بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

لوگوں کے طعنوں کی وجہ سے والد کی خدمت نہ کرنا


سوال

میرے والد محترم عبدالشکور صاحب سرکاری ٹیچر تھے،پہلی اہلیہ (میری والدہ) کے انتقال کے بعد انہوں نے دوسری شادی کی، جن سے دو بیٹے ہیں، ریٹائرمنٹ کے بعد وہ زیادہ تر انہی بیٹوں اور ان کی والدہ کے ساتھ رہتے ہیں اور انہی پر توجہ رکھتے ہیں،میں اور میرے بھائی جب والد صاحب سے ملنے جاتے ہیں تو ہمارے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ہم صرف پنشن کی لالچ میں آتے ہیں، اس وجہ سے میں خدمت کے لیے اکثر نہیں جاتا۔

1۔کیا اس صورت میں والد صاحب کی خدمت نہ کرنے کی وجہ سے میں شرعی طور پر گناہ گار ہوں یا نہیں؟

2۔والد صاحب اپنی پوری پنشن صرف اپنے ذاتی استعمال، اپنی دوسری بیوی اور ان کے دو بیٹوں پر خرچ کرتے ہیں، جبکہ ہم دیگر حقیقی بیٹے اور بیٹیاں اس سے بالکل محروم ہیں، کیا اولاد میں اس فرق برتنے کی وجہ سے والد صاحب شرعاً گناہ گار ہیں یا نہیں؟

جواب

1۔واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ نے اولاد پر والدین کے حقوق لازم کیےہیں  اور جائز کام میں حسبِ استطاعت ان کی اطاعت  ضروری قرار دی ہے،   اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں جہاں اپنی بندگی کی دعوت دی ہے وہیں  والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم بھی  فرمایا ہے اور اپنے شکر کے ساتھ والدین کا شکر بھی ادا کرنے کا  حکم دیاہے، چناں چہ ارشادِ باری تعالی ہے:

"وَإِذْ قالَ لُقْمَاْنُ لِابْنِهِ وَهُوَ يَعِظُهُ یبُنَيَّ لاتُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ، وَوَصَّيْنَا الْإِنْسانَ بِوالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْناً عَلى وَهْنٍ وَّفِصالُهُ فِي عامَيْنِ أَنِ اشْكُرْلِي وَ لِوالِدَيْكَ  إِلَيَّ الْمَصِيرُ." (سورة: لقمان، الأية:23،24)

’’ترجمہ:اور جب کہا لقمان نے اپنے بیٹے کو جب اس کو سمجھانے لگا اے بیٹے شریک نہ ٹھہرائیو اللہ کا بے شک شریک بنانا بھاری بےانصافی ہے، اور ہم نے تاکید کر دی انسان کو اس کے ماں باپ کے واسطے پیٹ میں رکھا اس کو اس کی ماں نے تھک تھک کر اور دودھ چھڑانا ہے اس کا دو برس میں کہ حق مان میرا اور اپنے ماں باپ کا آخر مجھ ہی تک آنا ہے۔‘‘(بیان القرآن)

 خاص کر جب والدین بوڑھے ہوجائیں تو ایسی حالت میں بھی  شریعت نے والدین کو غصہ و ناراضگی میں  زبان سے ’’اف‘‘ تک  کا لفظ (کہ جس سے ان کو تکلیف ہو) کہنے سے منع کیا ہے یعنی والدین کو ایذا دینا تو در کنار! انہیں خالی ایسا لفظ جس سے انہیں تکلیف ہو زبان پر لانابھی منع ہے، چناں چہ قرآن کریم میں ہے:

"وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوٓاْ إِلَّآ إِيَّاهُ وَبِٱلۡوَٰلِدَيۡنِ إِحْسَانًاۚ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ ٱلْكِبَرَ أَحَدُهُمَآ أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَآ أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا  وَٱخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ ٱلذُّلِّ مِنَ ٱلرَّحمَةِ وَقُل رَّبِّ ٱرْحَمۡهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا."(سورة: الإسراء، الأية: 23،٢٤)

’’ترجمہ:اور حکم کر چکا تیرا رب کہ نہ پوجو اس کے سوائے اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو اگر پہنچ جائے تیرے سامنے بڑھاپے کو ایک ان میں سے یا دونوں تو نہ کہہ ان کو ہوں اور نہ جھڑک ان کو اور کہہ ان سے بات ادب کی، اور جھکا دے ان کے آگے کندھے عاجزی کر نیاز مندی سے اور کہہ اے رب ان پر رحم کر جیسا پالا انہوں نے مجھ کو چھوٹا سا۔‘‘(بیان القرآن)

نیز حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی احادیث  میں والدین سے اچھے سلوک اوراچھا معاملہ کرنے کاحکم فرمایا ہے اور ان کی نافرمانی سے روکا ہے اور جو اولاد  ماں یا باپ کی نافرمانی کرے  ان کے لیے سخت وعیدیں فرمائی ہیں، لہذا صورتِ مسئولہ میں والد کی خدمت اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا اولاد پر شرعاً لازم ہے، خواہ وہ دوسری بیوی اور بچوں کے ساتھ رہتے ہوں یا کسی ایک بیٹے کو زیادہ ترجیح دیتے ہوں، والد کے بارے میں یہ سوچ کر خدمت سے کنارہ کشی اختیار کرنا کہ لوگ یا والد یہ  سمجھیں گےکہ پنشن کی لالچ میں آئے ہیں ،یہ درست عذر نہیں ہے، اس لیے آپ پر لازم ہے کہ حسبِ استطاعت والد صاحب کی خدمت کرتے رہیں، ورنہ والدین کی نافرمانی اور خدمت میں کوتاہی کرنا سخت گناہ ہے، جس کی سزا دنیا اور آخرت دونوں میں ہے ،اگر  کسی نے اس طرح کی کوئی بات کہی بھی ہو تو اس  کا جواب اپنے عمل سے دیا جائے،والدین کی خدمت کی جائے اور پینشن پر کوئی پر کوئی بات نہ کی جائے۔

2۔والد صاحب کی پنشن اور جائیداد ان کی زندگی میں ان کی ذاتی ملک ہے،  دوم یہ کہ اولاد میں جو نا بالغ ہیں یا غیر شادی شدہ بیٹیاں ہیں ان کی کفالت والد کے ذمہ ہے، بالغ اور غیر مقدور بیٹے کی کفالت والد پ لازم نہیں ،لہٰذا اگر اپنے پینشن میں سے بیوی اور چھوٹے بچے کی کفالت پر خرچ کریں تو یہ کوئی غلط نہیں بلکہ والد کی ذمہ داری ہے، ہاں اگراس کے علاوہ اگر والداپنی جائیداداولاد میں تقسیم کریں تو شریعت نے اولاد میں سب کے درمیان برابری اور انصاف کا پہلو اختیار کرنے کا حکم دیا ہے ،اوررسول اللہ ﷺ نےبھی اولاد کے درمیان میں برابری کرنے کا حکم دیا ، جیساکہ نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہما کی  روایت میں ہے:

"وعن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاماً، فقال: «أكل ولدك نحلت مثله؟» قال: لا قال: «فأرجعه» . وفي رواية ...... قال: «فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم»".

(مشکاة المصابیح،باب العطایا،ج:1 ،ص:261، ، ط: قدیمی)

ترجمہ:حضرت نعمان ابن بشیر  رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ (ایک دن ) ان کے والد (حضرت بشیر رضی اللہ عنہ) انہیں رسول کریمﷺ کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے  اپنے اس بیٹے کو ایک غلام ہدیہ کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا آپ نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح ایک ایک غلام دیا ہے؟، انہوں نے کہا :  ”نہیں “، آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر (نعمان سے بھی ) اس غلام کو واپس لے لو۔ ایک اور روایت میں آتا ہے کہ ……  آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔(مظاہر حق، 3/193، باب العطایا، ط: دارالاشاعت)

البتہ  کسی بیٹے یا  بیٹی کو  کسی معقول شرعی وجہ کی بنا پر  دوسروں کی بہ نسبت   کچھ زیادہ  دینا چاہے تو دےسکتا ہے،  یعنی کسی کی دین داری یا یا زیادہ خدمت گزار ہونے کی بنا پر اس کو  دوسروں کی بہ نسبت کچھ زیادہ دے تو اس کی اجازت ہے، لیکن بعض کو دینا اور بعض کو محروم رکھنا یا بلا وجہ کم زیادہ دینا یہ شرعاً سخت گناہ ہے، اس سے بچنا لازم ہے۔

المستدرك على الصحيحين میں ہے:

" حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، ثنا هارون بن سليمان، ثنا عبد الرحمن بن مهدي، وأخبرنا أحمد بن جعفر، ثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرحمن، ثنا شعبة، عن يعلى بن عطاء، عن عبد الله بن عبد الله بن عمرو، رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «رضا الرب في رضا الوالد وسخط الرب في سخط الوالد» هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يخرجاه".

(كتاب البر والصلة، ج: 4، صفحہ: 168، رقم الحدیث: 7249، ط:  دار الكتب العلمية )

صحيح بخاری میں ہے:

"حدثنا حامد بن عمر، حدثنا أبو عوانة، عن حصين، عن عامر، قال: سمعت النعمان بن بشير رضي الله عنهما، وهو على المنبر يقول: أعطاني أبي عطية، فقالت عمرة بنت رواحة: لا أرضى حتى تشهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأتى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: إني أعطيت ابني من عمرة بنت رواحة عطية، فأمرتني أن أشهدك يا رسول الله، قال: «أعطيت سائر ولدك مثل هذا؟»، قال: لا، قال: «فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم»، قال: فرجع فرد عطيته."

(كتاب الهبة، ج:3، ص:157، ط:دار طوق النجاة)

فتاوی عالم گیری میں ہے:

"ولو ‌وهب ‌رجل ‌شيئا ‌لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا، وروي عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين، وإن كانا سواء يكره."

(كتاب الهبة، ج:4، ص:391، ط:دارالفكر)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144702101318

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں