بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اپنی میراث کی تقسیم کا زندگی میں سوال


سوال

میرے پاس پچانوے لاکھ روپے ہیں، میری ایک بیوی، دو بیٹے،اور دو بیٹیاں ہیں، میرے والدین کا انتقال ہو چکا ہے،تو میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ میرے مرنے کے بعد میرے بیوی بچوں کو کتنا کتنا حصہ ملے گا؟ 

جواب

واضح رہے کہ کسی کی موت کے وقت جو لوگ زندہ ہوں شرعاً وہی اس کے وارث کہلاتےہیں اور کس کی موت پہلے آئے گی، کس کی بعد میں؟  یہ صرف اللہ ہی کے علم میں ہے؛  لہذا کسی کی زندگی میں حتمی طور پر اس کی موت کے وقت موجود ورثاء اور ان میں تقسیمِ میراث کا نہیں بتایا جاسکتا۔

تکملۃ رد المحتار میں ہے :

"وشروطه ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة، أو تقديرا كالحمل والعلم بجهل إرثه."

(کتاب الفرائض، ج : 7، ص : 349، ط : دار الفکر بیروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701100451

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں