بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

Nexxen نامی کمپنی میں رجسٹرڈ ہوکر کمائی کا حکم


سوال

 میں ایک آن لائن کمپنی میں کام کرنا چاہتا ہوں،کمپنی کا نام ہے (Nexxen) نیکسین، یہ ایک سافٹ ویئر ہے، جس کے اندر اور بھی ایپس ڈاؤن لوڈ کرنی پڑتی ہیں،اگر میں اس کمپنی میں کام کرنا چاہوں تو مجھے 4500 ٹکا دے کر جوائن کرنا ہوگا، یہ 4500 ٹکا کمپنی نہیں لے گی، بلکہ میرے اپنے اکاؤنٹ میں رہے گا اور میرا کمپنی کے ساتھ ایک سال کا معاہدہ ہوگا،یعنی میں ایک سال تک کام کر سکوں گا، اور ایک سال مکمل ہونے کے بعد کمپنی میرا 4500 ٹکا واپس کر دے گی، اس کے بعد اگر میں چاہوں تو دوبارہ یہ 4500 ٹکا دے کر ایک سال کے لیے نیا معاہدہ کر سکوں گا،کمپنی کا کام یہ ہے کہ سافٹ ویئر ڈاؤن لوڈ کرنا، مجھے روزانہ 10 سافٹ ویئر دیے جائیں گے جنہیں مجھے ڈاؤن لوڈ کرنا ہوگا، ہر سافٹ ویئر ڈاؤن لوڈ کرنے پر 15 ٹکا ملے گا۔ یعنی اگر میں روزانہ 10سافٹ ویئر ڈاؤن لوڈ کروں گا تو 150 ٹکا کماؤں گا۔ جتنے سافٹ ویئر ڈاؤن لوڈ کروں گا، ہر ایک پر 15 ٹکا ملے گا، نہ کم ہوگا نہ زیادہ اور اگر کسی دن کام نہ کروں تو اس دن کی اجرت بھی نہیں ملے گی، یعنی کام کرو تو پیسے ملیں گے، نہ کرو تو نہیں ملیں گے۔ مزید یہ کہ اگر میں کسی کو اس کمپنی میں جوائن کروا دوں تو کمپنی کی طرف سے مجھے 1000 ٹکا انعام دیا جائے گا اور جو نیا ممبر جوائن کرے گا، اسے 140 ٹکا دیا جائے گا، پھر اگر وہ ممبر روزانہ 10 سافٹ ویئر ڈاؤن لوڈ کرنے کا کام مکمل کرے گا تو کمپنی کی طرف سے مجھے 7 ٹکا دیا جائے گا۔

نوٹ: یہ جو سافٹ ویئر ڈاؤن لوڈ کیے جاتے ہیں، وہ استعمال نہیں کیے جا سکتے بلکہ صرف نیکسین ایپ میں ہی رہتے ہیں، انہیں ڈاؤن لوڈ کرنے کے بعد سکرین شاٹ لے کر کمپنی کے واٹس ایپ گروپ میں بھیجنا پڑتا ہے، کمپنی جو پیسے دے گی، وہ اگر بکاش / نقد کے ذریعے ٹرانسفر کیے جائیں تو ہر 1000ٹکا پر 100 ٹکا ٹیکس کاٹا جائے گا۔

اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا میرے لیے اس کمپنی کو جوائن کرنا شریعت کے مطابق ہوگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ کمپنی سے کمانے میں درج ذیل شرعی خرابیاں پائی جاتی ہیں، جن کی وجہ سے اس میں رجسٹر ہو کر کمانا جائز نہیں ہو گا:

1۔ سافٹ ویئر صرف ڈاؤن لوڈ کرنا ایک بے مقصد اور بے فائدہ عمل ہے؛ کیوں کہ سائل کے بیان کے مطابق یہاں سافٹ ویئر استعمال کے لیے نہیں ہوتے، بلکہ صرف ڈاؤن لوڈ کر کے اسکرین شاٹ بھیجا جاتا ہے، اور شریعت میں بے مقصد اور بے فائدہ عمل پر اجارہ درست نہیں۔

2۔ اگر ان سافٹ ویئرز میں جاندار کی تصاویر یا خواتین کی تصاویر بھی ہوں تو یہ اور زیادہ شدید گناہ ہو گا۔

3۔ عام طور پر اس نوعیت کی ایپس میں مقصد صرف تشہیر ہوتا ہے، تاکہ ناظرین کے اعداد و شمار بڑھ جائیں اور دیگر لوگوں کو راغب کیا جائے۔ کمپنی یا ایپ کے مالکان پیسے دے کر جعلی تشہیر کرواتے ہیں، جو دھوکے پر مبنی ہے۔

لہٰذا اس طرح کی ایپ میں رجسٹر ہو کر کمانا جائز نہیں۔

مسند امام احمد میں ہے :

"عن أبي أمامة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يطبع المؤمن على الخلال كلها إلا الخيانة والكذب." 

(‌‌تتمة مسند الأنصار،حديث أبي أمامة الباهلي، ج: 36، صفحہ: 504، رقم الحدیث: 22170، ط:  مؤسسة الرسالة)

 

”حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہےکہ اللہ کےرسول ﷺ نےفرمایا:مومن ہر خصلت  پر ڈھل سکتا ہے سوائے خیانت اور جھوٹ کے۔“

بدائع الصنائع میں ہے:

"ومنها أن تكون المنفعة مقصودة يعتاد استيفاؤها بعقد الإجارة ويجري بها التعامل بين الناس؛ لأنه عقد شرع بخلاف القياس لحاجة الناس ولا حاجة فيما لا تعامل فيه للناس فلا يجوز استئجار الأشجار لتجفيف الثياب عليها والاستظلال بها؛ لأن هذه منفعة غير مقصودة من الشجر ولو اشترى ثمرة شجرة ثم استأجر الشجرة لتبقية ذلك فيه لم يجز؛ لأنه لا يقصد من الشجر هذا النوع من المنفعة وهو تبقية الثمر عليها فلم تكن منفعة مقصودة عادة وكذا لو استأجر الأرض التي فيها ذلك الشجر يصير مستأجرا باستئجار الأرض، ولا يجوز استئجار الشجر وقال أبو يوسف: إذا استأجر ثيابا ليبسطها ببيت ليزين بها ولا يجلس عليها فالإجارة فاسدة؛ لأن بسط الثياب من غير استعمال ليس منفعة مقصودة عادة وقال عمرو عن محمد في رجل استأجر دابة ليجنبها يتزين بها: فلا أجر عليه؛ لأن قود الدابة للتزين ليس بمنفعة مقصودة ولا يجوز استئجار الدراهم والدنانير ليزين الحانوت، ولا استئجار المسك، والعود وغيرهما من المشمومات للشم؛ لأنه ليس بمنفعة مقصودة ألا ترى أنه لا يعتاد استيفاؤها بعقد الإجارة والله عز وجل الموفق."

)كتاب الإجارة، فصل في أنواع شرائط ركن الإجارة، ج:4، ص:192، ط: دار الكتب العلمية)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(قوله مقصود من العين) أي في الشرع ونظر العقلاء، بخلاف ما سيذكره فإنه وإن كان مقصودا للمستأجر لكنه لا نفع فيه وليس من المقاصد الشرعية."

)كتاب الإجارة، ج:6، ص:4، ط: سعید)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وعلى هذا يخرج ‌الاستئجار ‌على ‌المعاصي أنه لا يصح لأنه استئجار على منفعة غير مقدورة الاستيفاء شرعا كاستئجار الإنسان للعب واللهو، وكاستئجار المغنية، والنائحة للغناء، والنوح."

)كتاب الإجارة، فصل في أنواع شرائط ركن الإجارة، ج:4، ص:189، ط: دار الكتب العلمية)

الموسوعة الفقهية الكويتية ميں هے:

"الإجارة على المنافع المحرمة كالزنى والنوح والغناء والملاهي محرمة، وعقدها باطل لايستحق به أجرة."

(إجارة،‌‌ الفصل السابع،‌‌ الفرع الثالث،‌‌ الإجارة على المعاصي والطاعات، ج: 1، ص290،ط:وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144704100051

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں