بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اپنی ضرورت سے زائد مال کو خرچ کرنے کا حکم


سوال

 ایسی عبارت کتب حدیث یا فقہ وغیرہ میں ہے جس میں یہ بات ہو کہ (صدقہ ضرورت سے زائد مال میں سے دیا کرے) اگر کوئی ایسی عبارت کتابوں میں مذکور ہو تو اس کا صحیح مطلب کیا ہوگا؟ اور صدقے سے کون سا صدقہ مراد ہے؟

جواب

صدقے سے مراد نفلی صدقہ ہے اور اور یہ جتنا میسر  اور سہولت ہو تو دینا چاہیے۔

جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ تبارک وتعالی  کا ارشاد ہے :

﴿وَيَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ ﴾ [البقرة: 219]          

ترجمہ:"اور لوگ آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ (خیرخیرات میں) کتنا خرچ کیا کریں آپ فرمادیجیے کہ جتنا آسان ہو الله تعالیٰ اسی طرح احکام کو صاف صاف بیان فرماتے ہیں تاکہ تم دنیا و آخرت کے معاملات میں سوچ لیا کرو "(بیان القرآن )

اس آیت کا مفہوم مفسرین نے یہ بیان کیا ،کہ انسان کے پاس جو اپنے اور اہل عیال کی ضرورت سے زائد رقم اس کو خرچ کرے ،اتنا صدقہ نہ کرے کہ خود اس کے پاس پھر کچھ بھی نہ بچے،یعنی خرچ کرنے میں اپنے آپ کو مشقت میں نہ ڈالے بلکہ جتنابھی دل کی خوشی سے دینا چاہئے، وہ صدقہ کردے ۔

تفسیر قرطبی میں ہے :

"قال العلماء: لما كان السؤال في الآية المتقدمة في قوله تعالى:" ويسئلونك ماذا ينفقون" سؤالا عن النفقة إلى من تصرف، كما بيناه ودل عليه الجواب، والجواب خرج على وفق السؤال، كان السؤال الثاني في هذه الآية عن قدر الإنفاق، وهو في شأن عمرو بن الجموح- كما تقدم- فإنه لما نزل" قل ما أنفقتم من خير فللوالدين" قال: كم أنفق؟ فنزل" قل العفو" والعفو: ما سهل وتيسر وفضل، ولم يشق على القلب إخراجه، ومنه قول الشاعر:

خذي العفو مني تستديمي مودتي … ولا تنطقي في سورتي حين أغضب

فالمعنى: أنفقوا ما فضل عن حوائجكم، ولم تؤذوا فيه أنفسكم فتكونوا عالة، هذا أولى ما قيل في تأويل الآية، وهو معنى قول الحسن وقتادة وعطاء والسدي والقرظي محمد بن كعب وابن أبي ليلى وغيرهم، قالوا: العفو ما فضل عن العيال، ونحوه عن ابن عباس. وقال مجاهد: صدقة عن ظهر «1» غنى، وكذا قال عليه السلام:" خير الصدقة ما أنفقت عن غنى" وفى حديث آخر:" خير الصدقة ما كان عن ظهر غنى". وقال قيس بن سعد: هذه الزكاة المفروضة. وقال جمهور العلماء: بل هي نفقات التطوع. وقيل: هي منسوخة. وقال الكلبي: كان الرجل بعد نزول هذه الآية إذا كان له مال من ذهب أو فضة أو زرع أو ضرع نظر إلى ما يكفيه وعياله لنفقة سنة أمسكه وتصدق بسائره، وإن كان ممن يعمل بيده أمسك ما يكفيه وعياله يوما وتصدق بالباقي، حتى نزلت آية الزكاة المفروضة فنسخت هذه الآية وكل صدقة أمروا بها. وقال قوم: هي محكمة، وفي المال حق سوى الزكاة. والظاهر يدل على القول الأول."

 (سورة البقرة (2): آية 219،ج:3، ص:62،ط:دار الكتب المصرية ، القاهرة)

تفسیر بیضاوی میں :

"ويسئلونك ماذا ينفقون قيل سائله أيضا عمرو بن الجموح سأل أولا عن المنفق والمصرف، ثم سأل عن كيفية الإنفاق. قل العفو العفو نقيض الجهد ومنه يقال للأرض السهلة، وهو أن ينفق ما تيسر له بذله ولا يبلغ منه الجهد.قال:

خذي العفو مني تستديمي مودتي … ولا تنطقي في سورتي حين اغضب

وروي أن رجلا أتى النبي صلى الله عليه وسلم ببيضة من ذهب أصابها في بعض المغانم فقال: خذها مني صدقة، فأعرض عليه الصلاة والسلام عنه حتى كرر عليه مرارا فقال: هاتها مغضبا فأخذها فحذفها حذفا لو أصابه لشجه ثم قال: «يأتي أحدكم بماله كله يتصدق به ويجلس يتكفف الناس، إنما الصدقة عن ظهر غنى»"

 (سورة البقرة (2) : آية 219،ج:1،ص: 138،ط:دار إحياء التراث العربي ،بيروت)

معارف القرآن میں ہے :

"اور لوگ آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ (خیر خیرات میں ) کتنا خرچ کیا کریں آپ فرما دیجئے کہ جتنا آسان ہو (کہ اس کے خرچ کرنے سے خود پریشان ہوکر دنیوی تکلیف میں یا کسی کا حق ضائع کرکے اخروی تکلیف میں نہ پڑجائیں ) اللہ تعالیٰ اس طرح احکام کو صاف صاف بیان فرماتے ہیں تاکہ تم (کو ان کو علم ہوجائے اور اس علم کی وجہ سے ہر عمل کرنے سے پہلے) دنیا وآخرت کے معاملات میں (ان احکام کو) سوچ لیا کرو (اور سوچ کر ہر معاملہ میں ان احکام کے موافق عمل کیا کرو)۔"

(ج:1،ص:538،ط:مکتبہ معارف القرآن )

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144705100326

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں