
موجودہ بینکاری نظام میں "مضاربہ اکاؤنٹ" کے تحت صارفین اپنی رقم بینک میں جمع کراتے ہیں، بینک اس رقم کو مختلف کاروباری سرگرمیوں میں استعمال کرتا ہے اور منافع طے شدہ شرح منافع کے مطابق تقسیم کرتا ہے۔ اس نظام میں درج ذیل امور پائے جاتے ہیں:
1. بینک مضاربہ کی مینجمنٹ پر فیس بھی وصول کرتا ہے، حالانکہ شرعی مضاربہ میں مضارب کو صرف منافع میں شراکت کا حق ہوتا ہے، فیس یا اجرت لینے کی اجازت نہیں۔
2. اصل سرمایہ معلوم اور متعین نہیں ہوتا کیونکہ نئے سرمایہ کار کسی بھی وقت شامل ہوتے رہتے ہیں جس سے سرمایہ کی مقدار مسلسل تبدیل ہوتی رہتی ہے۔
3. منافع کی تقسیم حقیقی منافع کی بنیاد پر نہیں بلکہ \"پری ڈیٹرمنڈ (Pre-Determined)\" منافع کی شرح پر کی جاتی ہے، جس کے باعث ہر سرمایہ کار کو اس کے اصل سرمایہ کی بنیاد پر حقیقی نفع یا نقصان نہیں ملتا۔
4. نقصان کی صورت میں بینک اکثر نقصان کا کوئی حصہ برداشت نہیں کرتا، بلکہ صرف صارفین پر ڈالا جاتا ہے، حالانکہ شریعت میں مضارِب (بینک) کا بھی انتظامی کوتاہی کی صورت میں ضامن ہونا ضروری ہے۔ پس سوال یہ ہے کہ:
کیا مذکورہ بالا طریقہ کار شرعی اصولِ مضاربہ کے مطابق ہے؟ کیا اس صورت میں بینک کے ساتھ سرمایہ کاری کرنا جائز ہے؟ اگر ناجائز یا مشتبہ ہو تو برائے کرم شرعی دلائل کے ساتھ رہنمائی فرمائیں۔
مذکورہ تفصیل کے مطابق مذکورہ بینک کا یہ طریقہ کار مضاربت کے شرعی اصول کے مطابق نہیں ہے،لہٰذا اس صورت میں بینک کے ساتھ سرمایہ کاری کرنا جائز نہیں ہے۔
مضاربت کے لیےدرج ذیل شرائط کی پاسداری لازم ہوتی ہے۔
(1)عقدِ مضاربت کے لیے سرمایہ کار میں وکیل بنانے اور مضارب میں وکیل بننے کی اہلیت کا ہوناضروری ہے یعنی دونوں کا عاقل بالغ ہونا ضروری ہے۔
(2) مضاربت میں سرمایہ کا نقدی ہونا ضروری ہے، اگر سرمایہ سامان، قرض یا جامد اثاثوں کی شکل میں ہو، تو مضاربت صحیح نہیں ہوگی۔
(3) عقدِ مضاربت کے وقت سرمایہ کا اس طور پر معلوم ہونا ضروری ہے کہ بعد میں کسی قسم کا کوئی جھگڑا پیدا نہ ہو، یعنی رب المال مضارب کو سرمایہ پر قبضہ کرادے یا اس کی طرف اشارہ کردے۔
(4) عقدِ مضاربت میں سرمایہ مکمل طور پر مضارب کے حوالہ کرنا ضروری ہے، یعنی اس طور پر کہ پھر اس سرمایہ میں رب المال کا کسی قسم کا کوئی عمل دخل نہ رہے، اسی طرح رب المال کوئی کام بھی نہیں کرے گا، بلکہ کام صرف مضارب ہی کرے گا، اگر رب المال پر بھی کام کی شرط لگائی گئی تو مضاربت فاسدہو جائے گی۔
(5) عقدِ مضاربت میں منافع کی تقسیم حقیقی نفع کے تناسب سے طے کی جانی ضروری ہے، اگر کسی ایک کے لیے معین رقم یا سرمایہ کے تناسب سے پہلے سے نفع طے کرلیا (یعنی کل سرمایہ کا اتنا فیصد ملے گا) تو مضاربت جائز نہیں ہوگی۔
(6)عقدِ مضاربت کے وقت سرمایہ کار اور مضارب میں سے ہر ایک کے لیے نفع کاحصہ متعین کرنا ضروری ہے۔
(7) مضارب کو صرف حاصل شدہ نفع میں سے ہی حصہ ملے گا، اصل سرمایہ میں سے کچھ بھی نہیں لے سکتا،اوراگر مضارب کے لیے اصل سرمایہ میں سے کچھ مشروط کیا گیا تو مضاربت فاسد ہو جائے گی۔
(8) اگر نقصان ہوگیا تواس کو پہلے حاصل شدہ نفع سے پورا کیا جائے گا، اگر نقصان اس سے بڑھ گیا تو وہ رب المال کے ذمہ ہوگا اور اصل سرمایہ سے پورا کیا جائے گا، مضارب کو نقصان کا ذمہ دار ٹھہرانا جائز نہیں، بلکہ نقصان کی صورت میں سرمایہ کار نقصان برداشت کرے گا اور مضارب کی محنت رائیگاں جائے گی، مضارب امین کی حیثیت سے کام کرے گا،البتہ اگر اس نقصان میں مضارب(محنت کنندہ) کا دخل ہو،یعنی مضارب کی غفلت اور تعدی کی وجہ سے نقصان ہوا ہو تو اس نقصان کی ذمہ داری مضارب پر عائد ہوگی۔
(9)مضاربت میں سرمایہ اور کاروبار حلال ہو، معاملہ میں کوئی شرطِ فاسد نہ ہو۔
الدرالحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:
شروط المضاربة ثمانية:
1 - يشترط أهلية رب المال للتوكيل وأهلية المضارب للوكالة. وقد ذكر هذا الشرط في المادة (1408) 2 - أن يكون رأس المال من الأثمان. وهذا الشرط مذكور في المادة (1409) 3 - أن يكون رأس المال معلوما عند العاقدين. وهذا الشرط مذكور في المادة (1411) 4 - أن يكون رأس المال عينا. وهذا الشرط مذكور في المادة (1409) 5 - تسليم رأس المال للمضارب؛ لأن العمل مطلوب من المضارب فإذا لم يسلم إليه رأس المال على وجه الكمال فلا يتمكن المضارب من العمل في رأس المال، فلذلك إذا شرط حفظ رأس المال كل ليلة عند المالك تفسد المضاربة، كما أنه إذا شرط عمل رب المال أثناء عقد المضاربة تفسد أيضا (الطحطاوي) وهذا الشرط قد ذكر في المادة (1410) 6 - أن يكون الربح شائعا. وهذا الشرط مذكور في المادة (1411) 7 - أن تكون حصة المضارب وحصة رب المال من الربح معلومة عند العقد. وهذا الشرط مذكور في المادة (1411) 8 - أن تكون الحصة التي تعطى للمضارب من الربح، فلذلك إذا شرط إعطاء هذه الحصة من رأس المال فقط أو شرط إعطاء مقدار منها من رأس المال ومقدار منها من الربح تفسد المضاربة (الطحطاوي والدر المنتقى)
(الكتاب العاشر الشركات، الباب السابع في حق المضاربة ، الفصل الثاني في بيان شروط المضاربة، ج:3، ص:430، ط:دار الجیل)
وفیہ ایضاً:
"المادة (1427) - (إذا تلف مقدار من مال المضاربة فيحسب في بادئ الأمر من الربح ولا يسري إلى رأس المال، وإذا تجاوز مقدار الربح وسرى إلى رأس المال فلا يضمنه المضارب سواء كانت المضاربة صحيحة أو فاسدة) . إذا تلف مقدار من مال المضاربة بلا تعد فيحسب في بادئ الأمر من الربح ولا يسري إلى رأس المال؛ لأن الربح تابع ورأس المال أصل فينصرف الهالك إلى التابع (مجمع الأنهر)"
(الكتاب العاشر الشركات، الباب السابع في حق المضاربة ، الفصل الثاني في بيان شروط المضاربة، ج:3، ص:458، ط:دار الجیل)
الدرالمختار میں ہے:
"(وما هلك من مال المضاربة يصرف إلى الربح) ؛ لأنه تبع (فإن زاد الهالك على الربح لم يضمن) ولو فاسدة من عمله؛ لأنه أمين."
( كتاب المضاربة، فصل في المتفرقات في المضاربة، ج:5، ص:656، ط: سعيد)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"(وأما الشروط) الفاسدة فمنها ما تبطل المضاربة ومنها ما لا تبطلها بنفسها إذا قال رب المال للمضارب لك ثلث الربح وعشرة دراهم في كل شهر عملت فيه للمضاربة فالمضاربة جائزة والشرط باطل كذا في النهاية. فإن عمل على هذا الشرط فربح فالربح على ما اشترطا ولا أجر للمضارب في ذلك.
(كتاب المضاربة، الباب الأول في تفسير المضاربة وركنها وشرائطها وحكمها، ج:4، ص:287، ط:دار الفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705100287
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن