بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1448ھ 01 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

اپنی زندگی میں اولاد کےدرمیان مال واسباب تقسیم کرنے کاحکم


سوال

 میری والدہ کو نانا جان کی وراثت کا حصہ کیش روپیوں کی صورت میں ملا ہے، سوال یہ ہے کہ ان روپیوں کی تقسیم کا شرعی حکم ہم بہن بھائیوں کے لئے کیا ہے؟ جبکہ والدہ حیات ہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں والدہ کو وراثت کے طور پر جوکیش رقم ملی ہے،وہ صرف والدہ کی ملکیت ہے،والدہ ہی کو یہ اختیارہے کہ وہ اس رقم کو جہاں اورجس شے میں چاہے خرچ کرے،بیٹے اوربیٹیوں کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ والدہ کی اجازت کے بغیر  اس رقم میں کسی قسم کا کوئی تصرف کریں،البتہ  اگر والدہ  کی خواہش ہے،اوروہ یہ چاہ رہی ہیں کہ ان کی زندگی میں یہ رقم بیٹے ،بیٹیاں آپس میں تقسیم کرلیں، تواس صورت میں شریعت کے مطابق تمام اولاد آپس میں برابری کی بنیاد یہ رقم تقسیم کرلیں،یعنی جتنا حصہ بیٹا لے گا،اتنا ہی حصہ بیٹی کو بھی ملے گا، اولاد میں سے کسی ایک کو محروم کرنا یا کم حصہ دینا شرعاََجائز نہیں ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته إلا في مسائل مذكورة في الأشباه."

(کتاب الغصب ،ج:9،ص:234،ط:رشیدیة)

وفيه ايضاً:

"أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه صلى الله عليه وسلم قال سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرا أحدا لآثرت النساء على الرجال رواه سعيد في سننه وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير "اتقوا الله واعدلوا في أولادكم "فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية ولو وهب شيئا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى وقال محمد: ويعطي للذكر ضعف الأنثى، وفي التتارخانية معزيا إلى تتمة الفتاوى قال: ذكر في الاستحسان في كتاب الوقف، وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في العطايا والعدل في ذلك التسوية بينهم في قول أبي يوسف وقد أخذ أبو يوسف حكم وجوب التسوية من الحديث، وتبعه أعيان المجتهدين، وأوجبوا التسوية بينهم وقالوا يكون آثما في التخصيص وفي التفضيل، وليس عند المحققين من أهل المذهب فريضة شرعية في باب الوقف إلا هذه بموجب الحديث المذكور، والظاهر من حال المسلم اجتناب المكروه."

(كتاب الوقف، مطلب في المصادقة على النظر، ج:4، ص:444، ط:سعید)

فقط وللہ اعلم

 


فتویٰ نمبر : 144801100890

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں