
ایک آدمی دبئی میں ایک عربی کی مسجد میں مؤذن ہے،وہ ویزہ کینسل کرنا چاہتا ہے،تو دوسرے آدمی سے یہ بات کرتا ہے کہ آپ کو میں اپنی جگہ چھوڑ دوں گا کہ آپ میری جگہ پر مؤذن ہو جائیں،لیکن شرط یہ ہے کہ آپ مجھے 5000ھزار درھم دیں گے ،حالاں کہ ویزے کا بھی پکا پتہ نہیں ہے کہ عربی اس پیسے دینے والے کو ویزہ دےگا یا نہیں اور یہ بھی پیش نظر رہے کہ مؤذن اول نے بھی یہاں پر لگنے کےلئے کوئی رقم ادا نہیں کی ہے، اس کو عربی نے بالکل مفت میں ویزہ لگا کر دیا اور نہ عربی کو ان پیسوں کا پتہ ہوگا کہ مؤذن اول نے مؤذن ثانی سے رقم لی ہے ۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا اس مؤذن اول کے لیے یہ پیسےلینا جائز ہے اور کیا دوسرے آدمی کے لیے وہ پیسے دینا جائز ہے ؟
صورت مسئولہ میں اگر مؤذن صاحب اپنی نوکری چھوڑنا چاہتے ہیں اور اپنی جگہ پرکسی اور کو رکھناچاہتے ہیں تو انتظامیہ کی رضامندی سے ایسا کرسکتے ہیں البتہ اس کے بدلےان کا اس دوسرے شخص سے پانچ ہزار درہم کا مطالبہ کرنا شرعا ناجائز ہے ،نہ مؤذن اول کے لیے یہ رقم لینا جائز ہے اور نہ دوسرے شخص کے لیے اس جگہ کو حاصل کرنے کے لیے یہ رقم دینا جائز ہے ؛کیوں کہ اذان دینے کا حق شرعا قابل فروخت چیز نہیں ہے کہ اس کا عوض لیا جائے۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"والحقوق المفردة لا تحتمل التمليك، ولا يجوز الصلح عليه."
(کتاب الشرب،ج:6،ص: 190،ط:دارالكتب العلمية بيروت)
فتاوی شامی میں ہے:
"وأفتى في الخيرية أيضًا بأنه لو فرغ عن الوظيفة بمال فللمفروغ له الرجوع بالمال لأنه اعتياض عن حق مجرد وهو لايجوز صرحوا به قاطبةً، قال: ومن أفتى بخلافه فقد أفتى بخلاف المذهب لبنائه على اعتبار العرف الخاص وهو خلاف المذهب والمسألة شهيرة وقد وقع فيها للمتأخرين رسائل واتباع الجادة أولى والله أعلم."
(كتاب الوقف، مطلب للمفروغ له الرجوع بمال الفراغ، 4/ 383، ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101984
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن