشاہدے سے جو صورت بھی ثابت ہوجائے قرآن کی کوئی تصریح اس کے منافی نہیں ہے ۔۔۔ علماء اہل حق قدیم و جدید اس پر متفق ہیں کہ ان مسائل کے متعلق جو بات قرآن کریم سے یقینی طور پر ثابت ہے، اگر کوئی قدیم یا جدید نظریہ اس سے مختلف ہو تو اس کی وجہ سے قرآنی آیات میں کھینچ تان اور تاویل جائز نہیں، اس نظریہ ہی کو مغالطہ قرار دیا جائے گا، البتہ جن مسائل میں قرآن کریم کی کوئی تصریح موجود نہیں الفاظ قرآنی میں دونوں معنے کی گنجائش ہے وہاں اگر مشاہدات اور تجربے سے کسی ایک نظریہ کو قوت حاصل ہوجائے تو آیت قرآن کو بھی اسی معنی پر محمول کرلینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ جیسے اسی آیت جَعَلَ فِي السَّمَاۗءِ بُرُوْجًا میں ہے کہ قرآن کریم نے اس بارے میں کوئی واضح فیصلہ نہیں دیا کہ ستارے آسمان کے اندر ہیں یا باہر فضائے آسمانی میں ہیں۔ آج کل جبکہ خلائی تجربات نے یہ ثابت کردیا کہ ان سیارات تک پہنچا جاسکتا ہے تو اس سے فیثا غورسی نظریہ کی تائید ہوگئی کہ ستارے آسمانوں میں پیوست نہیں کیونکہ قرآن کریم اور احادیث صریحہ کی تصریحات کی رو سے آسمان ایک ایسا حصار ہے جس میں دروازے ہیں اور دروازوں پر فرشتوں کا پہرہ ہے ان میں ہر شخص داخل نہیں ہو سکتا۔ اس مشاہدے اور تجربے کی بناء پر آیت مذکورہ کا یہ مفہوم قرار دیا جائے گا کہ کواکب کو فضائے آسمانی میں پیدا کیا گیا ہے اور یہ کوئی تاویل نہیں بلکہ دو مفہوم میں سے ایک کی تعیین ہے۔ لیکن اگر کوئی سرے سے آسمانوں کے وجود کا انکار کرے جیسے بعض ہیئت جدید والے کہتے ہیں یا کوئی یہ دعویٰ کرے کہ راکٹوں اور ہوائی جہازوں کے ذریعہ آسمانوں کے اندر داخل ہوسکتا ہے تو ازروئے قرآن اس دعوے کو غلط قرار دیا جائے گا کیونکہ قرآن کریم نے متعدد آیات میں یہ بات واضح طور پر بتلائی ہے کہ آسمانوں میں دروازے ہیں اور وہ دروازے خاص خاص حالات میں کھولے جاتے ہیں ان دروازوں پر فرشتوں کا پہرہ مسلط ہے۔ آسمانوں میں داخلہ ہر شخص کا جب چاہے نہیں ہو سکتا، اس دعوے کی وجہ سے ان آیات میں کوئی تاویل نہیں کی جائے گی اور اس دعوے کو غلط قرار دیا جائے گا۔ (ملخص از:معارف القرآن)

3۔ احادیثِ مبارکہ میں زمین اور آسمان اور ایک  آسمان سے دوسرے آسمان کی جو مسافت ذکر کی گئی ہے، وہ مختلف روایات میں مختلف وارد ہے، ان سب سے مراد طویل فاصلہ ہے جس کو کوئی انسان طے نہیں کرسکتا، اس اعتبار سے ایک تخمینی اندازہ  ہےکہ اتنا زیادہ فاصلہ ہے جو انسانی پہنچ سے دور ہے، اس میں کسی مسافت کی تحدید مقصود نہیں ہے،  اور یہی ان روایات کا محمل ہے، باقی جہنم کے درجوں کا فاصلہ  40 سال کا ہونا اور فرشتوں کا اس فاصلے کو لمحوں میں طے کرلینا درحقیقت فرشتوں کی سرعتِ رفتار سے انسانوں کی عدم آگاہی اور اس کی حقیقت سے عدمِ واقفیت کی بنیاد پر ہے، نیز جہنم کے درجوں کے بیچ جو فاصلہ بیان کیا گیا ہے  اس کو دنیاوی سالوں پر قیاس نہیں کیا جاسکتا ،یہ اخروی امور میں سے ہے، اس کی حقیقت صرف اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔

4۔ انسانوں کی سائنسی تحقیق میں محسوسی اور نظر آنے والی اشیاء میں  روشنی کی رفتار سب سے زیادہ مانی جاتی ہے جو تقریبا300000 کلو میٹر فی سیکنڈ ہے،جب کہ غیبی مخلوقات جنات، فرشتوں وغیرہ  کی رفتار  سے ہم انسان لا علم ہیں،  بلکہ اُن کے پاس فطری طور پر اجسام ِ لطیفہ ہونے کی وجہ سے  ایسی رفتار  و طاقت ہے جو دنیاوی سائنس سے بالاتر ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا مَا تَرَى فِي خَلْقِ الرَّحْمَنِ مِنْ تَفَاوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَى مِنْ فُطُورٍ (3)﴾ [الملك: 3]          

ترجمہ:"جس نے بنائے سات آسمان تہ پر تہ کیا دیکھتا ہے تو رحمن کے بنانے میں کچھ فرق،پھر دوبارہ نگاہ کر کہیں نظر آتی ہے تجھ کو دراڑ،پھر لوٹا کر نگاہ کر دو دو بار لوٹ آئے گی تیرے پاس تیری نگاہ رد ہوکر تھک کر"۔

﴿إِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِزِينَةٍ الْكَوَاكِبِ (6) ﴾ [الصافات: 6]          

ترجمہ:"ہم نے رونق دی ورلے آسمان کو ایک رونق جو تارے ہیں"۔

شرح المشکاۃ للطّیبي  میں ہے:

"قال: (هل تدرون ما بعد ما بين السماء والأرض؟) قالوا. لا ندري قال: (إن بعد ما بينهما إما واحدة وإما اثنتان أو ثلاث وسبعون سنة، والسماء التي فوقها كذلك) حتى عد سبع سماوات ... والمراد بـ (السبعون) في الحديث ‌التكثير ‌لا ‌التحديد، لما ورد أن بين السماء والأرض مسيرة خمسمائة سنة، والتنكير هنا أبلغ والمقام له أدعى."

(کتاب أحوال لقيامة وبدء الخلق، ج:11، ص:3624، ط:مكتبة نزار)

 تفسیر عثمانی  میں ہے:

" حدیث میں آیا  ہے، کہ ایک آسمان کے اوپر دوسرا آسمان، دوسرے پر تیسرا اسی طرح سات آسمان اوپر نیچے ہیں، اور ہر ایک آسمان سے دوسرے تک پانچ سو برس کی مسافت ہے،نصوص میں یہ تصریح نہیں کی گئی کہ اوپر جو نیلگونی چیز ہم کو نظر آتی ہے، وہ ہی آسمان ہے،  ہوسکتا ہے کہ ساتوں آسمان اس کے اوپر ہوں اور یہ نیلگونی چیز آسمان کی چھت گیری کا کام دیتی ہو۔"

 ( سورۃ الملک ، آیت :3، ج:3، ص: 733، ط:دار الاشاعت)

 تفسیر معارف القرآن میں مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں: 

"فَارْجِعِ الْبَصَرَ  هَلْ تَرٰى مِنْفُطُوْرٍاس آیت سے ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ دنیا والے آسمان کو آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں اور یہ ضروری نہیں کہ نیلگوں فضا جو دکھائی دیتی ہے یہی آسمان ہو بلکہ ہوسکتا ہے، آسمان اس سے بہت اوپر ہو اور یہ نیلگوں رنگ ہوا اور فضا کا ہو ، جیسا کہ فلاسفہ کہتے ہیں ،مگر اس سے یہ بھی لازم نہیں آتا کہ آسمان انسان کو نظر ہی نہ آئے، ہوسکتا ہے کہ یہ نیلگوں فضا شفاف ہونے کے سبب اصل آسمان کو جو اس سے بہت اوپر ہے دیکھنے میں مانع نہ ہو اور اگر کسی دلیل سے یہ ثابت ہو جائے کہ دنیا میں رہتے ہوئے آسمان کو آنکھ سے نہیں دیکھا جا سکتا تو پھر اس آیت میں رؤیت سے مراد رؤیت ِعقلی یعنی غورو و فکر ہوگا۔"

( سورۃ الملک ، آیت :3،ج:8، ص:517، ط:ادارۃ المعارف)

فتاویٰ رحیمیہ میں ہے:

"جس طرح انسان اور ان مادی چیزوں  کا تعلق ملاء اعلیٰ اور فرشتوں  سے ہے ، احادیث اور قرآن پاک کی آیتوں  سے معلوم ہوتا ہے کہ آسمانوں  کا تعلق بھی ملاء اعلیٰ سے ہے اور بہت زیادہ ہے بلکہ حدیث معراج اور اس جیسی احادیث اور قرآن حکیم کی متعدد آیتوں  سے تو یہ مترشح ہو تا ہے کہ ساتوں  آسمان، عالم بالا ہی کی وجودی حقیقتیں  ہیں  ، اور قرآن پاک میں  جس قوت کے ساتھ نہ صرف بار بار بلکہ تقریباً سوا سو بار "سماوات" کا ذکر کیا گیا ہے، اس سے بھی یہ اخذ کیا جاسکتا ہے اور سمجھا جاسکتا ہے۔ کہ ملائکہ، عرش و کرسی، روح، اور  برزخ وغیرہ کی طرح سما وات بھی الغیب میں  داخل ہیں  ،یعنی ان حقائق میں  داخل ہیں ۔ جو اگرچہ اپنا وجود رکھتی ہیں  ،مگر ہمارے مشاہدہ اور تجربہ کی رسائی ان تک  نہیں  ہوسکتی، لیکن ہماری حقیقی زندگی یعنی حیات اخروی اور اس کی کامیابی سے ان کا خاص تعلق ہے، لہذا ان کا ماننا ضروری ہے۔"

(کتاب الایمان ، ج: 1، ص:62،  ط: دار الاشاعت)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144606100360

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں