
میری صرف بیٹیاں ہیں،بیٹا کوئی نہیں،اور میری اہلیہ بھی حیات ہے ،میں اپنی زندگی میں اپنی جائیداد ان کے درمیان تقسیم کرنا چاہتا ہوں،اور کچھ حصہ اپنے لیے بھی رکھنا چاہتا ہوں۔
میں اپنی جائیداد ان کے درمیان کیسے تقسیم کروں ؟میرے مرنے کے بعد جو حصہ میں اپنے لیے رکھوں گا اس کا کیا حکم ہوگا؟
اپنی خوشی سے زندگی میں تقسیم کی جانے والی جائیداد ہبہ (گفٹ) کہلاتی ہے، نیز ہبہ (گفٹ) کا حکم یہ ہے کہ اس میں تمام اولاد (بیٹے اور بیٹیوں) میں برابری کی جائے۔ البتہ اولاد میں سے کسی کو فرمانبرداری، دین داری یا محتاجگی کی وجہ سے کچھ زائد حصہ بھی دیا جاسکتا ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل اپنی زندگی میں اپنی بیٹیوں کے درمیان جائیداد کی تقسیم کرنا چاہتا ہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ اپنے لیے اس قدر رکھ لے جس سے بقیہ زندگی بغیر محتاجگی کے گزار سکے، بہتر یہ ہے کہ بیوی کو آٹھواں حصہ دے، اس کے بعد بقیہ جائیداد بیٹیوں میں برابری کے ساتھ تقسیم کردے اور ہر ایک کو اپنا حصہ مکمل قبضہ اور تصرف کے ساتھ دے دے،کسی شرعی وجہ کے بغیر اولاد کے درمیان ہبہ (گفٹ) میں کمی بیشی کرنا جائز نہیں، لیکن اگر کسی کی خدمت،اطاعت، دین داری یا محتاجگی کی وجہ سے اسے اوروں کی بہ نسبت زیادہ دے تو اس کی گنجائش ہے،۔ البتہ اگر سائل کے بھائی بہن بھی زندہ ہیں تو ان کو بھی اپنی جائیداد میں سے کچھ حصہ دے دے، ان کو بالکل محروم نہ کرے۔
نیز سائل اپنی جائیداد میں سے جو حصہ اپنے لیے رکھے گا وہ سائل کے مرنے کے بعد سائل کے شرعی ورثاء میں شرعی تناسب سے تقسیم ہوگا۔
فتاوی عالم گیری میں ہے:
"ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا، وروي عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين، وإن كانا سواء يكره."
(كتاب الهبة، ج:4، ص:391، ط:رشیدیة)
فتاوی شامی میں ہے:
(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل"
(کتاب الھبۃ،ج:5،ص:690،ط:سعید)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144701101734
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن