بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 محرم 1448ھ 14 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

اپنی اولاد میں سے کسی ایک کو تحفہ دینا


سوال

میری اہلیہ تقریباً بیس سال سے کرائے کے گھر میں رہ رہی ہیں، ان کی والدہ چاہتی ہیں کہ میری اہلیہ کا اپنا گھر ہو جائے، اس لیے وہ اپنی زندگی میں میری اہلیہ کو ایک گھر یا گھر خریدنے کے لیے رقم بطور تحفہ/ہبہ دینا چاہتی ہیں، تاکہ وہ اس گھر میں رہائش اختیار کر سکیں،میری اہلیہ کی والدہ کے کل چار بچے ہیں: دو بیٹے اور دو بیٹیاں، جن میں سے ایک میری اہلیہ ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اگر والدہ اپنی زندگی میں صرف میری اہلیہ کو گھر یا گھر کی رقم بطورِ تحفہ دیں، تو کیا شرعاً ان کے لیے باقی بیٹی اور دونوں بیٹوں کو بھی اسی طرح گھر یا اتنی ہی رقم دینا ضروری ہے؟ یا والدہ اپنی زندگی میں کسی ایک اولاد کو ضرورت کی بنیاد پر ایسا تحفہ دے سکتی ہیں؟

براہِ کرم یہ بھی رہنمائی فرما دیں کہ اس طرح کا تحفہ شرعاً درست ہونے کے لیے کن شرائط کا خیال رکھنا ضروری ہے؟ مثلاً قبضہ، ملکیت کی منتقلی، باقی اولاد کی رضامندی وغیرہ۔

جواب

واضح رہے کہ ہر شخص اپنی زندگی میں اپنے مال و جائیداد کا مالک ہے، اور اس میں ہر جائز تصرف کا اختیار رکھتا ہے،  اولاد میں سے  کسی کو اعتراض کا کوئی حق حاصل نہیں ہوتا،البتہ کوئی شخص  زندگی میں اپنی جائیداد اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہے تو ان کے درمیان برابری ضروری ہے، بغیر کسی شرعی عذر کے کسی کو کم یا زیادہ دینے کی وجہ سے آدمی گناہ گار ہوتا ہے، تاہم اولاد میں سے کوئی اگر زیادہ دین دار، خدمت گزار یا پھر زیادہ حاجت مند ہو تو اس کو دوسروں کی بنسبت زیادہ دینے کی شرعاً اجازت ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کی ساس ضرورت کی وجہ سے  آپ کی اہلیہ کو گھر یا اس کی قیمت بطور تحفہ  دینا چاہتی ہیں تو اس کی گنجائش ہے، بشرط یہ کہ وہ دوسری اولاد کو بھی اس جیسا یا اس سے کم تحفہ دیں، آپ کی اہلیہ کو تحفہ دینا اور دوسروں کو بالکلیہ محروم کرنا شرعا درست نہیں۔

تحفہ کے درست ہونے کے لیے ضروری ہے کہ جو چیز تحفہ میں دی جائے، اس کا مکمل قبضہ  جس کو تحفہ  دیا جا رہا ہو اسے دے دیا جائے، کاغذات میں نام کرنا مستقبل میں قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے بہتر ہے، تاہم تحفہ مکمل ہونے کے لیے ضروری نہیں۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاماً، فقال: أكل ولدك نحلت مثله ؟قال: لا قال:فأرجعه و في رواية ...... قال: فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم."

(باب العطایا، ج:1، ص:261، ط: قدیمی)

ترجمہ:"حضرت نعمان بن بشیر  رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک دن ) ان کے والد (حضرت بشیر رضی اللہ عنہ) انہیں رسول کریمﷺ کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے  اپنے اس بیٹے کو ایک غلام ہدیہ کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا آپ نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح ایک ایک غلام دیا ہے؟، انہوں نے کہا :  ”نہیں “، آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر (نعمان سے بھی ) اس غلام کو واپس لے لو۔ ایک اور روایت میں آتا ہے کہ ……  آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔"

(مظاہر حق،باب العطایا ،ج:3، ص: 193، ط: داراالاشاعت) 

دررالحکام میں ہے:

"‌لأن ‌للإنسان ‌أن ‌يتصرف ‌في ‌ملكه الخاص كما يشاء وليس لأحد أن يمنعه عن ذلك ما لم ينشأ عن تصرفه ضرر بين لغيره."

(دررالحکام،الباب الرابع في بیان المسائل التي تتعلق بمدۃ الإجارۃ،ج:1،ص:559،ط: دارالجیل)

البحرالرائق میں ہے:

"‌يكره ‌تفضيل بعض الأولاد على البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له في الدين وإن وهب ماله كله الواحد جاز قضاء وهو آثم."

(كتاب الهبة،باب هبة الأب لطفله، ج:7، ص: 288، ط:دارالکتاب الإسلامی)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض وأن يكون الموهوب مقسوما إذا كان مما يحتمل القسمة."

(کتاب الھبة،ج:4،ص:374،ط:سعید)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

" ہر شخص اپنی زندگی میں اپنی مملوکہ جائیداد میں تصرف کا مختار ہے ، جس کو جس قدر مناسب سمجھے دےدے کسی کو اعتراض کاحق نہیں، البتہ اتناضرور ہے کہ کسی ہونے والے وارث کو طبعی رنج کی وجہ سے ضرر پہنچانا مقصود نہ ہو، اس لئے ایسی حالت میں مفتی بہ قول کے مطابق لڑکی کو بھی لڑکے کے برابر حصہ دیا جائے ، آٹھواں حصہ نکال کر موجودہ بیوی کو دیا جائے  ۔"

(کتاب الفرائض،ج:20،ص :148،ط :ادارہ الفاروق کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801102023

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں