
قرض کی رقم حاصل ہونے کے بعد معلوم ہوا کہ بینک آف پنجاب نے "ہینڈلنگ چارجز" کے نام پر 22 لاکھ روپے اضافی بھی وصول کرنے کی شرط رکھی ہے، چنانچہ مجھے 5 سال کے اندر 3 کروڑ 22 لاکھ روپے واپس کرنے ہوں گے۔
جب کہ قرض کا معاملہ طے ہونے سے قبل حکومت یا اس کے نمائندے نے اس بات کی وضاحت نہیں کی تھی۔
اب سوال کرنے پر بینک آف پنجاب کا کہنا ہے کہ اس رقم کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں یہ بینک آف پنجاب اپنی سروس کے لے رہا ہےجو “ ہینڈلنگ چارجز” کے نام سے ہے۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ آیا قرض کی اصل رقم کے علاوہ "ہینڈلنگ چارجز" کے نام سے یہ 22 لاکھ روپے وصول کرنا شرعاً جائز ہے یا یہ سود کے حکم میں داخل ہوگا؟
واضح رہے کہ قرض پر مشروط اضافی رقم لینا یا دینا سود ہے، جو حرام اور ناجائز ہے۔ قرض کے بدلے اصل رقم سے زائد جو رقم وصول کی جائے، خواہ اسے سود، منافع، سروس چارجز، ہینڈلنگ چارجز یا کسی اور نام سے موسوم کیا جائے، تو وہ شرعاً سود کے حکم میں داخل ہوگی۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر حکومتِ پنجاب کی مذکورہ اسکیم کے تحت دیے جانے والے قرض پر "ہینڈلنگ چارجز" کے نام سے اصل قرض کی رقم کے علاوہ اضافی رقم ادا کرنا لازم ہےتو اس اضافی رقم کا لین دین سود ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔
إعلاء السنن میں ہے:
"عن علي أمير المؤمنين رضي الله عنه مرفوعا: كل قرض جر منفعة فهو ربا ... وقال الموفق: وكل قرض شرط فيه الزيادة فهو حرام بلا خلاف."
(كتاب الحوالة، باب كل قرض جر منفعة فهو ربا، ج:14، ص: 516 ط: إدارة القرآن)
فتاوی شامی میں ہے:
(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه."
(باب المرابحة والتولية،فصل في القرض،مطلب كل قرض جر نفعا حرام،ج:5، ص:166،ط:سعید)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144712101057
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن