
عاشوراء کے دن کی طرف منسوب انبیاء علیہم السلام کے واقعات کی حقیقت کیا ہے اور ان میں سے کون کون سے واقعات مستند روایات سے ثابت ہیں؟
1۔ حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش، اور اس دن ان کی توبہ کا قبول ہونا۔
2۔ حضرت نوح علیہ السلام کی نجات، اور کشتی کا جودی پہاڑ پر جا کر ٹھہرنا۔
3۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیدائش، اور آگ سے نجات۔
4۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی دنبہ کے ذریعہ فداء۔ 5۔ حضرت موسی علیہ السلام کی پیدائش، تورات کا نزول، بنی اسرائیل کی نجات، دریا پار کرنا، اور فرعون کا غرق۔
6۔ حضرت یونس علیہ السلام کا مچھلی کے پیٹ سے نکلنا، اور ان کی قوم کی توبہ قبول ہونا ۔
7۔ حضرت ادریس علیہ السلام کی پیدائش اور اس دن ان کا آسمان پر اٹھا لینا۔
8۔ حضرت ایوب علیہ السلام کا شفایاب ہونا۔
9۔ حضرت داود علیہ السلام کی فیصلہ والی اجتہادی خطا معاف ہونا۔
10۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کا حکومت وسلطنت پر فائز ہونا۔
11۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا قید خانہ سے نکلنا۔
12۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کی بینائی واپس لوٹنا۔
13۔ حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش، اور آسمان پر اٹھا لینا۔
14۔ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش، اور اگلی پچھلی خطاؤں کی مغفرت کی بشارت ۔
ان واقعات میں سے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کی فرعون سے نجات کا واقعہ تو صحیح بخاری (رقم 3397،2004) اور صحیح مسلم (1130) میں مروی ہے۔ اس واقعہ کے علاوہ مندرجہ بالا واقعات میں کون کون سے مستند روایات سے ثابت ہیں؟
علامہ عبد الحی لکھنوی رحمہ اللہ (المتوفى: 1304ھ)عاشورا کے دن کے واقعات کے بارے میں لکھتے ہیں کہ:
’’صحاح ستہ اور دوسری جگہوں پر وارد ہونے والی صحیح احادیث سے جو بات ثابت ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عاشورا کے دن حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون اور اس کے لشکر سے نجات دی ۔ اور فرعون مع لشکر عاشورہ کے دن دریا میں غرق ہوا۔ اسی وجہ ٍسے یہودی عاشورہ کے دن روزہ رکھتے تھے اور اسے عیدکے طور پر مناتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائےاور یہودیوں کو روزہ رکھتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو روزے کا حکم دیا، اور عید منانے سے منع کیا، اور فرمایا کہ ہم ان سے ٍ زیادہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کےقریب ہیں اور یہود کی مشابہت وموافقت سےبچنے کے لئے عاشورا سے پہلے یا بعد والے دن بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ لطائف المعارف لابن رجب اور دیگر روایات سے یہ ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دن حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول فرمائی۔
اور ایک اور روایت سے ثابت ہے کہ اسی دن حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جودی نامی پہاڑی پر ٹھہر گئی تھی، جیسا کہ الدر المنثور میں ہے۔ جو کہ احمد اور ابوالشیخ، ابن مردویہ، ابن جریر، الاصبہانی اور دیگر کی طرف منسوب ہیں، اور الاصبہانی کی کتاب الترغیب والترہیب میں ایک روایت میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کا دن عاشورہ کا دن ہے جیسا کہ الدر المنثور میں بھی ہے۔
اور اس کے علاوہ وہ طویل احادیث میں جن میں ماضی اور مستقبل کے بہت سے عظیم واقعات کو عاشورہ کے دن ہونے کا ذکر کیا گیا ہے، ان کی کوئی بنیاد نہیں ، اگرچہ ان کا تذکرہ بہت سے ارباب تصوف اور تاریخ نے اپنی تالیفات میں کیا ہیں، مثلا: فقیہ ابو لیث رحمه الله نے تنبیہ الغافلین میں ایک لمبی حدیث بیان کی ہے، اور بستان العارفين میں بھی اس کا ذکر کیا ہے، لیکن ان کے ذکر سے کوئی دھوکہ نہ کھا ئے۔
الآثار المرفوعہ فی الاخبار الموضوعہ میں ہے:
"قلت: الذي ثبت بالأحاديث الصحيحة المروية في الصحاح الستة وغيرها: أن الله تعالى نجى موسى على نبينا وعليه الصلاة والسلام من يد فرعون وجنوده، وغرق فرعون ومن معه يوم عاشوراء، ومن ثم كانت اليهود يصومون يوم عاشوراء ويتخذونه عيدا، وقد صام النبي حين دخل المدينة، ورأى اليهود يصومونه وأمر أصحابه بصيامه، وقال: نحن أحق بموسى منكم، ونهى عن اتخاذه عيدا وأمر بصوم يوم قبله أو بعده حذرا من موافقة اليهود والتشبه بهم في إفراد صوم عاشوراء، وثبت بروايات أخر في لطائف المعارف لابن رجب وغيره: أن الله قبل توبة آدم على نبينا وعليه الصلاة والسلام، وثبت برواية أخرى أن نوحا على نبينا وعليه الصلاة والسلام استوت سفينته على الجودي يوم عاشوراء، كما في الدر المنثور وغيره معزوا إلى أحمد وأبي الشيخ وابن مردويه وابن جرير والأصبهاني وغيرهم، وفي رواية للأصبهاني في كتاب الترغيب والترهيب: أن يوم ولادة عيسى يوم عاشوراء كما في الدر المنثور أيضا.
وأما هذه الأحاديث الطوال التي ذكر فيها كثير من الوقائع العظيمة الماضية والمستقبلة، أنها في يوم عاشوراء فلا أصل لها، وإن ذكرها كثير من أرباب السلوك والتاريخ في تواليفهم، ومنهم الفقيه أبو الليث ذكر في تنبيه الغافلين حديثًا طويلا في ذلك، وكذا ذكر في بستانه، فلا تغتر بذكر هؤلاء؛ فإن العبرة في هذا الباب لنقد الرجال لا لمجرد ذكر الرجال. ومنها:
حديث أبي هريرة مرفوعا: إن الله افترض على بني إسرائيل صوما في السنة، وهو يوم عاشوراء، وهو اليوم العاشر من المحرم، ووسِّعوا فيه على أهليكم؛ فإنه من وسّع على أهله من ماله يوم عاشوراء، وهو اليوم الذي رفع الله فيه إدريس مكانا عليا، وهو اليوم الذي نجى الله فيه إبراهيم من النار، وهو اليوم الذي أخرج فيه نوحا من السفينة، وهو اليوم الذي أنزل الله فيه التوراة على موسى، وفيه فدي إسماعيل من الذبح، وهو اليوم الذي أخرج الله فيه يوسف من السجن، وهو اليوم الذي رد الله على يعقوب بصره، وهو اليوم الذي كشف الله فيه البلاء عن أيوب، وهو اليوم الذي أخرج الله فيه يونس من بطن الحوت، وهو اليوم الذي خلق الله فيه البحر لبني إسرائيل، وهو اليوم الذي غفر الله لمحمد ذنبه ما تقدم منه وما تأخر، وفي هذا اليوم عبر موسى البحر، وفي هذا اليوم أنزل الله التوبة على قوم يونس، فمن صام هذا اليوم كان له كفارة أربعين سنة، وهو أول يوم خلق الله من الدنيا، وأول مطر نزل من السماء يوم عاشوراء، فمن صام عاشوراء فكأنما صام الدهر كله، وهو صوم الأنبياء، ومن أحيى ليلة عاشوراء فكأنما عبد الله مثل عبادة أهل السماوات السبع، ومن صلى فيه أربع ركعات يقرأ في كل ركعة بالحمد مرة، وقل هو الله أحد غفر الله له ذنوب خمسين عاما ماضية، وخمسين عاما مستقبلة، وبنى له في الملأ الأعلى ألف منبر من نورن ومن سقى شربة من ماء، فكأنما لم يعص الله طرفة عين، ومن أشبع أهل بيت مساكين يوم عاشوراء مرّ على الصراط كالبرق الخاطف، ومن تصدق بصدقة فكأنما لم يرد سائلا قطن ومن اغتسل يوم عاشوراء لم يمرض إلا مرض الموت، ومن اكتحل يوم عاشوراء لم ترمد عيناه تلك السنة كلها، ومن أمر يده على رأس يتيم فكأنما أمر يده على يتامى ولد آدم كلهم، ومن عاد مريضًا يوم عاشوراء فكأنما عاد مرضى ولد آدم كلهم.
أخرجه ابن الجوزي، وقال: رجاله ثقات، والظاهر أن بعض المتأخرين وضعه، وركبه على هذا الإسناد، وقال ابن عراق: قلب، قال الذهبي: أدخل علي أبي طالب محمد بن أحمد العشاوي أحد رواته فحدث به بسلامة باطن وفي سنده أبو بكر النجار وقد عمى بآخره وجوز الخطيب أن يكون أدخل عليه شيء فيحتمل أن يكون مما أدخل عليه انتهى".
(الآثار المرفوعة في الأخبار الموضوعة: فضل يوم عاشوراء وصيامه (ص:97)، ط. مكتبة الشرق الجديد - بغداد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144601100455
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن