
میرا ایک دوست ہے وہ مجھے کہتا ہے کہ میں مختلف قسم کے کاروبار کرتا ہوں ، آپ مجھے دو لاکھ روپے دو، مہینے کے بعد دو لاکھ سے جتنی کمائی آئے گی اس میں سے پہلے ماہ دس ہزار دوں گا، جب کہ دوسرے ماہ دس ہزار پانچ سو دوں گا، اب سوال یہ ہے کہ میرے دو لاکھ سے جو منافع حاصل ہوتا ہے اس میں سے مجھے دس ہزار یا دس ہزار پانچ سو مل جائیں اور باقی کاروبار کرنے والے کو کیا یہ جائز ہے ؟یاد رہے دوست نے مجھے بتایا ہے کہ آپ کے دو لاکھ سے میں کم از کم 26 سے 27 ہزار کمالیتا ہو ،اگر یہ جائز نہیں تو کون سا طریقہ ہے جس کے ذریعے ہم یہ کام چلائیں اور حلال منافع مجھے ملیں۔ جزاک اللہ۔
صورتِ مسئولہ میں آپ کا اپنے دوست کو دو لاکھ روپے دے کر دس ہزار یا دس ہزار پانچ سو روپے منافع مقرر کرنا جائز نہیں ہے، اس کی صحیح صورت یہ ہے کہ دونوں کے درمیان معاملہ اس طرح طے ہو کہ مہینے یا دو مہینے میں جتنے منافع ہوں گے اسے دونوں کے درمیان فیصدی اعتبار سے متعین کرلیا جائے مثلاً یہ طے کر لیا جائے کہ جتنا نفع ہوگااس کا 30 فیصد آپ کو اور 70 فیصد آپ کے دوست کو ملے گا، پھر جو منافع ہوں تو اسے معاہدے کے مطابق فیصدی اعتبار سے تقسیم کرلیا جائے، ایسی صورت میں معاملہ جائز ہوگا۔
بدائع الصنائع میں ہے:
" (ومنها) : أن يكون الربح جزءًا شائعًا في الجملة، لا معينًا، فإن عينا عشرةً، أو مائةً، أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدةً؛ لأن العقد يقتضي تحقق الشركة في الربح والتعيين يقطع الشركة لجواز أن لايحصل من الربح إلا القدر المعين لأحدهما، فلايتحقق الشركة في الربح . "
( کتاب الشرکة، فصل في بيان شرائط جواز أنواع الشركة، ج: 6، ص:59، ط: دارالکتب العلمیة)
فتاوی ہندیہ میں ہے :
"أما تفسيرها شرعا فهي عبارة عن عقد على الشركة في الربح بمال من أحد الجانبين والعمل من الجانب الآخر۔۔۔۔۔(ومنها) أن يكون نصيب المضارب من الربح معلوما على وجه لا تنقطع به الشركة في الربح كذا في المحيط. فإن قال على أن لك من الربح مائة درهم أو شرط مع النصف أو الثلث عشرة دراهم لا تصح المضاربة كذا في محيط السرخسي."
(کتاب المضاربة، الباب الأول فی تفسیر المضاربة، ج:4، ص:287، رشيدية)
در مختار میں ہے :
" (وكون الربح بينهما شائعا) فلو عين قدرا فسدت . "
(کتاب المضاربة، ج:5، ص:648، ط: سعید)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144707101183
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن