بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 20 جنوری 2021 ء

دارالافتاء

 

بچے کے عقیقے کا گوشت والد کے لیے کھانا جائز ہے


سوال

 کیا عقیقہ کا گوشت بچے کے والدین کھا سکتے ہیں؟

جواب

بچے کے عقیقے کا گوشت والدین کے لیے کھانا جائز ہے۔

نیز ملحوظ رہے کہ عقیقہ کے گوشت کی تقسیم میں مستحب ہے  کہ قربانی کے گوشت کی طرح اس کے تین حصے کیے جائیں، یعنی ایک حصہ اپنے لیے رکھنا اور ایک حصہ عزیز و اقارب میں تقسیم کرنا اور ایک حصہ فقراء میں تقسیم کرنا مستحب ہے، اور اس گوشت سے دعوت کرنا بھی جائز ہے اور ایسی دعوت میں شریک ہونا بھی جائز ہے۔ 

اعلاء السنن میں ہے:

"یصنع بالعقیقة مایصنع بالأضحیة ... وفي قوله: "یأکل أهل العقیقة ویهدونها" دلیل علی بطلان ما اشتهر علی الألسن: أن أصول المولود لایأکلون منها؛ فإن أهل العقیقة هم الأبوان أولًا ثم سائر أهل البیت".

(إعلاء السنن، باب أفضلية ذبح الشاة في العقيقة، قبیل باب ما یقول الذابح عند الذبح، (17/ 127) ط: إدارة القرآن، كراتشي، الطبعة الثالثة: 1415

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144203200709

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں