
میں نے اپنے بیٹے کی شادی کی اور اس کو سونا دیا ،اس کی اہلیہ کے استعمال کے لئے، اور بچوں کو اس کا مالک بھی نہیں بنایا، تو میرے بیٹے نے اپنی بیوی کو پہلے طلاق دی، پھر صلح ہوگئی، جبکہ میرے بیٹے کی بیوی طلاق سے پہلے یہ سونا اپنے گھر لے گئی تھی، ہم نے بڑوں کو درمیان میں لاکر سونا دوبارہ واپس لے لیا اور بیٹے نے یہ بات بیوی کو بتائی کہ یہ سونا میرے والد کی ملک ہے، آپ کے پاس صرف استعمال کے لئے ہے ،اب میرےبیٹے نےدو بارہ دو طلاقیں دی ہیں ، اب لڑکی والے سونے کا مطالبہ کررہے ہیں ۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا لڑکی والے مجھ سے سونے کا مطالبہ کرسکتے ہیں ؟
صورت مسئولہ میں اگر واقعۃ سائل نے سونا اپنے بیٹے کو عاریت پر بیوی کے استعمال کے لئے دیا تھا، تو سائل کی بہو کو استعمال کرنے کی تو اجازت ہے ،لیکن اس پر مستقل طور پر قبضہ کرنا یا جب سائل نے اپنا سوناواپس لے لیا تو دوبارہ مطالبہ کرنا شرعا جائز نہیں ۔
بدائع الصنائع میں ہے :
"وأما صفة الحكم فهي أن الملك الثابت للمستعير ملك غير لازم؛ لأنه ملك لا يقابله عوض، فلا يكون لازما كالملك الثابت بالهبة، فكان للمعير أن يرجع في العارية سواء أطلق العارية أو وقت لها وقتا،"
(كتاب العارية ،فصل في صفة الحكم في الإعارة ،ج:6،ص: 216،ط:دار الكتب العلمية)
مجلۃالاحکام العدلیہ میں ہے:
" لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه. لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي."
(المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، المادۃ: 97/96، ص: 27، ط: نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705101181
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن