بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 ربیع الاول 1448ھ 22 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

عصر کی نماز وقت سےپہلے پڑھنا


سوال

 میں تبلیغ میں ایک مقام پر گیا، وہاں امام صاحب زبردستی عصر کاوقت داخل ہونے سے پہلے نماز پڑھاتےتھے ،پوچھنے پر پتا چلا کہ وہ دس سال سعودیہ رہ کر آئے ہیں ،یہ ان کا ذاتی تفرد ہے،  باقی سارے مسائل میں احناف کے ساتھ ہیں، تو جو مقامی  لوگ سالوں سے ان کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں، ان کا کیا حکم ہے؟ اور یہ خود عالم ہیں کیا ان کا یہ تفرد  صحیح ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں عصر کا وقت داخل ہونے سے پہلے جو عصر کی نماز ادا کی گئی ہے وہ ادا نہیں ہوئی ،ان نمازوں کا اعادہ کرنا لازم ہے اور آئندہ اس امام کی اقتدا میں عصر کی نماز نہ پڑھیں۔مذکورہ امام کا یہ تفرد قابل اعتبار نہیں ۔ 

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے :

"(ومنها) الوقت؛ لأن الوقت كما هو سبب لوجوب الصلاة فهو شرط لأدائها، قال الله تعالى: ﴿ اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ كِتَاباًمَّوْقُوْتاً﴾ [النساء: 103] ، أي فرضاً مؤقتاً، حتى لا يجوز أداء الفرض قبل وقته إلا صلاة العصر يوم عرفة على ما يذكر"

(كتاب الصلاة، فصل شرائط أركان الصلاة، ج:1،ص:121،ط:دار الكتب العلمية)

درر الحكام شرح غرر الأحكام میں ہے

"(و)‌‌ وقت (العصر منه) أي ‌من ‌بلوغ ‌الظل ‌مثليه (إلى غروبها) أي الشمس."

(کتاب أوقات الصلوات ، باب وقت العصر، ج:1،ص: 51،ط:دار الکتب العربیہ)

 فتاوی شامی میں ہے:

"والأحسن ما في السراج عن شيخ الإسلام أن الاحتياط أن لا يؤخر الظهر إلى المثل، وأن لا يصلي العصر حتى يبلغ المثلين ليكون مؤديا للصلاتين في وقتهما بالإجماع، هل إذا لزم من تأخيره العصر إلى المثلين فوت الجماعة يكون الأولى التأخير أم لا؟ الظاهر الأول، بل يلزم لمن اعتقد رجحان قول الإمام، تأمل، ثم رأيت في آخر شرح المنية ناقلاً عن بعض الفتاوى: أنه لو كان إمام محلته يصلي العشاء قبل غياب الشفق الأبيض، فالأفضل أن يصليها وحده بعد البياض".

( كتاب الصلاة، ج:1،ص: 359،ط:دار الفكر - بيروت )

اعلاء السنن میں ہے:

وهذا هو الحكم فيما إذا قدمها الإمام عن وقتها عند أبي حنيفة في العصر والعشاء، فيصليها قبل المثلين في الأولى، وقبل غياب البياض في الثانية مثلا، فيستحب للمأموم أن يصليها مع الإمام لإدراك فضيلة الجماعة ثم يعيدها منفردا، ولو أراد الاقتصار فالأولى أن يقتصر على أدائها منفردا في الوقت المجمع عليه. كما قدمناه في الجزء الثاني عن رد المحتار، ونصه: وانظر هل إذا لزم من تأخيره العصر إلى المثلين فوت الجماعة يكون الأولى التأخير أم لا والظاهر الأول، بل يلزم لمن اعتقد جحان قول الإمام ، تأمل ثم رأيت في آخر شرح المنية ناقلا عن بعض الفتاوى أنه لو كان إمام محلة يصلى العشاء قبل غياب الشفق الأبيض فالأفضل أن يصليها وحده بعد البياض اهـ (۱ : ۳۷۲) والأولى ما قلنا: إنه يصلى مع الإمام ثم يعيدها ، ولا تكره إعادة العصر في هذه الصورة لأن الأولى لم تصح عند الإمام، فيكون الفرض هي الثانية ، لم أره صريحا ولكنه مقتضى القواعد، والله أعلم.

(كتاب الصلاة،باب ما يفعل المأموم اذا اخرالأمام الصلاة، ج:4، ص:387، ط:ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیة)

فتاوی رحیمیہ میں ہے:

(سوال ۱۰۱)  ہم لوگ سعودیہ عربیہ کے مقام جدہ میں بغرض ملازمت مقیم ہیں۔ ایک کمپنی میں کام کرتے ہیں۔ جس میں بہت سے لوگ ہندوستانی حنفی ہیں اور بہت سے لوگ یمنی بھی ہیں۔ کمپنی میں ایک مسجد بھی بنائی گئی ہے۔ اس مسجد میں یمنی حضرات بضد ہو کر عصر کی نماز ایک مثل پر جماعت کر کے پڑھتے ہیں، ہم نے ان کو بہت سمجھایا کہ ہمارے اعتبار سے عصر کا وقت نہیں ہوتا مگر وہ لوگ نہیں مانتے اور ایک مثل پر ہی جماعت کر کے نماز پڑھتے ہیں، ایسی حالت میں اگر حنفی ان کے ساتھ جماعت میں شریک ہو جا ئیں اور نماز پڑھ لیں تو کیا حکم ہے؟ نماز ادا ہو جائے گی یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔

( الجواب ) عصر کا وقت ایک مثل سایہ سے شروع ہوتا ہے یا دو مثل سے اس میں اختلاف ہے۔ احتیاط کا تقاضہ یہ ہے کہ ظہر کی نماز ایک مثل کے اندر پڑھ لی جائے اور عصر کی نماز دو مثل ہونے کے بعد ادا کی جائے ۔ حضرت ابو ہریرہ کی روایت سے اس کی تائید ہوتی ہے۔عن عبد الله بن رافع مولى ام سلمة زوج النبي صلى الله عليه وسلم أنه سئل أبا هريرة عن وقت الصلوة فقال ابو هريرة انا اخبرك صل الظهر اذا كان ظلك مثلك والعصر اذا كان ظلك مثليک.یعنی عبداللہ بن رافع مولی ام سلمہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ سے نماز کے اوقات کی بابت سوال کیا تو حضرت ابو ہریرہ نے فرمایا کہ میں تم کو بتلاتا ہوں ظہر کی نماز اس وقت پڑ ھو جب تمہار ا سا یہ تمہارے برابر ہو اور عصر کی نماز ایسے وقت ادا کرو جب تمہار ا سا یہ تم سے دو چند ہو (موطا امام مالک ص ۳ وقوت الصلوة )

اگر عصر کی نماز دو مثل سے پہلے پڑھ لی جائے (جیسا کہ آپ کے یہاں ہوتا ہے ) تو نماز مشتبہ ہوگی، دو مثل کے بعد پڑھنے میں شبہ نہ رہے گا ،بلکہ بالا تفاق ادا ہو جائے گی ،عبادات میں  احتیاط لازم ہے۔ یہ حضرات دو مثل سے پہلے ہی پڑھنے پر بضد ہوں تو دوسری مسجد میں جہاں احتیاط پر عمل ہوتا ہو چلے جائیں ۔ اگر یہ ممکن نہ ہو یا دشوار تر ہو تو مجبورا جماعت کے ساتھ نماز ادا کر لیں اور دو مثل سایہ کے بعد تنہا تنہا اعادہ کر لیا کریں۔والا ولى ما قلنا انه يصلى مع الامام ثم يعيدها ولا تكره اعادة العصر في هذه الصورة لان الاولى لم تصح عند الامام فيكون الفرض هي الثانية لم اره صريحا ولكنه مقتضى القواعد (اعلاء السنن ج ۲ ص ۳۷۶ باب ما يفعل المأموم اذا أخر الامام الصلاةفقط والله اعلم بالصواب.

( کتاب الصلاۃ،مجبوراً عصر کی نماز جماعت کےساتھ ایک مثل میں پڑھنا صحیح ہے یا نہیں ج:4 ص 83،ط:دار الاشاعت)

وفیہ ایضاً: 

(سوال (۹۳) محلہ کا امام عصر کی نماز مثلین سے پہلے ، اسی طرح عشاء کی نماز شفق ابیض کے غائب ہونے سے پہلے پڑھتا ہے تو مجھے کیا کرنا چاہئے ۔ بینوا تو جرنوا۔

( الجواب ) دوسری مسجد میں جہاں صحیح وقت پر نماز پڑھی جاتی ہو جا کر پڑھنی چاہئے ۔ اگر یہ ممکن نہ ہو یا دشوار ہو تو امام کے ساتھ پڑھ لیں اور وقت آنے پر منفردا اعادہ کر لیں ۔ثم رأیت في آخر شرح المنية ناقلاً عن بعض الفتاوى انه لو كان امام محلة يصلى العشاء قبل غياب الشفق الا بيض فالا فضل ان يصليها وحده بعد البياض  ص ۳۷۲ ج ا ) (اعلاء السنن ص ۷ ج ۲) کتاب الصلاة باب المواقيت والا ولى ما قلنا انه يصلى مع الامام ثم يعيدها ولا تكره اعادة العصر في هذه الصورة لان الاولى لم تصح عند الامام فيكون الفرض هي الثانية لم اره صريحاً ولكنه مقتضى القواعد فقط والله اعلم بالصواب (اعلاء السنن ج ۲ ص ۳۷۶ باب ما يفعل المأموم اذا أخر الامام الصلاة)

( کتاب الصلاۃ،عصر کی نمامثل ثانی میں پڑھی جاتی ہے، ج:4 ص 83،ط:دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144610101313

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں