
عصا/ لاٹھی پکڑنا کیسا ہے اور اس کو سنت کہا جا سکتا ہے؟ اور کس عمر میں پکڑنا جائز ہے؟ میری عمر 22 سال ہے اور میں پکڑتا ہوں، لیکن مسجد کے کچھ ساتھی اعتراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے 40 سال کی عمر کے بعد اس کو پکڑا، اور یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر لاٹھی پکڑنی ہے تو گھوڑے پر سواری کرو، اور اس طرح جس طرح پرانے لوگ کام کیا کرتے تھےکام کرو، بکریاں چراؤ، وغیرہ وغیرہ۔
واضح رہے کہ عصا پکڑنا سنت عمل ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک میں عصا ہواکرتی تھی، اسی طرح دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کے بارے میں بھی عصا رکھنے اور اس پر ٹیک لگانے کے تذکرے ملتے ہیں، تو یہ سنتِ انبیاء بھی ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں عصا، سنت کی نیت سے رکھنا جائز اور مستحسن عمل ہے، اور عصا پکڑنے کے ساتھ عمر کی کوئی قید نہیں ہے، تاہم طبعی طور پر کسی ضرورت، یا ضعف (عمر رسیدگی) کی وجہ سے اس پر ٹیک لگانے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ باقی 40 سال کی عمر ، یا گھوڑے پر سواری، یا بکریاں چرانے، اور پرانے لوگوں کی طرح مشقت والے کام کرنے، وغیرہ کی کوئی قید ضروری نہیں ہے، یہ قیودات لگانا درست نہیں ہے۔
كشف الخفاءمیں ہے:
"(التوكؤ على العصا من سنة الأنبياء عليهم الصلاة والسلام) قال القاري كلام صحيح، وليس له أصل صريح، وإنما يستفاد من قوله تعالى … (وما تلك بيمينك يا موسى) … ومن فعل نبينا صلى الله عليه وسلم في بعض الأحيان كما بينه في رسالة، قال وأما حديث من بلغ الأربعين ولم يمسك العصا فقد عصى فليس له أصل انتهى، وقال ابن حجر الهيثمي روى ابن عدي عن ابن عباس رضي الله عنهما أنه قال التوكؤ على العصا من أخلاق الأنبياء وكان صلى الله عليه وسلم يتوكأ عليها، ورواه الديلمي بسند عن أنس رفعه حديث حمل العصا علامة المؤمن وسنة الأنبياء، وروي أيضا كانت للأنبياء كلهم مخصرة يختصرون بها تواضع لله عز وجل، وأخرج البزار والطبراني بسند ضعيف حديث: إن أتخذ العصا، فقد اتخذها أبي إبراهيم، وأخرج ابن ماجه عن أبي أمامة: خرج إلينا رسول الله صلى الله عليه وسلم متوكئا على عصاه."
(حرف المثناة الفوقية، 1/ 321، ط: مكتبة القدسي، القاهرة)
فتاوی محمودیہ میں ہے :
”اگر ادائے سنت کی نیت ہو تو موافقِ سنّت عصا رکھنے سے ان شاء اللہ بلا قیدِ عمر بھی ثواب ملے گا۔“ (4/ 484)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144502101032
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن