بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اشہرِ حج میں عمرہ کرنے والے کا مکہ ہی میں رہتے ہوئے حجِِ قران کرنے کا حکم


سوال

ایک شخص نے ذی قعدہ میں عمرہ کیا اور مکہ ہی میں مقیم رہا، پھر چھ ذی الحج کو حجِ قران کا احرام باندھے، تو اس طرح کرنا شرعًا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ حج کے ایام میں میقات میں موجود شخص مکہ والوں کے حکم میں ہوتا ہے اور مکہ اور میقات کے اندر رہنے والوں کے لیے حجِ  تمتع یا قران کا احرام باندھنا جائز نہیں، لہٰذا خارجِ  میقات سے آنے والا اگر حجِ  قران کی نیت سے داخل نہیں ہوا، بلکہ صرف عمرہ کی نیت سے داخل ہوا یا حجِ تمتع کی نیت سے آیا اور عمرہ کرکے حلال ہوچکا ہے، پھر میقات میں ہوتے  ہوئے حجِ قران کی نیت سے حج کا احرام  باندھنا چاہے تو ایسا کرنا جائز نہیں، ہاں  خارجِ  میقات سے آنے والا اگر صرف عمرے کی نیت سے آیا تھا اور عمرہ کرنے کے بعد قران کرلیا، تو حج تو ادا ہوجائے گا،  لیکن دم دینا لازم ہوگا، البتہ ایسا شخص (یعنی خارجِ  میقات سے صرف عمرے کی نیت سے آنے والا) اگر اشہرِ حج میں عمرے سے فراغت کے بعد مکہ ہی میں مقیم رہا اور ایامِ حج میں صرف حج کرنا چاہے تو حج کرسکتاہے اور ایسی صورت میں چونکہ اس نے ایک ہی سفر میں حج اور عمرہ کی سعادت حاصل کی ہے؛ اس لیے بطورِ شکر اس پر دم لازم ہوگا۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(والمكي ومن في حكمه يفرد فقط) ولو قرن أو تمتع جاز وأساء، وعليه دم جبر.

وفي الرد: (قوله ولو قرن أو تمتع جاز وأساء إلخ) أي صح مع الكراهة للنهي عنه."

(كتاب الحج، باب الجنايات في الحج، ج:2، ص:539، ط:ايج ايم سعيد)

وفيه أيضاً:

"(كوفي) أي آفاقي (حل من عمرته فيها) أي الأشهر (وسكن بمكة) أي داخل المواقيت (أو بصرة) أي غير بلده (وحج) من عامه (متمتع) لبقاء سفره.

وفي الرد: (قوله أي آفاقي) أشار به إلى أن ذكر الكوفي مثال وأن المراد به من كان خارج الميقات لأن المكي لا تمتع له كما مر (قوله حل من عمرته فيها) لأنه لو اعتمر قبلها لا يكون متمتعا اتفاقا نهر (قوله أي داخل المواقيت) أشار إلى أن ذكر مكة غير قيد، بل المراد هي أو ما في حكمها (قوله أي غير بلده) أفاد أن المراد مكان لا أهل له فيه سواء اتخذه دارا بأن نوى الإقامة فيه خمسة عشر يوما أو لا كما في البدائع وغيرها، وقيد به لأنه لو رجع إلى وطنه لا يكون متمتعا اتفاقا أيضا إن لم يكن ساق الهدي نهر (قوله لبقاء سفره) أما إذا أقام بمكة أو داخل المواقيت فلأنه ترفق بنسكين في سفر واحد في أشهر الحج وهو علامة التمتع."

(كتاب الحج، باب الجنايات في الحج، ج:2، ص:541، ط:ايج ايم سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144610102233

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں