بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا عقیقے کے گوشت سے ماں اور باپ کھاسکتے ہیں؟


سوال

کیا عقیقے کے گوشت سے ماں اور باپ کھاسکتے ہیں؟

جواب

عقیقہ کے گوشت کا حکم بھی قربانی کے گوشت کی طرح ہے، یعنی عقیقہ کا گوشت سارا خود بھی کھاسکتے ہیں اور  ماں باپ اور دیگر گھر والوں کو بھی کھلاسکتے ہیں اور دوسروں کو ہدیہ بھی دے سکتے ہیں، البتہ  مستحب یہ ہے کہ  قربانی کے گوشت کی طرح اس کے بھی تین حصے کیے جائیں،  ایک حصہ اپنے لیے رکھا جائے اور ایک حصہ عزیز و اقارب میں تقسیم کیا جائے اور ایک حصہ فقراء میں تقسیم کرنا مستحب ہے،اور اس گوشت سے دعوت کرنا بھی جائز ہے اور ایسی دعوت میں شریک ہونا بھی جائز ہے۔

اعلاء السنن میں ہے:

" یصنع بالعقیقة مایصنع بالأضحیة ... وفي قوله: "یأکل أهل العقیقة ویهدونها" دلیل علی بطلان ما اشتهر علی الألسن: أن أصول المولود لایأکلون منها؛فإن أهل العقیقة هم الأبوان أولًا ثم سائر أهل البیت . "

( إعلاء السنن، باب أفضلية ذبح الشاة في العقيقة، قبیل باب ما یقول الذابح عند الذبح، (17/ 127) ط: إدارة القرآن، كراتشي، الطبعة الثالثة: 1415ه )

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144706101194

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں