
ان اشعار کا مضمون کیسا ہے ۔ اگر کہیں غلط ہے تو واضح فرما دیں ۔ جزاک اللہ۔
**مینوں شوق مدینے جاوَن دا،
میرے دل وچ حسرت ہور نئیں۔
آقا! تیری مرضی دا وارث،
ساڈے ولّ کوئی زور نئیں۔**
**میرا روپ وی نئیں، رنگ وی نئیں،
منان یار دا ڈھنگ وی نئیں۔
نہ عشق ہے رومی ورگا،
نہ جامی ورگی ٹُھور وی نئیں۔**
**تیرے ناں دے تذکرے عرشاں تے،
تیرے حسن دے چرچے فرشاں تے۔
کوئی تھاں نئیں ایسی دنیا وچ،
جتھے آقا تیرا شور نئیں۔**
**میرا عشق تے کیندا حوصلہ؟
بلاؤا رب دا آوے گا۔
پر بے صبری دے ہجر نوں،
میرے دل توں جاندا چور نئیں۔**
**تیری قبر تے حافظ لکھ واری،
پاوے دنیا والے لکھ دیوے۔
جے دل وچ عشق نبی ناں ہووے،
تے روشن ہون تیری گور نئیں۔**
**مدینہ دیکھاں، سوہنا دیکھاں،
طیبہ والا رستہ دیکھاں۔
مینوں شوق مدینے جاوَن دا،
میرے دل وچ حسرت ہور نئیں۔**
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ نظم محبتِ رسول ﷺ اور مدینہ کی تڑپ سے لبریز ہے، اس کے تمام اشعار درست ہیں، سوائے پہلا شعر جس میں مدینہ جانے کو حضورﷺ کی مرضی پر موقوف کیا ہے، جو کہ درست نہیں ہے؛ کیوں کہ مدینہ جانا اللہ رب العزت کی مرضی سے ہی ممکن ہے،لہذا اس شعر کو اسی عقیدہ سے پڑھنا جائز نہیں ہے، تاہم اگر کوئی شخص محبتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حد درجہ ڈوباہوا ہو، اور وہ بلااختیار،مغلوب الحال ہوکر اس عقیدے سےیہ کہے کہ فرشتے آپ ﷺ تک میری بات پہنچاسکتے ہیں،اور میری بات آپ ﷺ تک پہنچنے کے بعد وہ اللہ تعالیٰ سے میرے حق میں سفارش کرسکتے ہیں اورپھر اللہ تعالیٰ ہی ان کی سفارش قبول کرکے میری حاضری کے اسباب بنانے والے ہیں،تو اس صورت میں ایسا کہنے کی گنجائش ہے۔
''اقتضاء الصراط المستقيم لمخالفة أصحاب الجحيم لابن تيمية ''میں ہے:
"وقوله: " يا محمد يا نبي الله " هذا وأمثاله نداء يطلب به استحضار المنادى في القلب، فيخاطب الشهود بالقلب: كما يقول المصلي: " السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته " والإنسان يفعل مثل هذا كثيرا، يخاطب من يتصوره في نفسه، وإن لم يكن في الخارج من يسمع الخطاب."
( فصل في مقامات الأنبياء وحكم قصدها، التوسل إلى الله بالأعمال الصالحة، ج: 2، ص: 319، ط: دار عالم الكتب، بيروت، لبنان)
امداد الفتاوی میں ہے:
"بارادۂ استعانت و استغاثہ یا باعتقاد حاضر وناظر ہونے کے منہی عنہ اوربدون اس اعتقاد کے محض شوقاً و استلذاذاً ماذون فیہ ہے، چوں کہ اشعار پڑھنے کی غرض محض اظہار شوق و استلذاذ ہو تاہے؛ اس لیے نقل میں توسع کیا گیا، لیکن اگر کسی جگہ اس کے خلاف دیکھا جائے گا منع کر دیا جائے گا۔"
(بعنوان یا رسول اللہ کہنا، ج: 11، ص: 575، ط: زکریا بک ڈپو ہند)
فتاوی رشیدیہ میں ہے:
"ایسے کلمات کو نظم ہو یا نثر ورد کرنا مکروہ تنزیہی ہے، کفر و فسق نہیں کیوں کہ وجہ کفر کی غیر کو حاضر و متصرف جاننا ہے، اور وجہ فسق کی احتمال فساد عقیدہ عوام اور اپنے اوپر تہمت شرک رکھنا اور کراہۃ تنزیہی یہ کہ فی الجملہ مشابہت استعانت غیر سے ہونے کی تھی، گو نیت نہیں،جیسا قسم غیر اللہ تعالی کی کو شرک حدیث میں فرمایا اور خود آپ نے ہی بعض اوقات غیر کی قسم کھائی۔"
(كتاب:ايمان و کفر کے مسائل،ص:65،ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705101345
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن