بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

عقیقہ کا وقت،جانور،اور اس کے گوشت کا استعمال


سوال

 بیٹی کا عقیقہ پیدائش ہونے کے بعد سے کتنے سال تک کر سکتے ہیں ۔اور کون سے جانور کر سکتے ہیں ۔اور اس کے گوشت کھانے اور باٹنے کی کیا ترتیب ہے؟

جواب

عقیقہ کا مستحب وقت بچی کی  پیدائش کا ساتواں  (7)دن ہے، اگر ساتویں دن عقیقہ نہ کرسکیں تو چودہویں (14)  دن، ورنہ اکیسویں (21) دن کرلیں،  اس کے بعد بھی عقیقہ کرنا درست ہے، اگر کرلیاتو ادا ہوجائےگا، اگرچہ مستحب وقت کی فضیلت حاصل نہیں ہوگی۔ 

عقیقہ کے لیے جانوروں میں ان شرائط کاہوناضرروی ہے جوشرائط قربانی کے جانوروں کے لیے ہیں۔یعنی جن جانوروں کی قربانی درست ہے ان سے عقیقہ کرنابھی درست ہے۔عقیقہ اورقربانی کے لیے جانوراوران کی عمریں مندرجہ ذیل ہیں:

۱۔بکرا وغیرہ چھوٹاجانور ایک سال کی عمرکاہو۲۔گائے ،بیل بھیس وغیرہ دوسال کی۳۔اونٹ پانچ سال کاہوناضروری ہے،اگرمذکورہ جانوروں کی عمریں متعینہ عمروں سے کم ہیں توقربانی اورعقیقہ درست نہیں۔البتہ اگربھیڑ اوردنبہ ایک سال سے کم اورچھ مہینے سے زائدکاہومگراتنافربہ ہوکہ ایک سال کامعلوم ہوتاہوتواس کی قربانی وعقیقہ درست ہے۔

 عقیقہ کا گوشت سارا خود بھی کھاسکتے ہیں اور گھر والوں کو بھی کھلاسکتے ہیں اور دوسروں کو ہدیہ بھی دے سکتے ہیں، البتہ  مستحب یہ ہے کہ  قربانی کے گوشت کی طرح اس کے بھی تین حصے کیے جائیں،  ایک حصہ اپنے لیے رکھا جائے اور ایک حصہ عزیز و اقارب میں تقسیم کیا جائے اور ایک حصہ فقراء میں تقسیم کرنا مستحب ہے،اور اس گوشت سے دعوت کرنا بھی جائز ہے اور ایسی دعوت میں شریک ہونا بھی جائز ہے۔

 مصنف ابن أبی شیبہ میں ہے:

"عن محمد [ابن سیرین] قال : و أعلم أنه لم یعقّ عني لعققتُ عن نفسي."

 ( کتاب العقیقة، ج12،ص319، حدیث :24718 ،ط : المجلس العلمي أفریقا)

إعلاء السنن  میں ہے :

"عن الحسن البصري :إذا لم یعق عنك فعقّ عن نفسك، وإن کنت رجلاً ."

( باب أفضلیة ذبح الشاة في العقیقة،ج17،ص134،ط: بیروت)

اعلاء السنن میں ہے:

"یصنع بالعقیقة مایصنع بالأضحیة ... وفي قوله: "یأکل أهل العقیقة ویهدونها" دلیل علی بطلان ما اشتهر علی الألسن: أن أصول المولود لایأکلون منها؛ فإن أهل العقیقة هم الأبوان أولًا ثم سائر أهل البیت."

(إعلاء السنن، باب أفضلية ذبح الشاة في العقيقة، قبیل باب ما یقول الذابح عند الذبح،ج17،ص127، ط: إدارة القرآن، كراتشي)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703101598

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں