بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

عاقلہ بالغہ کا ولی کی اجازت کے بغیر کفو میں نکاح کرنا


سوال

ایک نوجوان لڑکا ہے جس کی عمر 17سال ہے اور ایک لڑکی ہے جس کی عمر 16سال ہے،جب یہ لڑکا 16سال کا تھا اور لڑکی 15سال کی تھی تو دونوں نے اپنے گھر والوں سے چھپ کر نکاح کیا اور حق مہر 30ہزار روپیہ رکھا،نکاح پڑھانے والا اور دونوں گواہ لڑکے کے دوست تھے،لڑکا اور لڑکی دونوں عاقل اور بالغ ہیں۔

نکاح دو عاقل اور بالغ گواہوں کی موجودگی میں ہوا ہے۔جن کی عمر 17 سال ہے،اور نکاح پڑھانے والے کی عمر 16سال ہے۔نکاح لڑکی کے ولی کی اجازت کے بغیر ہوا ہے اور کفو میں ہوا ہے۔

کیا یہ نکاح شرعی طور پر منعقد ہے؟

جواب

عاقلہ بالغہ لڑکی کا نکاح اپنی ولی کی اجازت کے بغیر پسندیدہ نہیں ہے،تاہم ایسا نکاح شرعا منعقد ہوجاتا ہے،باقی  اگر عاقلہ بالغہ لڑکی ، ولی کی اجازت کے بغیر ،کفو میں گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کر کے  نکاح کرلےتونکاح منعقد ہو جاتا ہے، پھر لڑکی کے اولیاء   کو وہ نکاح  فسخ کرنے کا اختیار نہیں ہوتا ، لیکن  اگر لڑکی نے  ولی کی اجازت کے بغیر    غیر کفو میں نکاح کیا   تو   لڑکی کے اولیاء کو  اس کی اولاد ہونے سے پہلے پہلے عدالت سے  رجوع کرکے اس نکاح کو فسخ کرنے کا اختیار ہوتا ہے، اگر نکاح کے بعد اس لڑکی کے ہاں   بچہ پیدا ہوجائے تو پھر اولیاء کو فسخِ نکاح کا اختیار نہیں ہوتا۔

 کفو کا مطلب یہ ہے کہ  لڑکا دین،دیانت، نسب، پیشہ ، مال اور تعلیم میں لڑ کی کے ہم پلہ ہو ، اس سے کم نہ ہو۔ صرف خاندان الگ ہونے کی وجہ سے غیر کفو نہیں ہوتا۔

لہٰذا صورتِ  مسئولہ میں اگر لڑکی نے واقعتًا اپنے ولی  کی اجازت کے بغیر ، کفو  میں   گواہوں کی موجودگی میں نکاح کیا ہے تو  یہ نکاح منعقد ہوگیا ہے۔ 

الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین میں ہے:

"(فنفذ نكاح حرة مكلفة  بلا) رضا (ولي)، والأصل أن كل من تصرف في ماله تصرف في نفسه، وما لا فلا."

 ( کتاب النکاح ، باب الولی،ج3،ص55، ط: سعید)

بدائع الصنائع  میں ہے:

"الحرة البالغة العاقلة إذا زوجت نفسها من رجل أو وكلت رجلاً بالتزويج فتزوجها أو زوجها فضولي فأجازت جاز في قول أبي حنيفة وزفر وأبي يوسف الأول، سواء زوجت نفسها من كفء أو غير كفء بمهر وافر أو قاصر، غير أنها إذا زوجت نفسها من غير كفء فللأولياء حق الاعتراض."

 (کتاب النکاح، فصل ولایۃ الندب والاستحباب فی النکاح،ج2،ص247، ط: سعید )

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ثم المرأة إذا زوجت نفسها من غير كفء صح النكاح في ظاهر الرواية عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وهو قول أبي يوسف - رحمه الله تعالى - آخراً وقول محمد - رحمه الله تعالى - آخراً أيضاً، حتى أن قبل التفريق يثبت فيه حكم الطلاق والظهار والإيلاء والتوارث وغير ذلك، ولكن للأولياء حق الاعتراض ... وفي البزازية: ذكر برهان الأئمة أن الفتوى في جواز النكاح بكراً كانت أو ثيباً على قول الإمام الأعظم، وهذا إذا كان لها ولي، فإن لم يكن صح النكاح اتفاقاً، كذا في النهر الفائق، ولا يكون التفريق بذلك إلا عند القاضي، أما بدون فسخ القاضي فلا ينفسخ النكاح بينهما."

( کتاب النکاح، الباب الخامس فی الاکفاء فی النکاح،ج1،ص292، ط: رشیدیہ)

الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین میں ہے:

"ونظم العلامة الحموي ما تعتبر فيه الكفاءة فقال: 

إن الكفاءة في النكاح تكون في ... ست لها بيت بديع قد ضبط

نسب وإسلام كذلك حرفة ... حرية وديانة مال فقط."

( کتاب النکاح، باب الکفاءۃ، ج3،ص86،ط: سعید) 

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709101172

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں